قوت برداشت میں کمی… قتل وغارت گری

اس وقت ہمارے معاشرے میں ہر طرف بے چینی وبے سکونی کے اثرات نظر آتے ہیں، معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑے کے واقعات پیش آنا معمول بن چکا’ اخلاقیات’ برداشت’ رواداری اور بھائی چارے میں تشویشناک حد تک کمی ہو چکی ہے، عدم برداشت کے باعث گزشتہ دنوں پیش آنیوالے لرزہ خیز واقعات کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ 30ج ب میں گھریلو جھگڑے پر بیوی نے آشنا سے مل کر اپنے خاوند اور سسر کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جائیداد کے تنازعے پر ہونے والے ایک جھگڑے کا بھی المناک انجام سامنے آیا اور سول ہسپتال میں فائرنگ کے واقعہ میں 2بھائیوں سمیت 3افراد مارے گئے، سمندری میں سہیلی سے ناراضگی پر BS کی طالبہ ماہم نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا’ یہ واقعہ مذکورہ طالبہ کے والدین پر قیامت ڈھا گیا، معمولی جھگڑے کا ایک اور المناک انجام کچھ اس طرح سامنے آیا کہ رفحان ملز کے سکیورٹی گارڈ فرحان کو ساتھی نے قتل کر دیا، ڈائیوو روڈ اسماعیل ویلی میں جائیداد کی خاطر خاتون کی جان لے لی گئی، 211 گ ب میں گھریلو جھگڑے پر طارق نے بیوی رضیہ بی بی کو مار ڈالا، عدم برداشت اور خود غرضی کی انتہا دیکھئے کہ جائیداد کی خاطر ارشد ٹائون میں بیٹے طاہر نے باپ ذوالفقار کو مار ڈالا اور 76 گ ب ستیانہ میں درخت فروخت کرنے پر باپ اسلم نے بیٹے اکرم پر کلہاڑی کے وار کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا، سمندری میں خرچہ مانگنے پر شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا، نواب ٹائون میں طالب علم زین نے اپنے کلاس فیلو سرمد کو گھر بلایا اور اسے گولیاں مار کر ڈالا، یہ المناک واقعات قوت برداشت ختم ہو جانے کا نتیجہ ہے، پہلے ہم جن باتوں کو نظرانداز کر دیتے تھے انہیں اب اپنی زندگیوں کا روگ بنا لیتے ہیں، معمولی باتوں پر ہونے والی تلخ کلامی دشمنی میں بدل جاتی ہے اور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو بندوق ایک بار کسی شخص کے کندھوں پر آ جائے وہ پھر اترنے کا نام نہیں لیتی اور مرتے دم تک اس شخص کے کندھے اس بندوق کے بوجھ سے دبے رہتے ہیں، ہمیں اپنے آپ میں قوت برداشت بڑھانا چاہیے کیونکہ ایسا نہ ہونے سے ایسے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ انسانوں میں عدم برداشت پر حیرانگی ہوتی ہے، دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ دو موٹرسائیکل سوار ٹکرا جاتے ہیں لیکن انہیں خراش تک نہیں آتی لیکن وہ لڑائی جھگڑا شروع کر کے ایک دوسرے کے سر پھاڑ دیتے ہیں، ایسے مواقع پر انسان اگر غصے میں نہ آئے تو یہ اس کیلئے نہایت فائدہ مند ہوتا ہے، خلاف مزاج کسی واقعے پر جب انسان بے قابو ہو جاتا ہے تو وہ غصے کی حالت میں جو چاہتا ہے، کر ڈالتا ہے، اچھے سے اچھا سمجھدار انسان بھی شدید غصے میں عقل سے خارج اور پاگل ہو جاتا ہے اور یہ تو بالکل عام بات ہے کہ غصہ فرو ہونے کے بعد انسان اپنے کئے پر خود کو ندامت کرتا ہے اور بسااوقات بڑے بڑے دور رس نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں، غصے پر قابو پانا برداشت اور تحمل کی عادت ڈالے بغیر ممکن نہیں، انسان کی زندگی میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ اسے کسی ناگوار بات پر شدید غصہ آتا ہے مگر جو لوگ صبر وبرداشت سے کام لیتے ہوئے اپنے آپ پر قابو رکھتے ہیں، ان کی زندگی کا سفر کامیابی کی طرف جاری رہتا ہے اور وہ کبھی ٹھوکر نہیں کھاتے اور نہ انہیں کبھی مایوسی کا شکار ہونا پڑتا ہے اس کے برعکس جو لوگ صبر وبرداشت سے کام نہیں لیتے ان کی زندگیاں بے بسی’ بے سکونی’ مایوسی’ اضطراب’ ڈپریشن اور دیگر مشکلات سے دوچار ہو جاتی ہے، اس وقت ہمارے معاشرہ سے اخلاقیات’ برداشت’ رواداری اور بھائی چارے کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ لوگ زمانہ جاہلیت کی طرف چل نکلے ہیں، زمانہ جاہلیت میں معمولی معمولی باتوں پر جھگڑا ہوتا تو خون کی ندیاں بہا دی جاتیں، نسل در نسل دشمنیاں چلتیں، آج اگر دیکھا جائے تو ہمارا معاشرہ دور جاہلیت کا منظر پیش کر رہا ہے اور غصہ ہماری زندگیوں میں اس قدر شامل ہو چکا کہ اس کا اثر جگہ جگہ دکھائی دینے لگا ہے، ہمیں چاہیے کہ عدم برداشت کو چھوڑ کر خود میں باہمی محبت واخوت اور رواداری کے اوصاف پیدا کریں، ارشاد باری تعالیٰ ہے: بھلائی اور برائی برابر نہیں، اگر کوئی برائی کرے تو اس کا جواب اچھائی سے دو، پھر تو تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی ہے، وہ ایسا ہو جائے گا گویا گہرا دوست ہے، حضرت عبداﷲ بن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں ایمان والوں کو غیض وغضب میں صبر اور نادانی وجہالت کے وقت حلم وبردباری اور برائی کے مقابلے میں عفو ودرگزر کا حکم دیا ہے، جب وہ ایسا کرینگے تو اﷲ تعالیٰ انہیں شیطان کے اثر سے محفوظ رکھے گا۔ انسان غور وفکر سے کام لے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ قوت برداشت میں کمی کے باعث پید اہونے والا غصہ اور اشتعال شیطانی اثر ہے، شیطان انسان کو مختلف تدابیر کے ذریعے ابھارنا چاہتا ہے کہ وہ جذبات میں آ کر کوئی ایسا کام کر بیٹھے جو اس کے لیے نقصانات کا باعث بنے، اسلامی تعلیمات میں بھی ہمیں عفو ودرگزر سے کام لینے کا کہا گیا ہے کہ اور یہ پیغام دیا گیا ہے کہ معاف کرنے والوں کیلئے آخرت میں بڑااجر ہے، کسی شخص کی کامیابی وبلندی کا راز یہ ہے کہ وہ انتہائی جذباتی مواقع پر بھی عقل ودانش سے فیصلہ کرے، انفرادی زندگی میں تحمل وبرداشت کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کی اہمیت اجتماعی جگہوں پر مزید بڑھ جاتی ہے، اگر تحمل اور صبر وضبط سے کام نہ لیا جائے تو زندگی گزارنا مشکل ہو جائے، اپنی شخصیت کو نکھارنے’ مسائل سے نجات پانے اور خوشگوار زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے کہ جذبات کو قابو میں رکھا جائے، درج بالا سطور میں قوت برداشت کی کمی کے باعث پیش آنیوالے چند درد ناک واقعات قلمبند کئے گئے ہیں۔ آئے روز ایسے روح فرسا واقعات پیش آنا لمحہ فکریہ ہے اور ہمیں چاہیے کہ اس بات پر غور کریں کہ ہم میں قوت برداشت کی کمی کیوں ہے؟ صبر وتحمل کا وصف انتہائی مفید ہے، اس سے سعادت وبھلائی اور سکون واطمینان کے مواقع ہاتھ آتے ہیں، پرسکون اور کامیاب زندگی کے لیے صبر وتحمل بنیادی عنصر ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر موقع پر قوت برداشت سے کام لیں، بلاشبہ! اسی میں ہماری بھلائی اور اسی میں ہماری فلاح ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں