دسمبر میں سکولوں کی نجکاری کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا

لاہور (بیوروچیف) پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے دسمبر میں اسکولوں کی نجکاری کے تیسرے مرحلے کا آغاز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت 4,500پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول نجی آپریٹرز کو دے دیے جائیں گے۔ اس سے پہلے صوبے بھر کے 12,500سرکاری اسکو ل پہلے ہی نجی شعبے کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔نئے منصوبے کے مطابق پنجاب میں وہ تمام سرکاری اسکول جن میں طلبہ کی تعداد 100 یا اس سے کم ہے، نجی اداروں کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو تازہ ترین فہرستیں فوری طور پر جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ان اسکولوں میں تعینات اساتذہ کو قریبی اسکولوں میں منتقل کیا جائے گا، یا سرپلس پول میں شامل کیا جائے گا، اس بار پہلی مرتبہ ہائی اسکول بھی نجکاری کے عمل میں شامل کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب نجکاری کے اس فیصلے پر مختلف اساتذہ تنظیموں نے سخت ردعمل دیا ہے۔صدر ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن بشارت اقبال راجہ، مرکزی سیکرٹری پنجاب SES ٹیچرز یونین محمد شفیق بھالووالیہ، سیکرٹری جنرل پنجاب ٹیچرز یونین رانا لیاقت کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں اور فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔اساتذہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ نجکاری کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی ریشنلائزیشن کا عمل تعلیم کے شعبے کو شدید متاثر کرے گا، سرکاری اسکول نجی شعبے کے حوالے کرنے سے فیسوں میں اضافہ ہوگا اور پہلے سے کمزور سرکاری نظام تعلیم مزید بگڑ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں