جوش جنوں اور نوجوان نسل

جوش جنوں میں کیا کیا کر جائیں گے ہم۔ یہ تو ہم نے شاید کبھی سوچا ہی نہیں ہے۔ ہم تو جوشیلے لوگ ہیں چھوٹی چھوٹی بات پر جوش میں آجاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے شورش برپا کردیتے ہیں۔ معاملہ تو سارا ہوش اور جوش کے درمیان فرق کرنے کا ہے۔ ہم تو آج تک اپنے اور غیر میں فرق نہیں کرسکے ہیں بلکہ چھوٹے بڑے میں بھی تمیز نہیں کر پاتے اور اس کام کو کرنے کی بجائے بدتمیز ہو گئے ہیں۔ بڑے چھوٹے سے ڈرتے پھر رہے ہیں اور چھوٹے بڑوں کی کلاس لے رہے ہیں۔ اس کلاس میں اخلاقیات کے مضمون پڑھائے جانے کی قطعا اجازت نہیں ہے اڑوس پڑوس کے لوگوں کو بھی بڑا ہی محتاط رہنا پڑتا ہے بلکہ اب تو خاموش ہی رہنا پڑتا ہے کیونکہ مثل مشہور ہے” عزت اپنے ہتھ ہوندی اے”۔ احتیاط کرنے والے ہمیشہ سرخرو ہوتے ہیں اور جوش میں آنے والے بظاہر ایک دوسرے سے مانوس ہوتے ہیں اور پھر مایوس ہو کر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں کچھ نہ کچھ کرنے کا باقاعدہ رواج نہیں ہے۔ ہم سب سے پہلے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر سب مل کر حکومت وقت کی طرف دیکھتے ہیں اور بالآخر ہم سب کو اوپر والے کی طرف دیکھنا پڑتا ہے جبکہ اوپر والے نے دنیا ہمارے حوالے کردی ہے۔ ہم ہیں کہ ہم نے اس کارجہاں دراز کو خوفناک حد تک پرخطر بنادیا ہے۔ کہیں بھوک افلاس کی وجہ سے، کہیں خواہشات کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے اور کہیں عشق معاشقی میں ناکامی کی وجہ سے خود کشیاں ہورہی ہیں۔ نوجوان افسروں کی خود کشیاں، طلبا وطالبات کی خود کشیاں، صاحبان حیثیت کی خود کشیاں، غریبوں مسکینوں کی خود کشیاں۔ موت اتنی ارزاں حالانکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔ ہمارا سوشل فیبرک اپنی نوعیت کا وکھرا اور ہم اپنی طرز کے مختلف لوگ ہیں۔ نفسیاتی تجزیے کی شدید ضرورت اور تجزیہ نگار اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں۔ بولی بھی لگنے کا ایک پراسیس ہے اور بولی کے ٹوٹنے کا بھی امکان ہوتا ہے اور ایسی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ہی تو معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور تجزیہ نگار ابا تبا بولنے لگتے ہیں یوں بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے اور ہر طرف مایوسی پھیل جاتی ہے مایوسی کے بعد کی سٹیج کو غیر یقینی صورتحال کہتے ہیں اب صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ آج کی لاجواب اور منفرد ایجاد نیٹ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ فی الحال ہم سب “ہل” گئے ہیں اور انہونی پر انہونی ہورہی ہے اور ہم سب مل کر بلنڈر پر بلنڈر کررہے ہیں اور بقول راقم الحروف(بلنڈر پر بلنڈر کررہے ہیں۔۔۔زمانے کو جو انڈر کررہے ہیں۔۔۔وہ حاوی ہیں مگر حاوی کے آگے۔۔۔بذات خود سرنڈر کررہے ہیں) تاہم محترم ٹرمپ کے کاغذوں میں سردست سرنڈر کا لفظ پوری طرح سے حذف کردیا گیا ہے۔ وہ اپنی طبیعت اور مزاج کے آدمی ہیں اور دنیا کو بھی اپنے حساب سے چلانا چاہتے ہیں۔ ان کی ہیومن رائٹس کی بھی اپنی تعریف ہے اور وہ امریکا کی تعمیر وترقی کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں حال ہی میں ان کے کارندوں نے وینزویلا پر شب خون مارا اور رات کے اندھیرے میں صدر اور اس کی بیوی کو گرفتار کرکے امریکہ میں لا کر پابند سلاسل کردیا۔ نتیجتاً کوئی کسی طرف سے بہت بڑا احتجاج یا ردعمل ندارند تاہم خوف وہراس کی فضا۔ طاقت کا برملا اظہار اور پوری دنیا کو میسیج۔ ویسے تو ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ناقابل برداشت۔ تاہم دنیا میں امن کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ بہادر کے اپنے انداز اور اپنے ہی ساز۔ دنیاکی واحد سپر پاور ہے اس لئے ایسا کرنے کی مجاز ۔ اقوام متحدہ کو تو خیر سانپ سونگھ گیا ہے تاہم چین اور روس جیسے ممالک کو بھی جان کے لالے پڑ گئے ہیں اور ایران میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ یہی تو واشنگٹن کے پردھان جی چاہتے تھے۔ سردست ہو کا عالم ہے۔ ہمت، جرات اور بہادری کا منفرد طریقہ کار اور جناب ٹرمپ کا اپنا طریقہ کار۔ ہمارا تو آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہماری نوجوان نسل ہے۔ جو کہ ایکس وائی زی سے ہوتی ہوئی الفا بیٹا تک پہنچ چکی ہے۔ بیٹا باپ کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے اور باپ کو اپنی دستار کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ سوال پر سوال اور مزے کی بات ہے ہر سوال کا جواب ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا ہے۔ بعض سوالوں کے جواب گول کرنا پڑتے ہیں اور بعض کو تو بالکل ہی گول مول کرنا پڑتا ہے اور اگر جواب مانگنے والا “میں ناں مانوں” کی پالیسی پر گامزن ہو تو پھر شور شرابا، تصادم اور بالآخر ڈیڈلاک۔ ڈیڈلاک ختم کرنے والے کو ہی لیڈر کہا جاتا ہے اور لیڈر سے بڑھ کر ڈائیلاگ کی اہمیت کون سمجھتا ہے۔ گذشتہ دنوں ایک تقریب میں موجودہ نوجوان نسل کے بارے میں زبردست بحث ہورہی تھی اور بحث بھی افراط تفریط کا شکار ہورہی تھی۔ ان حالات میں محترم مجیب الرحمن شامی صاحب کچھ یوں گویا ہوئے کہ ہر نسل کے اپنے مسائل ہوتے ہیں لیکن ہر نسل کے سارے افراد ایک جیسے نہیں ہوتے۔ مجموعی تاثر کی بنیاد پر رائے قائم کرلینا اور پھر پوری نسل سے مایوس ہوجانا یہ کسی طرح بھی دانائی اور دانشمندی نہیں ہے۔ چلو آج کی یوتھ سے بات کرکے دیکھتے ہیں۔ یہ ہے وہ سوچ اور فکر جس سے باپ بیٹے کو قریب لایا جا سکتا ہے اور اس طرح جوش اور ہوش کا درمیانی فاصلہ کم کیا جا سکتا ہے۔ فاصلے بڑھانے سے دوریاں ہوتی ہیں اور دوریوں کے نتیجے میں شکر رنجی اور پھر غیر یقینی صورتحال۔ ایسی صورتحال کا خاتمہ ترجیح نمبر ون ہونا چاہیئے کیونکہ ہمارا مستقبل ہمارا نوجوان ہیں۔ اور تابناک مستقبل سب کا خواب ہوتا ہے اور خواب کو سچ کر دکھانے کے لئے کچھ نہ کچھ تو کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر آج کے نوجوان کے ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرے میں لیپ ٹاپ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ہاں قومی سوچ پیدا کرنے کے لئے صاحبان عقل وفکرودانش کو دعوت فکر دینا ہوگی اور اس کو مایوسی سے نکالنے کے لئے فری ایجوکیشن دینا ہوگی۔ کوالٹی ایجوکیشن کا فقدان اور آج کا نوجوان ڈگریاں اٹھائے دربدر گھوم پھر رہا ہے ایسے تو نہ وہ “گھوم” چکا ہے۔ لمحہ فکریہ۔ بعد از تکمیل تعلیم اس کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹرشپ کے آپشن پر جانا ہوگا اس سے مایوس ہونے کی بجائے اس کی بات کو سننا ہوگا اس کے بارے میں سرپکڑ کر بیٹھنے کی بجائے اس کی آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے اور اس کو درست سمت کا تعین کرکے دینے کی ضرورت ہے۔ اس کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ بقول شیخ سعدی جس نے اپنے باپ کی انگلی چھوڑی اس کو پھر زندگی کی بھیڑ میں تنہا کھڑے ہوکر رونا پڑتا ہے اور زیادہ دیر رونے والوں کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور دھندلا جاتی ہیں۔ بینا لوگ حالات کو بھانپ جاتے ہیں اور صاحبان نظر تو ویسے ہی دیکھ لیتے ہیں اور اپنے آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیتے ہیں پھر ترتیب سے کام کرتے کرتے آگے بڑھتے ہیں اور ایک نہ ایک دن آگے بڑھ کردنیا کو جنت نظیر بنا دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں