دنیا بھر میں خوراک کا ضیاع ایک سنگین اور تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے جس کے صحتِ عامہ اور ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے ضائع ہونے والی تمام غذائی اشیا کے وزن کا اندازہ 1.3ارب ٹن سالانہ لگایا گیا ہے جبکہ اس کی خوردہ قیمت ایک ٹریلین ڈالر تک جاپہنچتی ہے۔ اگر ضائع ہونے والی تمام غذائی اجناس اور خوراک کو انسان کے استعمال میں لایا جائے تو دنیا میںایک شخص بھی بھوکا نہ سوئے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریبا 80کروڑ 50لاکھ افراد بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ مقدار دنیا میں پیدا کی جانے والی مجموعی خوراک کا ایک تہائی حصہ ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں میں خوراک کے ضیاع کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، تاہم ان کے اسباب اور اثرات میں فرق موجود ہے۔ خوراک کے ضیاع کا مطلب صرف وسائل کی بربادی نہیں بلکہ انسانی صحت، معیشت اور ماحول پر بھی اس کے مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کا سدباب کرنا ناگزیر ہے۔جب ضائع شدہ خوراک کو کچرے کے ڈھیروں میں پھینک دیا جاتا ہے تو وہ گلنے سڑنے لگتی ہے۔ اس دوران مختلف زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں جیسے کہ میتھین، ہائیڈروجن سلفائیڈ، کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹرس آکسائیڈ۔ یہ ساری گیسیں فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں جو انسانی صحت کے لیے خطرناک حد تک نقصان دہ ہیں۔ اس کے ساتھ مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہے جیسا کہ دمہ، برونکائٹس اود الرجی وغیرہ ۔ ایسے علاقوں میں جہاں کچرا ٹھکانے لگانے کا موثر انتظام نہیں ہوتا، وہاں بدبو اور فضائی آلودگی رہائشیوں کو زیادہ متاثرکرتی ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق ان زہریلی گیسوں کا انسانی اعصابی نظام اور ذہنی صحت پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ بدبو دار فضا میں رہنے والے افراد میں سر درد، ذہنی دبا، نیند کی کمی اور چڑچڑاپن جیسی علامات زیادہ دیکھنے میں آتی ہیں۔ ایک سائنسی تحقیق کے مطابق ایسے علاقوں کے رہائشیوں میں نیند کی کمی اور مزاج میں بے چینی کے امکانات 40 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق آلودہ فضا میں سانس لینا دل کی بیماریوں، فالج اور پھیپھڑوں کے کینسر جیسے امراض کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ضائع شدہ خوراک کے ڈھیروں سے خارج ہونے والی بدبو نہ صرف انسانی زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ جانوروں اور پرندوں کی زندگی بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔ کچرا ڈمپنگ ایریاز میں بدبو، زہریلی گیسوں اور گندگی کی وجہ سے جنگلی حیات متاثر ہوتی ہے اور قدرتی ماحولیاتی نظام میں خلل آتا ہے۔ اس کے علاوہ زیر زمین پانی بھی آلودہ ہوتا ہے کیونکہ کچرے سے نکلنے والا زہریلا رس زمین میں جذب ہو کر پانی کے ذخائر کو متاثر کرتا ہے۔خوراک کا ضیاع کیڑوں اور بیماریوں کے پھیلا کا بھی باعث بنتا ہے۔ گلی سڑی خوراک مکھی، مچھر، چوہے اور دوسرے کیڑے مکوڑے جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ کیڑے بیماریاں پھیلانے والے جراثیم ساتھ لے کر رہائشی علاقوں میں منتقل کرتے ہیں اور ہیضہ، ڈینگی، ملیریا اور دیگر وبائی امراض کا باعث بنتے ہیں۔ خاص طور پر گندے پانی میں پھیلنے والے جراثیم ہیضہ اور پیچش جیسی خطرناک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں جن سے اموات کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔خوراک کے ضیاع کا دوسرا بڑا اثر غذائیت پر پڑتا ہے۔ ضائع ہونے والی خوراک میں عموما وہ غذائیں شامل ہوتی ہیں جو وٹامنز، منرلز، پروٹین اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور ہوتی ہیں جیسے کہ تازہ پھل، سبزیاں، دودھ، گوشت اور سمندری خوراک۔ ان اشیا کے ضیاع کا مطلب ہے کہ انسانی جسم کو درکار اہم غذائی اجزا کی فراہمی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ خوراک اور زراعت کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق، دنیا میں جتنی خوراک ضائع کی جاتی ہے وہ دو ارب سے زائد افراد کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے دیکھا جائے تو خوراک کے ضیاع کا عمل زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ضائع ہونے والا یہ پانی یورپ کے سب سے بڑے دریا وولگا کے سالانہ پانی کے بہائو کے مساوی ہے، جبکہ اس پر صرف ہونے والی توانائی 3.3ارب میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتی ہے۔ مزید برآں، جب یہ کھانا بدقسمتی سے کوڑے دانوں میں پہنچنے کے بعد گلنا اور سڑنا شروع ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں میتھین گیس پیدا ہوتی ہے، جو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے زیادہ خطرناک ہے۔ اگر ہم کھانے کا ضیاع روک دیں تو فوڈ سسٹم سے پیدا ہونے والی تقریبا 11فیصد گرین ہائوس گیسز کے اخراج کو روکا یا بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ صرف امریکا میں، ضائع شدہ کھانوں سے 3کروڑ 70لاکھ کاروں کے مساوی گرین ہائوس گیس خارج ہوتی ہے۔ اگر ضائع ہونے والا کھاناکوئی ملک ہوتا تو امریکا اور چین کے بعد وہ گرین ہائوس گیسز خارج کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہوتا۔ضائع شدہ خوراک جب گلتی سڑتی ہے تو میتھین گیس پیدا ہوتی ہے جو گرین ہاس گیسز میں شامل ہے اور گلوبل وارمنگ کا باعث بنتی ہے۔ہہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے اہداف 12 کے تحت خوراک کے ضیاع کو 2030 تک آدھا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ہر سال 30 ملین ایکڑ زرعی زمین ایسی پیداوار کے لیے استعمال ہوتی ہے جو بعد میں ضائع کر دی جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف پانی، کھاد، مزدوری اور توانائی کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ زمین کی زرخیزی بھی متاثر ہوتی ہے۔ غذائی ضیاع کی وجہ سے زمین کی ساخت خراب ہو جاتی ہے جس سے آئندہ زرعی پیداوار متاثر ہو نے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ خوراک کے ضیاع کا ایک بڑا سبب شہری زندگی میں صنعتی ترقی اور صارفیت کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ ریستورانوں، شادی ہالز، ہوٹلوں اور گھروں میں ضرورت سے زیادہ کھانا بنانا اور پھر ضائع کر دینا ایک عام عادت بن چکی ہے۔ لوگ بچا ہوا کھانا دوبارہ کھانے کو معیوب سمجھتے ہیں اور مارکیٹ میں تازہ کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق دنیا میں ہر فرد روزانہ اوسطا ایک پانڈ خوراک ضائع کرتا ہے۔ معا شی حوالے سے بھی خوراک کا ضیاع ملک و قوم کے لیے بڑا نقصان ہے۔ ہوٹلوں، شادی ہالوں اور اجتماعات میں لاکھوں روپے مالیت کا کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر یہی کھانا مستحق افراد تک پہنچا دیا جائے تو ملک میں بھوک اور غذائی قلت کے مسائل میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ مختلف ریسرچ رپورٹس کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں 40 فیصد خوراک صرف خراب منصوبہ بندی اور ذخیرہ کرنے کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔خوراک کے ضیاع کا ایک سماجی پہلو بھی ہے۔ جب ایک طرف لاکھوں لوگ بھوک کا شکار ہوں اور دوسری طرف بڑی مقدار میں کھانا ضائع کیا جائے تو یہ معاشرتی ناانصافی کی بدترین مثال ہے۔ اس لیے معاشرے کے ہر فرد اور ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت، رفاہی اداروں اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ خوراک محفوظ کرنے، ری سائیکلنگ، کمپوسٹنگ اور کھانے کی مناسب تقسیم کے طریقے اپنانے ہوں گے۔ ریستورانوں اور ہوٹلوں میں بچا ہوا کھانا مستحق افراد تک پہنچانے کے لیے سہولیات اور نظام بنایا جانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ ضائع شدہ خوراک سے کمپوسٹ کھاد بنانے کے پلانٹ قائم کرے تاکہ ماحول پر منفی اثر کم ہو اور زرعی شعبے کو فائدہ پہنچے۔عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہمات اور تعلیمی پروگرامز کی اشد ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا اور مذہبی رہنما بھی اس معاملے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہر شخص کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خوراک اللہ کی نعمت ہے اور اس کا ضیاع گناہ ہے۔ اگر ہم سب خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے اپنی اپنی سطح پر اقدامات کریں تو صحت مند اور صاف ستھرا معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔




