فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) تھانہ سٹی گوجرہ نے اذان سے قبل درود شریف پڑھنے پر امام مسجد کیخلاف مقدمہ درج کر لیا، مذہبی تنظیمیں اور شہری سراپا احتجاج’ شہر بھر میں سبزی’ پھل فروشوں کو ریڑھیوں پر سپیکر لگا کر فروخت کرنے پر کھلی چھٹی جبکہ مساجد میں سپیکر پر اذان سے قبل درود شریف پڑھنے پر مقدمہ درج کرنا سراسر زیادتی ہے۔ تفصیل کے مطابق تھانہ سٹی گوجرہ کے اے ایس آئی سخی سرور بابر نے بتایا کہ وہ دوران گشت حفیظ پارک گوجرہ پہنچا تو جامع مسجد غوثیہ رضویہ کا امام مسجد آصف محمود مصطفائی سکنہ 96 ج ب اذان سے قبل سپیکر چلا کر صلوٰة وسلام پڑھ رہا تھا، وہ پولیس پارٹی کے ہمراہ موقع پر پہنچا تو امام مسجد کے گیٹ کو تالہ لگا کر فرار ہو گیا۔ مذکورہ امام مسجد نے بلند آواز میں سپیکر کا ناجائز استعمال کیا جس پر اُس نے مذکورہ امام مسجد کے خلاف پنجاب سائونڈ سسٹم ریگولیشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ جس پر مذہبی تنظیمیں اور اہل علاقہ سراپا احتجاج بن گئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بازاروں’ گلی محلوں میں سبزی’ پھل فروش ریڑھیوں پر سپیکر لگا کر بلند آواز میں اشیاء فروخت کرتے ہیں ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں جبکہ مسجد میں اذان سے قبل سپیکر پر درود شریف پڑھنے پر مقدمہ درج کر دیا گیا جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی علم الدین ملغانی’ ایس ایچ او تھانہ سٹی گوجرہ’اے ایس آئی سخی سرور بابر اور دیگر انتظامیہ کو ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے آنکھیں کھول کر سائونڈ سسٹم ایکٹ پڑھ لینا چاہئے تھا کہ اذان سے پہلے درود شریف پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟۔ ایکٹ میں صاف لکھا ہے کہ اذان سے پہلے اور بعد میں درود شریف پڑھ سکتے ہیں۔ آر پی او ذیشان اصغر کے حکم پر ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ نے تحقیقات کا حکم دے دیا۔




