ہیپی نیو ایئر……2026

نئے سال کا سورج طلوع ہوچکا ہے اور ہیپی نیو ایئر کے پیغامات کا سلسلہ تاحال جاری وساری ہے۔ ہر طرف خوشی کا سماں۔ ہر چہرہ خوش وخرم اور ہر ذی روح کی گویا جان میں جان آگئی ہے۔ جان ہے تو جہان ہے۔ علامہ اقبال رح ایک نیا جہان پیدا کرنے کی دعوت فکر دے گئے ہیں۔ سال کے شروع ہوتے ہی دعوتوں کا بھی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ دعوت فکر اور دعوت خوراک میں بہت فرق ہوتا ہے۔ خوراک کے نتیجے میں انسان موٹاتازہ ہوجاتا ہے اور کھا پی کر گہری نیند سوجاتا ہے تاہم سونے کے نتیجے میں خواب دیکھنے کا امکان ہوتا ہے اور دعوت فکر کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ کرنے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے اور انسان لائحہ عمل ترتیب دیتا ہے. اس کے مطابق کچھ کرنے کے لئے سب سے پہلے پیچھے مڑ کر دیکھنا پڑتا ہے پھر دیکھ بھال کر آگے قدم رکھنا اور قدم بڑھانا وقت کی ضرورت بن جاتا ہے۔ یقیننا نئے سال کی آمد پر ہم بہت ہی خوش ہیں لیکن اس سوال کا جواب کیا ہمارے پاس ہے کہ گذشتہ سال کے گوشواروں نے ہمیں کیا سبق دیا ہے اور کیا ہم سبق سیکھنے کے عادی بھی ہیں یا آگے دوڑ پیچھے چوڑ ہمارا شعار۔ لمحہ فکریہ۔قابل غور۔ اہم ضرورت اور اس کے بعد سوچ، فکر اور تدبر کی ضرورت ہے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔دنیائے عالم میں 2025 کے دوران بے شمار واقعات رونما ہوئے بلاشبہ سارے برے تو نہیں ہوئے ہونگے کچھ اچھے اور کچھ خوفناک۔ خوف کا خاتمہ اور امن کو یقینی بنانا اقوام متحدہ کا بنیادی کام ہے۔ اقوام متحدہ جوں کا توں۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں بنام وغیرہ کی آوازیں اور تاریخ پر تاریخ۔ کوئی بین الاقوامی غنڈہ اور بدمعاش بظاہر کیفر کردار کو نہیں پہنچ سکا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے ترقی پذیر ممالک کے مسائل پر باتیں تو خوب کی ہیں لیکن موخرالذکر ممالک میں غربت، بیماریوں، جہالت، آلودگی جیسے مسائل نے ہم سب کا جینا دو بھر کردیا ہے اور متذکرہ بالا سب اقوام کی “میں میں” “توں توں” بدستور جاری اور ویسے بھی دنیا کے دستور ذرہ برابر آگے پیچھے نہیں ہو سکے ہیں۔ بڑا وسائل پر مکمل طور پر آج بھی قابض ہے اور چھوٹا رو دھو کر چپ ہوجاتا ہے۔ مالیاتی ادارے بظاہر بڑے ہی متحرک رہے لیکن جمع تفریق برابر برابر۔ایڈہاک ازم۔ ماحولیاتی آلودگی پر بہت باتیں ہوئیں لیکن ہم سب انسانوں کی تو باتیں ہی باتیں ہیں اللہ کام کرتا ہے۔ اس لئے ہم اوپر دیکھ رہے ہیں اور اوپر والے نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے کہ ثم استوی الی العرش۔ احباب فکرودانش جانتے ہیں کہ اوپر بیٹھ کر نیچے نظر رکھی جاتی ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ محترم و مکرم انسان کیا کررہا ہے۔ کیا وہ عہد الست کو سمجھا بھی ہے یا پھر وہ سب چیزوں کو سطحی طور پر لے رہا ہے۔ انسان کو کرہ ارض پر آئے کئی سوسال ہوگئے ہیں اور اب تک اس کو قالو بلی کی حکمت سمجھ جانی چاہیئے تھی۔ بہر حال وہ سمجھا ہے یا نہیں البتہ اس نے 2025 میں سوشل میڈیا پر یہ بحث ضرور چھیڑ دی ہے کہ خدا کا وجود ہے بھی یا کہ نہیں۔ اور بعض نام نہاد روشن خیال مقررین کے خیال کے مطابق ماضی میں اللہ کا نام لینے والے زیادہ تر مشکوک لوگ تھے۔ پہلے ہی بھل بھلئے میں پڑی مخلوق کو مزید کنفیوز کرنے میں کیا حرج ہے۔ یا رل جائیگی یا پھر سوچنے پر مجبور ہو جائیگی۔ دونوں صورتوں میں ہم سب نے ایک نہ ایک دن اس کائنات کو چھوڑ کر جانا ہے کہاں جانا ہے یہ تو معلوم ہونا چاہیئے۔ معلوم اور نامعلوم میں فرق کرنا ہی ہم سب کی ذمہ داری ہے اور ہم سب ذمہ دار شہری ہیں اسی لئے تو دیہاتوں کو خیر باد کہہ کر شہروں میں آباد ہورہے ہیں اور شہروں کے مسائل کے بارے میں سوچ بچار کرنا بطور شہری ہمارا کام نہیں ہے یہ تو حکومت وقت نے کرنا ہے اور حکومت آئی ایم ایف سے مل کر یہ کام کرسکتی ہے ہمارے ٹیکس کے پیسے اول تو ہماری جیبوں سے درآمد نہیں ہوتے ہیں اور اگر چند سکے منتقلی کے عمل سے گزر بھی جائیں تو کرپشن زندہ باد۔ کیا کریں دیہاتوں میں نہ صاف پانی ہے۔ نہ تعلیم اور صحت کی سہولتوں کا مناسب انتظام اور پھر ہر سال سیلاب کا خطرہ۔ اس کے علاوہ بھی ان گنت خطرے ہیں ہم دیہاتیوں نے تو کبھی بتانا مناسب ہی نہیں سمجھا ہے۔ ہماری چپ ہی بھلی ہے ان معاملات کا فیصلہ بھی ایک دن نیلی چھت والے کو کرنا ہے۔ عدالتیں بڑے بڑے معاملات نپٹا رہی ہیں اور چھوٹے معاملات کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ وقت کی بھی ایک اپنی اہمیت ہے اور پھر وقت اختیارات کا ادل بدل بھی کردیتا ہے جس کے نتیجے میں عدالت بھی برا مان کر بڑا فیصلہ کر سکتی ہے تاہم پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہر عدالت کے اوپر ایک بڑی عدالت ہے اور سب سے بڑی عدالت کے کھلنے کا ابھی وقت نہیں آیا ہے۔ وقت آنے پر دیکھا جائیگا فوری طور پر ہیپی نیو ایئر اور کھاو پیو عیش کرو کل دیکھی جائے گی.گزرے ہوئے کل سے سبق سیکھنے والے اور آنے والے کل دیکھ بھال کر چلنے والوں کو آنے والا سال واقعی مبارک ہو۔ زندگی کی تین پرتیں ماضی حال اور مستقبل۔ سال آتے جاتے رہتے ہیں اور اسی آنے جانے میں زندگی کا حسن ہے اور اس حسن کو تدبیر سے مزید چار چاند لگائے جا سکتے ہیں۔ گذشتہ سال کے مسائل کی ایک فہرست تیار کی جائے اور وسائل کا ایک مکمل جائزہ اور یوں مسائل اور وسائل میں پایا جانے والا فرق۔ مسائل کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے اور وسائل کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ آئندہ کے دنوں کی کل کہانی یہی ہے لیکن اس کہانی کے اندر کی کہانی کو بھی بے نقاب کرنا ہوگا تب جا کر اصل بات سامنے آئے گی اور اصل اور نقل کے فرق کا پتہ چلے گا۔ فرق اور وہ بھی نہ مٹنے والا فرق۔ فرق تو بہرحال مٹانا ہونگے اور ایک دوسرے کے درمیان پیدا ہو جانے والے فاصلے ختم کرنا ہونگے۔ دور سے دیکھی جانے والی چیز کی ہیئت اور ہوتی ہے اور قریب سے چیزیں کچھ اور نظر آتی ہیں۔ نظر آنے والی چیزوں کی اہمیت کا بھی شعوری احساس ہونے کی ضرورت ہے اور پھر مصلحت نے ہمارا پچھلا سال ضائع کردیا ہے ہمارے پاس وقت بہت ہی کم ہے اور آنے والے سال کو گذشتہ سے پیوستہ کی بنیاد پر گزارنا ہوگا تب ہی جا کر ہیپی نیو ایئر کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا بصورت دیگر سوشل میڈیا اور پھر ٹک ٹاک۔ ہم زندہ قوم ہیں زندہ قوم ہونے کا ثبوت پیش کرینگے اور 2026 میں بہتر منصوبہ بندی کی بدولت دنیا والوں کو کوئی اہم کام کرکے دکھائیں گے اور جس طرح ہم نے 2025 میں ہندوپاک جنگ کے دوران اپنا ہونا بتایا ہے انشااللہ اس تسلسل کو اس سال بھی برقرار رکھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں