سعودی عرب کا95واں یوم وطنی

23 ستمبر سعودی عرب کی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ دن ہے جب کنگ عبدالعزیز نے 1932 میں مختلف قبائل کو ایک جھنڈے تلے جمع کرکے مملکت سعودی عرب کی بنیاد رکھی۔ یہ بیج جسے انہوں نے بویا تھا آج ایک تن آور درخت بنا کر امت مسلمہ کو سایہ فراہم کررہا ہے۔ سعودی عرب نے پچھلے 95 برسوں میں اقتصادی ترقی ، ثقافت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور کھیل کے میدان میں وہ مثال قام کی ہے جس پر پوری دنیا رشک کرتی ہے۔ کنگ عبدالعزیز کے بعد ان کے بیٹوں نے بڑی محنت اور اخلاص سے اس ملک کو سنبھالا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں ویژن2030 کے تحت سعودی عرب نے ترقی کی نئی منازل طے کیں۔ سعودی عرب نے نہ صرف اپنے شہریوں کو بہترین تعلیم اور سہولیات فراہم کیں بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے طلبا کو وظائف اور تعلیمی مواقع دئیے۔ اسلامی دنیا میں سعودی عرب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ چاہے مسجد اقصی کا مسئلہ کو یا فلسطینی عوام کی حمایت عالمی سطح پر سعودی عرب نے ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔سعودی قومی دن کی مناسبت سے اس بات کا ذکر کرنا بھی اہم ہے کہ سعودی عرب کی اسلام اور امت مسلمہ کیلئے خدمات بیش بہا ہیں۔ خاص طور پر مسجد اقصی اور غزہ کیلئے عالم اسلام کے علاوہ اقوام عالم کو بیدار کرنا اور ان کی ہر ممکن بحالی میں قائدانہ کردار ادا کرنا اور خاص طورپر یورپی ممالک سے اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے حق میں ووٹ دلوانا مملکت سعودی عرب کا خاصہ ہے۔ سعودی قیادت نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی سطح پر اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ فلسطینی عوام کی خود مختاری اور ریاست کا قیام خطے میں دیر پا امن کیلئے ناگزیز ہے۔قدرتی آفات ہوں یا مشکل وقت سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ سیلاب اور زلزلے کے متاثرین کی مدد سے لے کر حج انتظامات تک سعودی عرب نے ہر جگہ اپنی مثال قائم کی ہے۔ حالیہ حج سیزن میں جدید ٹیکنالوجی اور بہترین سہولیات نے حجاج کرام کو آسانی اور تحفظ فراہم کیا ہے۔سعودی عرب کے کنگ سلمان ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجا گیا۔ سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے امدادی سامان حکومت پاکستان کے سپرد کیا۔ مرکزی علما کونسل پاکستان خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو سیلاب متاثرین کی امداد کرنے پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔حج2025 میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیاگیا۔ جدید ٹیکنالوجیز اور جدید خدمات کے استعمال نے حجاج کی سیفٹی کے محفوظ اور آرام دہ انداز میں مناسک کی ادائیگی کیلئے پر امن ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے ذریعے عازمین حج کا کسٹم اور ایمیگریشن پاکستان میں ہی کیا جاتا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت حجاج کو سعودی ایئر پورٹ پر کسٹم اور ایمیگریشن سے استثنا حاصل ہے۔ سعودی عرب کے تمام شعبوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو مستقبل میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ ڈیجیٹل فورم معیشت کیلئے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی بے حدضرورت ہے۔ حکومت پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ سعودی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں تجارت کیلئے دوستانہ ماحول فراہم کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے اتحاد دونوں ملکوں کے دفاعی و معاشی تعلقات کو نئی جہت سے روشناس کراسکتے ہیں۔1979 میں پاکستان نے اپنے شہر لائل پور کا نام سعودی شاہ فیصل کے نام پر فیصل آباد رکھا۔ اپریل 1976میں امام کعبہ الشیخ عبداللہ ابن سبیل نے فیصل آباد کی تاریخی مرکزی جامع مسجد گول غلام محمد آباد کا جدیدسنگ بنیاد رکھا۔ مرکزی علما کونسل پاکستان سعودی قیادت اور سعودی عوام کو 95ویں یوم وطنی کے پر مسرت موقع پر مبارک باد پیش کرتی ہے اور ہم سب دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی سعودی عرب کو ہمیشہ ترقی، امن اور خوشحالی عطا فرمائے اور پاکستا ن و سعودی عرب کی دوستی کو مزید مضبوط بنائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں