سوشل میڈیا پاکستانی سیاست میں ایک طاقتور قوت بن چکا ہے، جو عوامی رائے کو تشکیل دیتا ہے، انتخابات کو متاثر کرتا ہے، اور حکومتی امور پر اثرانداز ہوتا ہے۔ گزشتہ دہائی میں فیس بک، ٹویٹر (اب ایکس)، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نے سیاسی مواصلات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ 2024 تک پاکستان میں سوشل میڈیا کے 71 ملین سے زائد صارفین کے ساتھ، یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم سیاسی بیانیوں، پروپیگنڈا اور عوامی تحریک کا میدان جنگ بن چکے ہیں۔ روایتی میڈیا، جو اکثر ریاستی یا کارپوریٹ کنٹرول میں ہوتا ہے، کے برعکس سوشل میڈیا ایک نسبتا کھلا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اس آزادی کے ساتھ بڑے چیلنجز بھی آتے ہیں، جن میں جھوٹی خبریں، گم راہ کن بیانیے اور ریاستی سنسرشپ شامل ہیں، خاص طور پر *الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ جو کہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا گیا (PECAایکٹ 2016)* اور اس کی 2025میں ترمیم کے تحت اِس کا دائراہ سوشل میڈیا تک بڑھا دیا گیا۔ سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا کو اپنی مہمات کا اہم حصہ بنا چکی ہیں۔ عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ڈیجیٹل مہم چلانے میں پہل کی، جس نے روایتی میڈیا کو نظرانداز کرتے ہوئے براہ راست عوام سے رابطہ قائم کیا۔ پی ٹی آئی کی اس حکمت عملی نے نوجوانوں کو متحرک کرنے میں خاصی کامیابی حاصل کی۔ دوسری جماعتیں جیسے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بعد میں اپنی ڈیجیٹل ٹیمیں بنائیں۔ آج کل انتخابات جتنی زمین پر لڑے جاتے ہیں، اتنی ہی شدت سے سوشل میڈیا پر بھی لڑے جاتے ہیں، مگر PECAایکٹ 2025 کی ترمیم کے بعد سیاسی جماعتوں کے لیے ڈیجیٹل مہم چلانا مشکل ہو گیا ہے، جس میں ”ریاست مخالف”، ”توہین آمیز” یا ”جھوٹا” مواد پر 5سال تک قید اور 10لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں شامل ہیں۔روایتی میڈیا پر حکومتی کنٹرول کے بڑھنے کے ساتھ سوشل میڈیا مزید اہم ہو گیا ہے۔ نیوز چینلز پر دبائو بڑھنے سے خود سنسرشپ اور اختلافی آوازوں کو دبانے کا رجحان بڑھا ہے۔ اس ماحول میں سوشل میڈیا ایک متبادل پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے۔ تحریکوں نے اس کا فائدہ اٹھایا، مگر PECA ایکٹ کے تحت اب صحافیوں، کارکنوں اور مخالفین کو ان کے سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جھوٹی خبروں اور نفرت انگیز تقریر کو روکنے کے لیے ہیں، جبکہ تنقید کرنے والوں کا ماننا ہے کہ یہ اختلاف رائے کو دبانے کا ذریعہ ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیلز انتہائی موثر ہیں۔ یہ بیانیے تشکیل دیتے ہیں اور حامیوں کو متحرک کرتے ہیں۔ شہری علاقوں کے تعلیم یافتہ صارفین اکثر معلومات کی تصدیق کر لیتے ہیں، لیکن دیہی علاقوں کے لوگ ابھی بھی جھوٹی معلومات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا سیلز کی کامیابی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ یہ سنسر شدہ میڈیا کے خلا کو پر کرتے ہیں، مگر PECAایکٹ 2025 کے بعد ان کی راہیں مشکل ہوتی جا رہی ہیں۔پاکستان میں سوشل میڈیا اور سیاست کا یہ تعلق ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے سیاسی مکالمے کو تو جمہوری بنایا ہے، لیکن ساتھ ہی نئے چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔ PECAایکٹ کا نفاذ اظہار رائے کی آزادی اور ریگولیشن کے درمیان توازن کے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل رسائی بڑھے گی، یہ کشمکش اور شدید ہو گی۔ آخر میں، سوشل میڈیا کا پاکستانی سیاست پر اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ عوام اس بدلتے ہوئے معلوماتی ماحول کو کیسے سنبھالتے ہیں اور ادارے اس کے چیلنجز کا کیسے جواب دیتے ہیں۔




