سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت میں ریاستی ذمہ داریاں سیرت النبی ۖ کی روشنی میں

دنیا تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ آج کا دور ڈیجیٹل دور ہے جہاں معلومات، علم اور رابطے کے سب سے تیز رفتار ذرائع میں *سوشل میڈیا* نمایاں ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز نے دنیا کو ایک “گلوبل ویلج” میں بدل دیا ہے۔ یہ ذرائع بلاشبہ بے شمار فوائد رکھتے ہیں، لیکن ان کا منفی استعمال معاشرتی بگاڑ، اخلاقی انحطاط اور فکری انتشار کو بھی جنم دیتا ہے۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس عظیم طاقت کو کیسے مثبت سمت دی جائے؟ کس طرح نئی نسل کو سوشل میڈیا کے تعمیری اور مفید استعمال کی تربیت دی جائے؟ اور ریاست کی اس حوالے سے کیا ذمہ داریاں ہیں؟ ان سوالات کے جواب ہمیں سیرت النبی ۖ کی روشنی میں ملتے ہیں، کیونکہ آپ ۖ کی زندگی انسانیت کے ہر شعبے کے لیے کامل رہنمائی ہے۔ رسول اکرم ۖ کو اللہ تعالی نے “معلمِ انسانیت” بنا کر بھیجا۔ قرآن مجید میں آپ ۖ کے بارے میں ارشاد ہے:”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔”* (الانبیا: 107) آپ ۖ کی دعوت کا سب سے نمایاں پہلو ابلاغ تھا۔ آپ ۖ نے پیغامِ اسلام کو حکمت، بصیرت اور نرم لہجے کے ساتھ دنیا تک پہنچایا۔ قرآن مجید میں حکم ہے:”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے بہترین انداز میں بحث کرو۔ “*(النحل: 125) یہ اصول آج کے سوشل میڈیا پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا دراصل جدید دور کا ذریعہ ابلاغ ہے۔ لہذا، ریاست اور معاشرے دونوں پر لازم ہے کہ وہ اس ذریعے کو خیر اور بھلائی کے پیغام کے لیے استعمال کریں، نہ کہ جھوٹ، نفرت اور فتنہ پھیلانے کے لیے۔سوشل میڈیا نے جہاں تعلیم، تحقیق اور علم کے فروغ کے مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں اس کے منفی پہلو بھی ہیں:* جھوٹی خبروں اور افواہوں کا تیزی سے پھیلا۔* وقت کا ضیاع اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی میں کمی۔* فحاشی، بے حیائی اور اخلاقی اقدار کی تنزلی۔* نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ انتشار۔یہ مسائل صرف فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے ریاستی سطح پر ایسے اقدامات ناگزیر ہیں جو نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کی **مفید، مثبت اور بامقصد استعمال کی طرف راغب کریںاسلامی ریاست کے بنیادی مقاصد میں دین کی حفاظت، اخلاقی تربیت، انصاف اور عوامی بھلائی شامل ہیں۔ سوشل میڈیا کے تناظر میں ریاست کی چند اہم ذمہ داریاں یہ ہیں: ریاست کو چاہیے کہ تعلیمی نصاب میں ایسے مضامین شامل کرے جو طلبہ کو سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوں سے روشناس کرائیں۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ سوشل میڈیا کو صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ علم، تحقیق، دین کی خدمت اور معاشرتی فلاح کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ریاست کو چاہیے کہ وہ سیرت النبی ۖ، قرآن و سنت اور اسلامی تعلیمات پر مبنی مواد کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فروغ دے۔ ایسا مواد نوجوان نسل کے لیے متبادل بھی فراہم کرے گا اور انہیں اخلاقی طور پر مضبوط بھی کرے ریاستی اداروں کو ایسے قوانین نافذ کرنے چاہئیں جو سوشل میڈیا پر جھوٹ، نفرت انگیزی، فحاشی اور غیر اخلاقی مواد کی روک تھام کریں۔ ساتھ ہی ایسے پلیٹ فارمز کی حوصلہ افزائی کریں جو علم، تحقیق اور اصلاحی مقاصد کے لیے قائم ہوں۔ ریاست کو قومی سطح پر آگاہی مہمات چلانی چاہئیں جن میں ماہرین، علما اور اساتذہ نوجوانوں کو یہ سمجھائیں کہ سوشل میڈیا کو دین، تعلیم اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔سیرت النبی ۖ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ الفاظ نرم، باوقار اور بامقصد ہونے چاہئیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل کو کردار سازی کی ایسی تربیت فراہم کرے کہ وہ سوشل میڈیا پر بھی صبر، برداشت، سچائی اور امانت داری جیسے اوصاف کو اپنائیں-سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ یہ انسانیت کے لیے فائدہ مند بھی بن سکتا ہے اور نقصان دہ بھی۔ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اسے کس نیت اور مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سیرت النبی ۖ ہمیں سکھاتی ہے کہ پیغام رسانی ہمیشہ خیر اور بھلائی کیلئے ہونی چاہیے۔ ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں، قوانین اور تعلیمی نظام کے ذریعے نوجوان نسل کو ایسا شعور دے جو انہیں سوشل میڈیا کو علم، اخلاق اور دین کی خدمت کے لیے استعمال کرنے پر آمادہ کرے۔ اگر یہ مقصد حاصل کر لیا جائے تو سوشل میڈیا ہمارے معاشرے کے لیے اصلاح، ترقی اور امن کا عظیم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں