حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام کی مجلس میں بیٹھے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوتی ہے۔ ترجمہ! اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو۔ جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پائو گے، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے۔ اسی مجلس میں موجود حضرت ابوالدحداحہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ تعالی ہم سے قرض مانگتے ہیں حالانکہ وہ ذات تو قرض سے بے نیاز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ ہی قرض مانگتے ہیں، اس کے بدلے میں وہ تمہیں جنت میں داخل کردیں گے۔ انھوں نے پھر عرض کیا: یارسول اللہ اگر میں اپنے پروردگار کو قرض دوں توکیا وہ مجھے اور میری بچی دحداحہ کو جنت میں داخل کرے گا؟آپ نے فرمایا: ہاں۔ تو انھوں نے کہا: لائیے اپنا دست ِ مبارک بڑھائیے۔ آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو اسے پکڑ کر کہنے لگے کہ دو باغ میری ملکیت میں ہیں، ایک مدینے کے زیریں علاقے میں ہے اور دوسرا بالائی حصے میں۔ ان دو باغوں کے علاوہ اللہ کی قسم اور کوئی چیز میرے پاس نہیں ہے۔ میں یہ دونوں باغ اللہ کو قرض دیتا ہوں۔آپ نے فرمایا ان میں سے ایک اللہ کی راہ میں دے دو اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل و عیال کی گزر اوقات کے لیے رکھ لو۔ اس پر ابوالداحداحہ نے کہا: پھر اے اللہ کے رسول ان میں سے جو بہتر ہے وہ اللہ کی راہ میں دیتا ہوں۔ آپ گواہ رہیں اس باغ میں چھ سوکھجور کے درخت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس انفاق کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔ کاش ہم بھی اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے رہیں، بے شک! اﷲ کو قرض دینا، اﷲ کے ساتھ تجارت ہے اور وہ سرزمین مدینہ منورہ ہو، سرزمین مکہ مکرمہ ہو، سرزمین لائلپور ہو! یا دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو، جس نے اﷲ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی، اﷲ تعالیٰ نے اس کو مالدار اور غنی بنا دیا اور اس کی دنیا وآخرت سنور گئی، یہ واقعہ بھی پڑھیئے اور اپنے دلوں کو نور ایمان سے منور کیجئے! مدینہ منورہ اس روز گہری اور پر سکون خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا’ اچانک لوگوں کو شور سنائی دیا’ یہ ایک لمبے چوڑے قافلے کی خبر تھی۔لوگوں نے پوچھا ”آج مدینہ میں کیا ہو گیا ہے”۔ جواب ملا”یہ ‘عبدالرحمن بن عوف’کا قافلہ ہے جو شام
سے مال تجارت لے کر آیا ہے”۔ ”کیاقافلہ اتنا بڑا ہے؟” لوگوں نے پوچھا ، ”ہاں یہ قافلہ سات سو اونٹوں پر مشتمل ہے اور یہ سارا سامان مدینہ کے غرباء میں تقسیم ہو گا”۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف۔ اپنے عہد میں جزیرہ نمائے عرب کے سب سے مالدار تاجر۔۔۔ آپ کہا کرتے تھے کہ میں اگر پتھر اٹھاتا ہوں تو اس کے نیچے سونا اور چاندی پاتا ہوں، حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اپنی زندگی کا آغاز غربت سے کیا۔ جب مسلمان مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے اور مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے
عبدالرحمن بن عوف کو حضرت سعد بن ربیع کا بھائی بنایا۔ سعد نے عبدالرحمن سے کہا، ”بھائی ! میں مدینہ میں سب سے زیادہ مالدار ہوں، میرا آدھا مال لے لو اور میری دو بیویاں ہیں جو تمہیں پسند آئے میں اسے طلاق دے دیتا ہوں، تم اس سے شادی کر لو”، عبدالرحمن بن عوف نے ان سے کہا، اللہ تعالیٰ تمہارے اہل وعیال اور مال میں برکت فرمائے ! مجھے تم صرف بازار کی راہ دکھا دو۔پھر آپ بازار گئے، کچھ مال خرید کر فروخت کیا اور نفع کما لیا۔آپ نے ایک روز اپنے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اے ابن عوف! تم دولت مند ہو، تم سست روی سے جنت میں داخل ہو گے۔ لہٰذا اللہ کو قرض دو ،تمہارے قدم کھول دیے جائیں گے، جس روز سے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ نصیحت بھرے کلمات سنے، آپ اپنے رب کو قرض حسنہ دینے لگے اور اللہ بھی اس کو کئی گنا بڑھاتا رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف صدقہ و انفاق کرنے والے اس اولین گروہ میں شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عطیہ کی وصولی کے بعد جناب عبدالرحمن سے پوچھا، ”عبدالرحمن ! کیا اہل خانہ کیلئے بھی کچھ چھوڑا ہے؟ ” جناب عبدالرحمن نے جواب دیا، ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔۔۔ میں نے ان کے پاس وہ اجر چھوڑا ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وعدہ فرمایا ہے”۔ اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آپ نے پچاس ہزار دینار فی سبیل اللہ تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ اسلام میں سب سے بلند مرتبہ لوگ وہ سمجھے جاتے ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔ انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے زندہ اصحاب میں سے ہر ایک کو چار ہزار دینار دینے کی بھی وصیت کی۔ اپنے ورثاء کے لیے کئی ہزار اونٹ، گھوڑے اور بکریاں ترکہ میں چھوڑ گئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ ہمیشہ اس دولت سے خائف رہے ۔ ایک روز آپ کے سامنے افطاری کا کھانا رکھا گیا ، کھانے پر نظر پڑی تو آپ رو پڑے اور کہا، مصعب بن عمیر شہید ہوئے ۔ انہیں ایک چادر میں کفنایا گیا ، اگر ان کا سرڈھانپا جاتا تو پائوں ننگے ہوجاتے اور اگر پائوں ڈھانپا جاتا تو سرننگا ہو جاتا۔ حمزہ شہید ہوئے ۔ ان کے کفن کیلئے ایک چادر کے سوا کچھ نہ ملا۔ پھر دنیا ہمارے سامنے خوب پھیلا دی گئی اور ہمیں اس سے بہت کچھ عطا ہوا۔ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں ہماری نیکی کا بدلہ ہمیں یہاں ہی نہ دیدیا جائے۔ یہ ہے اسلام کے ایک مالدار اور دولت مند شخص کی کہانی۔ کوئی ہے جو عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس روایت پہ چل سکے؟حضرت ابن عوف نے اپنا مال اللہ کو قرض دے دیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ہمیں سمجھ نہیں آتا۔کسی بھی انوسٹمنٹ اور اس کے منافع میں شک ہو سکتا ہے، لیکن اللہ سب سے زیادہ منافع دینے والا ہے اور سب سے زیادہ وعدہ نبھانے والا ہے، اصل نعمت وہ ہے جو آخرت میں کام آئے۔ نہ ان کے جیسا سخی ہے کوئی ۔ نہ ان کے جیسا ولی ہے کوئی’ وہ بے نوائوں کو ہر جگہ سے۔۔۔ نوازتے ہیں بلا بلا کر’ میں وہ بھکاری ہوں جس کی جھولی میں’ کوئی حسن عمل نہیں ہے مگر وہ احسان کر رہے ہیں۔۔۔ خطائیں میری چھپا چھپا کر۔




