سیالکوٹ میں سیلاب کی تباہ کاریوں نے پوری فضا کو افسردہ کر کھا تھا کہ ایسے میں سرگودھا سے پے درپے دو خبروں نے غم ناکی برپا کردی – پہلے صبح کا آغاز اس اطلاع سے ہوا کہ میرے بہنوئی طاہر فاروق اعوان کے بڑے بھائی اور ہم سب کے دلوں کی ٹھنڈک فاروق صاحب الشفا ہسپتال اسلام آباد میں زندگی کی بازی ہار گئے ہیں بارش کی رم جھم اور غم کی برسات سارا دل کھل کر برسے اور رات بھی آنسوں کی شبنم سے بھیگی رہی ۔ اگلے دن ابھی اس کیفیت سے نبردآزما ہی تھے کہ دوپہر کو خبر آئی کہ ہم دم دیرینہ شمس نوید چیمہ بھی لاہور میں راہی ملک عدم ہو گئے ہیں چیمہ صاحب کچھ عرصہ سے جان لیوا مرض میں مبتلا تھے اور اس بلا کا بڑی ہمت اور صبر سے مقابلہ کر رہے تھے – کچھ عرصہ قبل جب میرے چھوٹے بھائی نیو نٹالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر جواد حیدر میاں نے بہتر طبی سہولتوں کے لیے سرگودھا سے نقل مکانی کی تو دل کو تب بھی ہاتھ پڑا تھا اور اب تو یوں لگا جیسے سرگودھا اپنوں سے خالی ہوتا جارہا – دل اب کے عجیب کشمکش میں ہے کہ سیالکوٹ کے دریاں ندی نالوں میں طغیانی اور مسلسل اور ریکارڈ بارش کے طوفان نے جب درودیوار اور گلی محلوں اور کوچوں وبازاروں سمیت بستیوں اور گھروں کو ڈبو دیا سرگودھا کے فکر مند احباب نے خیر خبر کے لیے فون کالوں اور میسجوں کا تانتا باندھ دیا جس سے دل کو بہت ڈھارس پہنچی اور اپنائیت بھرے ان جزبوں نے سچی بات ہے بہت حوصلہ دیا – یوں لگا کہ سیلابی مشکلات کا مقابلہ کرنے اور الخدمت کی خدمات کو تیز کرنے کے لیے توانائی دو چند ہو گئی ہو – ابھی اندر کے موسموں کو ترتیب دے ہی رہا تھا اور جذبوں کی اڑان رفتار پکڑرہی تھی کہ غم ناک خبروں نے دوبارہ دل توڑ کر اور پاں باندھ کر رکھ دئیے – کڑانہ بار کے ان عزیزوں کی جدائی سے سرگودھا افسردہ ہے کہ اب کی بار جانے والے کوئی عام لوگ نہ تھے سرگودھا کی رہتل اور معاشرے کا فخر تھے – فاروق بھائی خاندان کا محور تھے تو شمس نوید چیمہ سرگودھا کی اجتماعیت کا جزو لاینفک-فاروق اعوان صاحب کے خاندان سے آشنائی اس وقت شروع ہوئی جب میرے چھوٹی بہن جنت مکانی سعدیہ یاسمین ان کے چھوٹے بھائی طاہر اعوان سے بیاہ کر ان کے گھر آئی – جماعتی گھرانہ ہونے اور ان کی بہن رفعت سے دینی سرگرمیوں میں عابدہ کی ہمرکابی ہونے کی بنا پر شناسائی پہلے سے تھی اور میں ذاتی طور پر ان کے والد گرامی ملک خضر حیات صاحب کی سادہ اور پرجوش داعیانہ زندگی کا پہلے سے معترف تھا – چیمہ خاندان سے میرا تعارف اس سے بہت پہلے اس وقت ہو گیا تھا جب جنوری 1988 میں میری سرگودھا بطور ای ایس پی پوسٹنگ ہوئی – پولیس میں یہ میری پہلی باقاعدہ پوسٹنگ تھی اور شمس نوید چیمہ کے بڑے بھائی حاجی جاوید اقبال چیمہ سے پہلی ملاقات بھی انہی ابتدائی دنوں میں ہوئی – اپنے خاندان کے سرخیل اور جماعت اسلامی سرگودھا کے قائد کی حیثیت سے ان کا نام اور شہرت تو بہر حال پہلے سے میری یادداشتوں کا حصہ تھی – جاوید اقبال چیمہ سادگی ، وضع داری ، خدمت اور دیانت وحکمت کا پیکر تھے – جماعتی حلقوں کے علاوہ عام عوام بھی ان سے محبت کرتے اور انس رکھتے تھے ان کی شخصیت میں وقار تو تھا ہی مگر ان کا احترام بھی بہت تھا – وہ سماجی کارکن بھی تھے ، جماعت کے امیر بھی اور ایم این اے بھی رہے – یوں ان کی زندگی اقامت دین اور خدمت خلق کے لیے وقف رہی – اسی ماحول میں پروان چڑھنے والے شمس نوید چیمہ ایڈووکیٹ نے اپنی اصول پسندی ، خاندانی وجاہت اور قانون دانی کے باوصف بڑا نام پایا – انہیں جماعتی حلقوں کے علاوہ وکلا برادری کا اعتماد بھی حاصل تھا – سرگودھا بار کے صدر بھی رہے – دھیمامزاج اور انکساری تو ان کا خاندانی وصف تھا اور نیکیوں میں سبقت لیجانے کا جذبہ ان کی میلان طبع – فاروق اعوان صاحب دھیرے اور دھیمے انسان تھے جو خاموشی سے خاندان کو ساتھ لے کر چلنے کا کردار نبھا رہے تھے – وہ اپنی موجودگی کا ڈھول پیٹنے والوں میں سے نہ تھے اور سب کا حوصلہ تھے – میرا دل سے احترام کرتے اور ہمیشہ خیر خواہی پر مشتمل شفت بھرا رویہ اپنائے رکھتے – ایک دفعہ جب جوہر آباد کے قریب ان کے ڈیرے پر کچھ وقت گزارنے کا اتفاق ہوا تو ان کے راضی بہ رضا رہنے کی ساری کہانی سمجھ میں آگئی – وہ لمبے چوڑے عزائم رکھنے کی بجائے زندگی کوصبر و تحمل اے جینے کے قائل تھے – مختصر یہ کہ پروفیسر عرفان ، میاں اظہر ، ڈاکٹر ارشد، اسلم وھرا ، ملک ظہور الہی ، نشاط ، جبار بھٹی ، عمران چوہدری ، محمود اعوان ، ملک افضل اعوان ، ڈاکٹر لیاقت ، ملک فضل الہی اعوان ، خالد اقبال مسرت ، عزیز لاہور شوز ، پروفیسر ہارون رشید تبسم اور ان جیسے سینکٹروں پیاروں کا سرگودھا ان سب کی موجودگی میں اگرچہ آباد ہے مگر نجانے کیوں لگتا ہے کہ میراسرگودھا خالی ہوتا جارہا ہے – اللہ ملک فاروق اعوان اور شمس نوید چیمہ کو جنت میں ان کے نئے گھروں میں آباد کر دے تو یادوں کی بستی اجڑنے سے بچ رہے گی – سیالکوٹ ، سرگودھا اور جانے والوں کی سادگی ان سب میں مشترکہ س سے سب کی سلامتی کے لیے سپاس گزار ہوں۔




