سیلاب کے موسم میں سانپ سے بچاؤ،عوامی آگاہی کی ضرورت

پاکستان میں سیلاب اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں شدید بارشیں کئی علاقوں کو متاثر کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے گھر ہو جاتے ہیں۔ سیلاب کے ساتھ صرف پانی اور تباہی ہی نہیں آتی بلکہ کئی ایسے خطرات بھی جن پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ انہی میں سے ایک بڑا اور خاموش خطرہ سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہے، جو ایک سنگین صحتِ عامہ کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔سیلاب کے دوران جب پانی کھیتوں، گھروں اور جنگلات میں بھر جاتا ہے تو سانپ اپنی پناہ گاہوں سے نکل کر خشک جگہوں کی تلاش میں انسانی آبادیوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس وجہ سے دیہات، عارضی کیمپوں اور نشیبی علاقوں میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اکثر لوگ ننگے پائوں چلتے ہیں یا پانی میں چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھ نہیں پاتے، جس سے سانپ کا اچانک کاٹ لینا عام ہو جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے کیونکہ وہاں طبی سہولیات محدود ہوتی ہیں۔ کئی متاثرہ افراد بروقت ہسپتال نہیں پہنچ پاتے، جس سے جان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بعض لوگ آج بھی توہمات یا گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرتے ہیں، جو قیمتی وقت ضائع کرنے کا سبب بنتے ہیں اور مریض کی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔عوامی آگاہی کی کمی اس مسئلے کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سانپ کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر کیا کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، زخم کو کاٹنا، زہر چوسنا یا سخت رسی باندھنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، مگر یہ طریقے اب بھی عام ہیں۔ درست طریقہ یہ ہے کہ متاثرہ شخص کو پرسکون رکھا جائے، متاثرہ عضو کو حرکت نہ دی جائے اور فوراً قریبی ہسپتال پہنچایا جائے جہاں اینٹی وینم (زہر کا علاج)دستیاب ہو۔بچائو کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔ سیلاب کے دوران جوتے یا ربڑ کے بوٹ پہننا، رات کے وقت ٹارچ کا استعمال کرنا، بستر کو زمین سے اونچا رکھنا، گھروں اور کیمپوں کے اردگرد صفائی رکھنا اور کچرا جمع نہ ہونے دینا سانپوں کو دور رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح اناج اور خوراک کو ڈھک کر رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ چوہے نہ آئیں، کیونکہ چوہے سانپوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔حکومت اور صحت کے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اینٹی وینم کی وافر مقدار فراہم کریں اور موبائل میڈیکل ٹیمیں تعینات کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی زبان میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ سادہ الفاظ میں احتیاطی تدابیر اور ابتدائی طبی امداد کے طریقے سیکھ سکیں۔ اسکولوں، مساجد، کمیونٹی سینٹرز اور ریلیف کیمپوں میں معلوماتی نشستیں اس حوا لے سے بہت موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ میڈیا بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے مختصر پیغامات اور ہدایات عوام تک پہنچائی جائیں تو بہت سی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر خواتین اور بچوں کو اس بارے میں تعلیم دینا ضروری ہے کیونکہ وہ زیادہ تر گھروں اور کیمپوں میں موجود ہوتے ہیں اور خطرے کا شکار بن سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سیلاب کے موسم میں سانپ کے کاٹنے کا خطرہ ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صرف طبی سہولیات ہی کافی نہیں بلکہ عوامی آگاہی، بروقت احتیاط اور درست معلومات ہی اس مسئلے کا موثر حل ہیں۔ اگر حکومت، ادارے، میڈیا اور عوام مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو اس خاموش خطرے سے بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں