جمعرات کی رات گئے راولپنڈی سے خواجہ منصور کا میسج آیا صفدر وینٹی لیٹر پر ہے سید میڈیکل کمپلیکس سیالکوٹ میں – اور کل رات گئے اس کے میسج میں لکھا تھا انا للہ وانا الیہ راجعون – ان دو راتوں کے درمیان پوری زندگی ہے جو خواجہ منصور کے بقول 58 سال پر محیط ہے – صفدر سے دوستی تو خواجہ منصور ، اختر جاوید اور منصور میر کی زیادہ تھی۔ ہاں میری بھی صفدر سے پرانی یاد اللہ تھی مگر اکتوبر 1984 میں میری شادی کے بعد یہ تعلق ایک نئے رنگ میں ڈھل گیا کہ صفدر میرے برادر نسبتی اختر جاوید کا یار غار تھا جب کہ دوسرا مشترکہ دوست منصور میر میرا کلاس فیلو تھا اور میرے سب سے زیادہ قریب – دوستی کی اس شاہراہ کے نقوش اب اس طرح دھندلاتے جارہے کہ اختر جاوید اور منصور میر کے بعد اب صفدر بھی راہی ملک عدم ہو گیا ہے عدم کی طرف اب اگلا قدم کس کا اٹھنے والا ہے یہ مالک عدم ہی جانتا ہے۔ دوسروں کی طرح میری بھی خواہش تھی کہ وینٹی لیٹر جلد از جلد ہٹ جائے اور پھر وہ جلدی ہٹ بھی گیا مگر ہماری خواہش نہیں اللہ کی مشیت کے مطابق – ایک دفعہ پھر ثابت ہوا کہ خواہشیں کتنی ناپائیدار ہوتی ہیں لہذا انسان ان کے پیچھے ہلکان ہونے کی بجائے اپنی تدبیریں ضروتوں اور مقصد زندگی تک محدود رکھے تو اس مسافرت میں بھی ہلکا پھلکا رہے اور آخرت میں بھی سستے سے چھوٹ جائے۔صفدر نے زندگی بھر تعلق نبھایا اور ہر کسی سے نبھایا اور کیا خوب نبھایا – وہ تعلق کو اس کے تقاضوں تک محدود نہیں رکھتا تھا بلکہ کچھ اس طرح سے خود پر طاری کرتا تھا کہ اس کی اپنی ذات معدوم ہو کے رہ جاتی تھی – سچ پو چھئیے تو دوستی کی اس مربع شکل کے ہر کونے پر وہ خود بیٹھا تھا – ان سارے گھروں کے معاملات نہ صرف اس کے اپنے تھے بلکہ ان کو نبھانا اور سلجھانا بھی اسی کی زمہ داری تھی – ان کے حالات سے دوسروں کو باخبر رکھنا اضافی بوجھ تھا جواس نے عمر بھر اٹھائے رکھا۔ گویا وہ تسبیح کا وہ دھاگاتھا جو سب کو پرو کر رکھتا ہے – جب تسبیح خالی ہونے لگی تو اس کی برداشت بھی جواب دے گئی اور وہ اس اداسی بھری جدائی کو مات دے کر اپنوں سے جا ملا۔ میں نے اسے بہت کم خرابی صحت میں مبتلا پایا اور وہ ہروقت اپنی اس ڈیوٹی پر حاضر پایا جاتا جسے اٹھا کر کبھی زیر بار نہ ہوا تھا – جب اس کی زوجہ محترمہ کو بیماری نے گھیر لیا تو وہ اس کی خدمت میں جت گیا – پھر یوں ہوا کہ وہ خود بھی بیمار ہو گیا – ڈھنڈورا پیٹنا اسے آتا نہیں تھا اس لیے صبر کی آنچ میں ہولے ہولے اور چپکے چپکے رات دن سلگتا رہا – اگر یہ دنیا گلے شکووں کے عادی لوگوں کی بھیڑ کا نام ہے تو وہ اس دنیا کا باشندہ ہی نہ تھا – اس نے کبھی کسی کی شکایت نہ کی حتی کہ ان کی بھی نہیں جو اس کے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہوئے – اسے دوسروں کی کڑواہٹ سے سروکار نہ تھا بس اپنے اندر کی مٹھاس بانٹنے کا نشہ تھا – اس کی زندگی دنیاوی لحاظ سے آسودگی سے دور مگر قناعت سے بھرپور تھی جو ہلکی مسکراہٹ بن کر ہروقت اس کے چہرے پر کھیلتی رہتی – وہ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتا کچھ اس طرح کہ دوسروں کو اس سے مل کر اپنے اندر کے موسم کو شانت کرنے میں آسانی ہو جاتی – اس سے پہلے کہ کوئی اسے ملنے آئے وہ خود ملنے پہنچ جاتا – دوسرا تکلیف میں ہے اسے نجانے کیسے خبر ہو جاتی – خوشی غمی کے سارے موقعے نبھانا وہ اپنی ذمہ داری سمجھتا – مثبت سوچ نے اس کی پوری زندگی کا احاطہ کر رکھاتھا – لوگ جذبات کو قابو میں رکھنے کی تگ ودو میں رہتے ہیں اور صفدر نے اظہار میں جذ بات کو زندگی بھر ایک ہی سطح پر رکھا – پاک طینت ، نیک طبیعت ، سادہ اور مطمئن طرز زندگی ، غصہ سے دور تحمل مزاج ، ا نا اور تعصب سے خالی اس کی زندگی کی شاخ پر ہمیشہ ہمدری ، خلوص اور ایثار کے پھول ہی کھلے – وہ ایسی فیض پہنچانے والی روح تھا کہ غیر معمولی حالات میں ہر گھر کا فرد بن جاتا اور حالات نارمل ہوتے ہی دوبارہ اپنی ذات میں سمٹ آتا – وہ ایسا عاجز تھا جسے غمگساری بطور خاص تقویت ہوئی۔ میرا ہم سفر ، میرا ہم نوا ، میرا سفیر میرا معترف ، میرا ممدوع ، میرا صفدر شہد کی مکھی کی طرح عمر بھر کی تھکان لے کر اپنی خدمات کا جو شہد چھوڑ گیا اس کی شیرینی خالص شہد کی طرح آخر میں غم کی کرواہٹ دی گئی ہے مگر یقین ہے کہ وہ جس طرح ہمارے لیے نفع بخش تھا یہ شہد اس کے لیے بھی شفا بنے گا کہ اس نے ہمیشہ پاکیزہ کھایا اور پاکیزہ کھلایا – سراپا جستجو شہد کی یہ مکھی اس پرواز میں وقت کی حدود سے آگے نکل کر جنت کی وادیوں کے پھولوں پر جا بیٹھی ہے تو انشااللہ اچھا صلہ ہی پائے گی۔ حاجی محمد صفدر کے مرجع خلائق ہونے کی گواہی دینے کے لیے میں بھی اس ہجوم کا حصہ بن گیا جو جنازگاہ میں میت کی آمد کا مجھ سے پہلے سے منتظر تھا – انتظار کے ان لمحات میں میرے استفسار پر خواجہ منصور نے دو لفظوں میں بات مکمل کردی – انتھک اور بے لوث – انتھک اتنا کہ ہر وقت دوسروں کے لیے مصروف رہتا اور بے لوث اتنا کہ کبھی کسی کو اپنا کام نہیں کہا – میں سوچنے لگا اسی لیے تو لوگ اس کے مداح مگر بہت کم اس کے حالات سے آ گاہ تھے – راضی بہ رضا روحوں کا یہی طر امتیاز ہوتا ہے۔ زندگی کی شیرینی میں لت پت لوگ موت کی کرواہٹ کا سن کر سوچتے ہیں کہ انہوں نے بھی موت کا ذائقہ چکھنا ہے جو جانے کیسا ہو گا ؟ انہیں خبر ہو کہ موت کا ذائقہ وہی ہوگا جو ان کے اعمال کا ذائقہ ہے۔اگر زندگی کے دھاگے پر یقین کی گھانٹھ پکی ہو تو موت وہ مہربان دوست ہے جو غم حیات سے نجات دے کر شفاعت ساقی کوثر اور دیدار الہی کی مسرت سے شادکام کرتی ہے – صفدر جو نام کا ہی نہیں کام کا بھی بہادر تھا اسے اس بہادری کا صلہ ضرور ملے گا یہ ہماری دعا بھی ہے ، تمنا بھی ، التجا بھی اور ہمارا یقین بھی کہ صفدر کی اختیار کردہ ایمان اور عمل صالح کی راہ اسی کی متقاضی ہے ۔




