قائد کا پاکستان اور ہم لوگ

علامہ اقبال کا خواب، تعبیر پاکستان اور قائد اعظم کا پاکستان۔ 1930خطبہ آلہ آباد کے نتیجے میں منزل کا تعین کیا جانا جبکہ مسلمان قوم کا تذبذب کا شکار ہونا۔ سوچ کہ ہندوئوں کے ساتھ مل کر انگریزوں کو نکال باہر کریں گے اور اس کے بعد کیا کریں گے۔ ہندو مسلم اتحاد۔ کچھ مسلمان گہری سوچ میں گم ہیں اور وہ حقیقی معنوں میں گم سم ہیں اور پھر دوقومی نظریہ۔ حق اور مخالفت میں دلیلیں اور دلیلوں کے بھی انبار۔ آن گراونڈ صورتحال کی بنیاد پر فیصلے صائب ہوتے ہیں اور یوں فیصلے کرنے والے صاحب الرائے ہوتے ہیں۔ 1937کی کانگریس وزارتیں اور ہندو ذہنیت کا مکمل طور پر نقاب اترنا۔ نقاب ہی تو اصل چیز ہے جس نے سب کو چھپایا ہوا ہوتا ہے۔ اقتدار بڑی خوفناک چیز ہے۔ہندوئوں نے اقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا اور ایسا کیا کہ خدا کی پناہ۔ چھوٹی چھوٹی بات پر جھوٹے پرچے اور ان پرچوں کی وجہ سے گرفتاریاں۔ واردھا، ودیا مندر سکیم، ترنگا جھنڈا، گائے کے ذبح کرنے پر پابندی، بندے ماترم ترانہ، انتظامیہ اور عدالتی امور میں مداخلت وغیرہ وغیرہ۔ مسلمانوں کا تابناک ماضی اور ہندووں کے حال میں گن گن کر بدلے لینے کے ناپاک عزائم۔ یہ وہ حالات ہوتے ہیں جہاں قوم اور لیڈر دونوں کا امتحان ہوتا ہے۔ اپنی اپنی بولی بولنے والی قیادت ادھر ادھر اور ایک محمد علی جناح منظر عام پر۔ مسلمان اکثریتی علاقوں کا دورہ۔ مسلمانوں میں آزادی کا شعور بیدار کرنے کی زبردست کوشش۔ متعصب ہندو قیادت کو واضح پیغام دینے کا خوبصورت انداز اور انگریز حکومت کو کانگریسی حکومتیں ختم کرنے پر قائل کرنا۔ کام تینوں اتنے آسان نہیں تھے لیکن عزائم جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو۔ قائد اعظم بالآخر کامیاب ہوتے ہیں اور مذکورہ وزارتیں 22دسمبر 1939 کو انجام کو پہنچیں۔ یوم نجات اور قوم کا ذہنی طور پر پوری طرح تیار ہو جانا اور اپنے قائد کے پیچھے کھڑے ہوجانا۔ 23 مارچ 1940 منٹو پارک۔ مسلمانوں کا جم غفیر اور غیر متزلزل سفیر۔ جس کی آواز میں گرج تھی۔ سوچ میں پوری کلیریٹی بھی تھی اور پختگی بھی تھی اور روح میں اخلاص اور محبت کی خوشبو۔ ہندوئوں اور انگریزوں دونوں کو ٹارگٹ کرنا۔ بہت ہی مشکل ٹارگٹ۔ یونینسٹ پارٹی اور وہ بھی مسلمانوں کی پارٹی۔ آستیں کے سانپ۔ مسلمان مذہبی قیادت ڈبل مائنڈڈ اور دبلا پتلا روشن خیال قائد اعظم۔ لاہور کی فضا نے دیکھا بلکہ زمین وآسماں نے نظارہ کیا مسٹر جناح کی آواز پر مسلمانوں کی اکثریت نے لبیک کہا اور یوں قرارداد لاہور منظور ہوئی۔ ہندو قیادت کے رد میں قائد کا ٹھوس اور مدلل جواب “قرارداد لاہور ہی قرارداد پاکستان ہے”۔ اور یوں ایک ہی نعرہ “لے کے رہیں گے پاکستان اور بن کے رہے گا پاکستان”۔ کرپس مشن کا آنا جانا۔ کیبنٹ مشن کا دورہ ہندوستان اور مسلمانوں کے وکیل کے مدلل دلائل اور ان دلائل کا کوئی توڑ نہیں ہے اور سب کو بالآخر تسلیم کرنا پڑا کہ مسلمانوں میں سیاسی قیادت کے لحاظ سے قائد اعظم محمد علی جناح رح کا کوئی جوڑ نہیں۔ انتظار کی گھڑیاں ختم جوڑ توڑ تمام ہوا اور 14اگست 1947کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ پاکستان زندہ باد اور قائد اعظم پائندہ باد۔پاکستان کے قیام کا مقصد تو پہلے ہی واضح کیا جا چکا تھا۔ اب اس نوزائیدہ ریاست کے خدوخال واضح ہونا باقی تھے۔14اگست 1947سے 11ستمبر 1948 بڑا ہی مختصر وقت۔ دانائی اور فہم وفراست کی ضرورت۔ چیلنج اور وہ بھی ان گنت۔ سب سے عہدہ برآ ہو کر سرخرو ہونا تھا۔ یہ کام بھی قائد نے کیا اور خوب کیا۔ سیاست دانوں پر قومی ترجیحات کو واضح کیا گیا اور ان سب کے سامنے اپنے آپ کو بطور ماڈل پیش کیا گیا۔ بیوروکریسی کو واضح پیغام دے دیا گیا کہ ان کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے اور وہ بھی بے لوث خدمت کرنا ہے۔ اکثریت اور اقلیت کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ کے تعین کا بھی ایک واضح پروگرام دے دیا گیا۔ مذہب اور ریاست کے بارے میں اپنا نقطہ نظر اپنی پہلی تقریر میں ہی واضح کردیا۔ اقلیتوں کے حقوق کی بات بھی کردی گئی۔ یوتھ ٹاپ پرائرٹی ہے اس بابت طلبا سے خصوصی ملاقاتیں کرکے ان پر ان کی ذمہ داریاں واضح کردی گئیں۔ کاروباری طبقہ اور کاشتکاروں میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے سلسلے میں بھی اپنا موقف پیش کیا گیا۔ حبیب بینک کے افتتاح کے دوران آنے والے دنوں میں معیشت کی اہمیت پر زور دے کر اپنے پیش رووں کو متنبہ کردیا گیا۔ آزادی کے سفر کے راستے میں تاحال حائل کانٹوں کی بھی نشاندہی کردی گئی اور کیا کیا نہ بتایا قوم کوہمارے قائد نے۔ بالآخر کام کام اور کام کا بتا کر حجت تمام کردی۔ آج قائد اعظم محمد علی جناح رح ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن ان کے فرمودات اور ان کی خواہشات تقریبا ہم سب کو معلوم ہیں۔ اب ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں اور ان کا سب سے پہلے تو ہم سب کو شعوری احساس ہونا چاہیئے اور پھر ان کے عملدرآمد کے پروگرام کو نافذ کرنے کیلئے سنجیدگی ہونی بہت ضروری ہے۔ 1947سے 2025تک کا سفر۔ جو گزرا سو گزرا۔ بحث تمحیص کا نتیجہ الجھاو، تناو،الزام اور دشنام۔ حتمی نتیجہ مایوسی اور ڈپریشن ۔ زندہ قوم پیچھے دیکھ کر سبق سیکھتی ہے اور حال میں ایک لائحہ عمل ترتیب دیتی ہے اور مستقبل میں آگے دیکھ بھال کر منزل پر پہنچنے کا تحرک کرتی ہے۔ آج کا دن خود احتسابی کا دن۔ اپنے ہی ضمیر کی عدالت میں پیش ہونے کا دن۔ عدالت مذکور سے جاری ہونے والے فیصلے کے عملدرآمد کا دن۔ فہم وفراست اور دانائی کی ضرورت۔ دوش، جوش اور ہوش میں فرق کرنا ہوشمندی۔ سابقے لاحقے کی تدفین کا وقت۔ گلوبلائزیشن کے ثمرات سے مستفید ہونے کا عہد اور مصمم ارادہ اور اس ارادے کی تکمیل کے لئے ہر چیز کا داو پر لگانا۔ ہندوستان کا دشمنی میں اتنا گر جانا کہ مرید کے اور بہاولپور میں خون کی ہولی کھیلنا اس سارے تناظر میں پاکستانیوں کا ہوش میں آنا اور یوں پوری دنیا میں اپنی عسکری طاقت کے بل بوتے پر چھا چھو جانا۔ آفرین ہے بھائی۔ ہم واقعی زندہ قوم ہیں اور ہم پائیندہ قوم ہیں۔ اس پس منظر کے تحت اب ہم نے قائد کے پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہے اور بہت ہی آگے لے کر جانا ہے۔ وقت بہت کم ہے اور منزل بہت ہی دور ہے۔ تازہ دم ہونے کی ضرورت ہے۔ زاد راہ اکٹھا کرنے کیلئے تحرک کرنا ضروری ہے اور مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ اختلافات سپردخاک اور دشمنوں کے منہ میں بھی خاک۔ ہمارا سفر کٹھن سفر اور مسلسل سفر۔ اس سفر میں کچھ بھی ہو سکتا ہے حوصلہ اور ہمت ہمارا شعار اور پختہ کردار۔ کامیابی کی ضمانت۔ مایوسی گناہ ہے۔ قائد اعظم دوبارہ نہیں آئینگے اب ہم قائد کے وارث ہیں ہم نے ہی اس ورثے کی حفاظت کرنی ہے۔ باہمت اور باصلاحیت سیاسی قیادت، مضبوط اور آزمودہ فوج، باصلاحیت سول سروس، مضبوط ادارے ، زبردست قدرتی وسائل اور پرجوش اور ہوشمند قوم۔ کیا کچھ نہیں ہے ہمارے پاس۔ کام کام اور کام۔ قائد اعظم کی آواز ہمارے کانوں میں آج بھی گونج رہی ہے۔ آو مل کر اس ملک کو تابندہ ودرخشندہ بناتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں