باپ۔ رو نہیں پاتا مگر سسکتا ہے

ویسے تو ہر شخص خواب دیکھتا ہے اور اگر خواب دیکھنے والا باپ ہو اور باپ بھی پیشے کے اعتبار سے استاد ہو ۔ پھر تو خوابوں کی تعبیر لوہے پہ لکیر ہوتی ہے۔ وہ تو قوم کے سارے بچوں کو اپنے بیٹے سمجھتا ہے اور پھر اس کے اپنے بیٹے۔ کوئی بھی ذی فہم اور ذی شعور اپنی اولاد کو کیسے تعلیم وتربیت کے حوالے سے بھول سکتا ہے۔ ہاتھوں کی لکیروں کی بنت میں بھی دو اشخاص کا اہم کردار ہوتا ہے اور وہ دو اشخاص ہیں والد اور استاد۔ نیک نیت استاد اپنے شاگردوں کی تعلیم وتربیت جب باپ بن کر کرتے ہیں تو ان کا مستقبل اور طرح کا ہوتا ہے اور اگر استاد اور شاگرد میں اپنائیت میں کہیں جھول آجائے تو پھر تدریس کی روح سارے عمل سے غائب ہوجاتی ہے۔ اور کارخانہ قدرت میں سارا کردار ہی روح کا ہے جس کو ہم دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غیر مرئی چیز کو تلاش کرنا اور ڈھونڈھنا آسان کام نہیں ہوتا اور ہم نے تو روح کے معاملے کو ویسے ہی پیچیدہ کردیا ہے۔ جس کے جی میں جو آتا ہے وہ روح کی تشریح اپنے حساب سے کردیتا ہے۔ اللہ تعالی نے تو اس سلسلے میں سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرمائیں کہ روح اللہ کا امر ہے۔ اور ویسے تو ارض وسما کی ساری کہانی امر ربی کی محتاج ہے۔ روح کے بھی تمثیلی معنی ہیں۔ کسی بھی چیز کی اصل روح اس سے نکال دی جائے تو پھر وہ چیز اپنی اصل حالت میں نہیں رہتی ہے۔ تتر بٹیر ہوجاتا ہے اور زید بکر ہو جاتا ہے۔ یعنی گڈ مڈ اور ہر طرف کنفیوژن اور بے چینی۔ لہٰذا چیزوں کو ان کی اصلیت کے اعتبار سے دیکھنے کے لئے ان چیزوں کی روح کی ماہیت کو سمجھنا ہوگا اور سمجھ سمجھ کے بھی جو نہ سمجھے میری سمجھ میں وہ ناسمجھ ہے۔ والد تو پھر والد ہوتا ہے وہ اپنی اولاد کے بارے میں بہت ہی سنجیدہ اور پرجوش ہوتا ہے۔ ہر شخص ویسے بھی اپنے آنے والے کل کے بارے میں متفکر ہوتا ہے اور والد اپنی اولاد میں اپنا کل تلاش کرتا ہے۔ ان کے بارے میں طرح طرح کے خواب دیکھتا ہے اور اس کے بعد ان خوابوں کو سچ کر دکھانے کے لئے دن رات ایک کردیتا ہے۔ اپنے وسائل سارے اسی راہ میں جھونک دیتا ہے اپنی خواہشات بلکہ اپنا آپ بھی قربان کردیتا ہے اور اس کی ایک ہی تمنا ہوتی ہے کہ اس کی اولاد اس سے آگے بڑھ جائے اور آگے بڑھنے کے لئے پہلے خواب دیکھنا پڑتے ہیں اور پھر ہر وقت بچوں پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔ صراط مستقیم اور منزل مقصود لازم وملزوم اور متعلقین کی یکسوئی۔ اختصار و اجمالا تو والد کی خدمات کچھ ایسے ہی بیان کی جا سکتی ہیں لیکن اس سارے معاملے کی تفصیل بیان کرنے کے لئے بہت وقت درکار ہے اور ہمارے پاس وقت کم ہے۔ وقت کی کمی کی اگر بات کی جائے تو یہ مسئلہ تو ہر والد کو درپیش ہوتا ہے کیونکہ اس کے ذمے ایک کام لگا دیا گیا ہے اور اس کام کی تکمیل کے لئے اس کے پاس بھی محدود وقت ہوتا ہے اور یہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا ٹیسٹ ہوتا ہے۔ ایسے ٹیسٹ میں کامیابی کی صورت میں اس نے کہانی کا مرکزی کردار بن کر زندہ رہنا ہوتا ہے۔ توجہ، فکر، سنجیدگی، دانائی، فہم وفراست اور بصیرت کی اشد ضرورت اور ان ساری چیزوں کا شعوری احساس۔ احساس ذمہ داری انسان کو سنجیدہ بنا دیتا ہے اور کوئی بھی کام اگر سنجیدگی سے کیا جائے تو سکسس ریٹ سو فیصد ہوتی ہے۔ گومگو کی حالت میں رہنے والے لوگ زندگی کی دوڑ میں پیچھے بلکہ بہت ہی پیچھے رہ جاتے ہیں اور بالآخر پچھتاوا اور وہ بھی کب تک جب تک سانس چلتی ہے قبر کے معاملات یا تو اللہ جانتا ہے یا پھر اللہ ہی جانتا ہے۔ کشف قبور کے بارے میں سنتے رہے ہیں لیکن کسی مائی کے لعل نے میری عمر میں دعوے کے ساتھ کوئی ٹھوس بات کبھی نہیں کی ہے۔ واقفان حال بہتر رائے دینے کی پوزیشن میں ہیں۔تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر کی جانے والی بات کو کافی حد تک مستند اور معتبر قرار دیا جا سکتا ہے اور ایک بیٹے کی حیثیت سے میں اپنے والد محترم کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں۔ ان کے جذبات واحساسات اور ان کا بچوں کی تربیت کا طریقہ کار۔ شاید دنیا کے والدین اس سلسلے میں ایک ہی پچ پر کھیلتے ہیں تاہم ان کا طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے۔ میرے والد محترم کی ساری زندگی ایک ہی خواہش رہی کہ میں بڑا آدمی بن جاوں اور اس کام کی تکمیل کے لئے انہوں نے جو جو کچھ کیا اس کو ناقابل بیان کا لفظ استعمال کرکے قارئین کو سمجھانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اور میں نے ان کی خواہش کے راستے میں جتنے روڑے اٹکا سکتا تھا وہ اٹکائے۔ کہاں میں اور کہاں ان کی بصیرت، سوچ، فکر، تدبیر اور لائحہ عمل۔ میں نے تو منہ کی کھائی اور وہ مجھے افسر بنانے میں کامیاب ہو گئے پھر ان کا وقت ختم ہو گیا اور جاتے جاتے وہ یہ ضرور بتا گئے کہ اگر ایک افسر پبلک سروس اور سوشل ورک کرتا ہے تو آنے والے دنوں میں معاشرہ اس کو بڑا آدمی لکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور یہی ان کی آخری خواہش تھی کہ میں اپنے آپ کو نہیں بلکہ لوگ مجھے بڑا آدمی کہیں۔ 19 ستمبر 1995 والد محترم دار فانی سے کوچ کرگئے اور ہم بہن بھائی یتیم ہو گئے۔ ایک میری زندگی کا منفرد اور خوبصورت دور تمام ہوا۔ سائے،محبت، محسن، مربی، دوست اور شفقت پدری سے محروم ہو گیا۔ ابا کہنے سے محروم ہوگیا اور ابا حضور مرحوم کہلائے جانے لگے۔ ان کی زندگی اور سوشل ورک اور راغب الی اللہ رہنے کی عادت۔ ایسے لوگ مرتے نہیں بلکہ ان کی منتقلی ہوتی ہے اور وہ نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں اور خواب اور خیال کی دنیا کے مستقل مکین بن جاتے ہیں اور متعلقین سے ہم کلام بھی ہوتے ہیں لیکن عالم رویا میں۔ ان کا اس دنیا میں بدنی طور پر موجود ہونا اپنی اولاد اور دوست احباب کے لئے کتنا اہم، ضروری اور مفید ہوتا ہے۔ راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے۔ ایک ایسا نقصان جس کی تلافی ناممکن اور ایک ایسا خلا جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ صبر اور پھر بس صبر۔ مہر علی ایہہ جھوک فناہ دیقائم دائم ذات خدا دی 19 ستمبر 2025 کا دن اور ان کو ہم سے بچھڑے کئی سال گزر گئے۔ آنکھوں کی کیفیت بقول راقم الحروفاکھاں نوں میں کنج سمجھاواںدل نوں تاں سمجھا لیا اییہاں سمجھانے بجھانے کا باب مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے۔ ذکر چھڑا نہیں اور آنکھوں نے چھم چھم برسنا شروع کردیا ہے۔ عقل دلیل اور منطق اپنی جگہ اور بے بسی ہی بے بسی۔ آج بھی ابا ابا کہنے کو جی چاہتا ہے اور ابا نے تھک کے دشت میں خیمے لگا لیئے ہیں اور شہر خموشاں کی شہریت اختیار کرلی ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں آواز آتی نہیں ہے بلکہ آواز کو محسوس کیا جاتا ہے۔ اور پھر یادوں کے دریچے کھل جاتے ہیں اور ان دریچوں میں جھانک کر اپنا رانجھا راضی کیا جا سکتا ہے۔ اے کائنات ارض وسما کے خالق ومالک! ان کی خواہش مذکور کہ میں بڑا آدمی بن جاوں اس خواہش کو شرف قبولیت عطا فرما اور میرے بارے اس لفظ کو زبان زد خاص و عام کردے۔ اس مرحلہ پر اندر سے آواز آئی ہے کہ دعا اور دوا دونوں ضروری ہیں اٹھو اور خلق خدا کی خدمت پر دن رات کمر بستہ ہو جاو۔ آپ کے والد گرامی کا خواب خود بخود شرمندہ تعبیر ہو جائیگا اللہ کی شفقت تو پہلے ہی آپ کے ساتھ ہے ہاں آپ کو مشتاق بننا ہوگا
تیرے بن مشتاق مجھے تو
سونا سونا گھر لگتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں