زوہران مامدانی، کوئنز سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ، جو حالیہ نیویارک سٹی کے میئرل انتخاب میں غیر متوقع کامیابی کے بعد امریکا کے سیاسی منظرنامے پر سب سے زیادہ زیر بحث شخصیت بن چکے ہیں۔ ان کا پس منظر جتنا منفرد ہے، ان کی پالیسی بھی اتنی ہی غیر روایتی ہے۔ وہ کمپالا، یوگنڈا میں پیدا ہوئے، ان کے والد محمود مامدانی ایک معروف دانشور اور والدہ میرا نائر ایک عالمی شہرت یافتہ فلم ساز ہیں۔ زوہران نے نیویارک میں پرورش پائی، باڈوئن کالج سے تعلیم حاصل کی اور تعلیم کے بعد مقامی ہاسنگ مسائل پر کام کرتے ہوئے سیاسی شعور اختیار کیا۔ مامدانی صرف اپنی شناخت یا کشش کی وجہ سے نمایاں نہیں ہیں بلکہ وہ اپنی غیر متزلزل نظریاتی وابستگی کی وجہ سے خاص مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایک نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو امریکی نظام کو محض خراب نہیں بلکہ ایک غیر اخلاقی بحران تصور کرتی ہے۔ ان کی انتخابی مہم، جسے زوہرانومکس کہا جا رہا ہے، کئی ایسی تجاویز پر مبنی ہے جو امریکا میں شاید ہی کبھی مقبول رہیں: سرکاری سطح پر چلنے والے کریانہ اسٹورز، مفت پبلک بس سروس، کرایوں پر مکمل پابندی، اور ہر خاندان کے لیے مفت چائلڈ کیئر۔ یہ سب منصوبے شہر کے ارب پتیوں پر اضافی ٹیکس لگا کر پورے کرنے کا ارادہ ہے۔ان کی سیاسی کامیابی صرف پالیسی نہیں بلکہ طاقت کے توازن میں ایک واضح تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔ کارپوریٹ طبقہ، قدامت پسند میڈیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اعتدال پسند عناصر سب ہی اس بات پر فکرمند ہیں کہ اگر مامدانی میئر بنے تو اس سے نہ صرف نیویارک کا اقتصادی ڈھانچہ متاثر ہوگا بلکہ قومی سیاست میں بھی تبدیلی آئے گی۔ کاروباری طبقہ سرمایہ کے انخلا سے خائف ہے، اعتدال پسند سیاستدان اپنی گرفت کمزور ہوتی دیکھ رہے ہیں اور ریپبلکنز مامدانی کو اس سوشلسٹ لہر کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس کا وہ سالوں سے ذکر کرتے آ رہے ہیں۔مامدانی کا میئر بننا صرف نیویارک کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی فتح ہوگی ایک ایسی شخصیت کے لیے جو نہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالف ہے بلکہ ان کی معیشت کی بنیادوں کو بھی چیلنج کرتی ہے۔ اگر ٹرمپ دوبارہ صدر بن جاتے ہیں، تو مامدانی جیسے میئر کی موجودگی وفاقی سطح پر ان کے لیے ایک مسلسل مزاحمت کی شکل اختیار کر سکتی ہے، خاص طور پر امیگریشن، ماحولیات اور سوشل پروگرامز جیسے معاملات میں۔اس کے علاوہ، مامدانی کی جیت سے ملک بھر کے ترقی پسند حلقے حوصلہ پکڑ سکتے ہیں، اور 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں پارٹی کے اندر ایک نئی صف بندی جنم لے سکتی ہے۔ ان کی انتخابی حکمت عملی، جس میں نوجوان ووٹرز، مزدور یونینز اور سوشل میڈیا پر فعال کارکنوں نے کردار ادا کیا، دیگر شہروں کے امیدواروں کے لیے ایک نیا ماڈل ثابت ہو سکتی ہے۔البتہ، ان کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔ طاقتور سیاسی نظام، عدالتی رکاوٹیں، اور میڈیا کی سخت نگرانی ان کے لیے چیلنج بن سکتی ہیں۔ ان کی فلسطینیوں کے حق میں BDS کی حمایت نے پہلے ہی بعض گروہوں کو ناراض کر دیا ہے، اور کچھ لبرل عناصر بھی ان کے نظریات کی تیزی یا نفاذ کی رفتار پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔پھر بھی، ایک بات واضح ہے: زوہران مامدانی کی سیاسی پیش رفت صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک تحریک کی علامت ہے۔ چاہے وہ نیویارک کو مکمل طور پر بدل دیں یا خود اس نظام میں الجھ جائیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا میں اب سوشلسٹ خیالات دروازے پر دستک دے رہے ہیں اور اگر ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں، تو انہیں نیویارک میں ایک ایسا حریف میئر ملے گا جسے نہ دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔




