اومیگا ریذیڈنیشیا ہاؤسنگ مالکان کا فائلوں کے نام پر ہزاروں افراد سے جعلسازی کا انکشاف

فیصل ا باد(سٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے ممبر مرکزی مجلس شوری اور سابق ضلعی امیر انجینئر چوہدری محمد عظیم رندھاوا نے پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اومیگا ریذیڈنشیا ہاسنگ کالونی سرگودھا روڈ مالکان کی جانب سے 7ہزار سے زائد فائلو ں کی اوور سیلنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنے خون پسینے کی کمائی سے محروم ہو چکے ہیں لیکن انہیں اپنے مستقبل کی چھت کے لئے کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ مدثر فاروق رندھاواسکنہ چک نمبر4 ج ب رام دیوالی، کوثر پروین سکنہ ضیا ٹان ہاس نمبرP-24 فیصل آباد، تسلیم بی بی چک نمبر21 ج ب، خانپور اور محمد رضاالقمر ہاس نمبر365 پی جناح کالونی نے مختلف اوقات میں اپنے سہانے مستقبل کے لئے پلاٹوں کی فائلیں مالکان سے خریدیں تو بعدازاں انہیں پتہ چلا کہ مذکورہ پلاٹوں کے لئے رقبہ کا کوئی وجود نہیں ہے اور ساری خریدوفروخت ہوا میں کی گئی ہے۔ انہوں نے مختلف اوقات میں مختلف اداروں مثلا ایف ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کو ریلیف کے لئے درخواستیں دیں لیکن کالونی مالکان کے پیسے کے اثرورسوخ کی بنا پر ان اداروں سے مایوسی ہوتی رہی اورکالونی مالکان ہمیشہ بے قصور ہوتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف ڈی اے کی جانب سے2019 میں کالونی مالکان کو تقریبا ساڑھے تین سو کنال کے رقبہ کا نقشہ پاس کرتے ہوئے پلاٹوں کی فروخت کی اجازت دی گئی لیکن مالکان نے ایف ڈی اے کی ملی بھگت سے ہزاروں فائلیں بیچ ڈالیں۔ لوگوں نے وعدے کے مطابق پھر بھی قسطیں ادا کیں لیکن پانچ سال بعد جب پلاٹوں کی ملکیت حوالے کرنے کا مرحلہ قریب آیا تو مالکان نے ڈرامہ رچاتے ہوئے تھرڈ پارٹی کوزبانی حد تک ملکیت دینے کا دعوی کیا اور مزید عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل میں خود ہی اپنے بندے عمران بھٹی اور یوسف صلاح الدین کے خلاف درخواست دی اورخود ساختہ انکوائری کے ذریعے بری ہو کرعوام کے ڈیرھ سال ضائع کر دئیے۔ ایف آئی اے میں ہونے والی انکوائری میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ مالکان نے پانچ ہزار تنتالیس فائلوں کی فروخت سال 2023 تک کر ڈالی ہے جبکہ اس کے بعد ہونے والی اوورسیلنگ علیحدہ ہے۔ اس موقع پر کالونی مالکان کے متاثرہ مدثر فاروق رندھاوا نے کہا کہ اس نے ایف ڈی اے میں دو سالوں میں تین درخواستیں گذاریں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔انہوں نے مزید کہا کہ اب چوہدری سرور نے عوام کو تیسری بار لوٹنے کے لئے دوبارہ سے فارم ممبر شپ کے نام پر نیا لوٹ مار پلان تیار کرکے ڈیلروں کو خوشخبری سنائی ہے کہ بارہ ہزار مالیت کے پراپرٹی فارمز دھڑا دھڑ خرید کر کالونی مالکان کو کھرب پتی بنائیں اور اپنا کمیشن حاصل کریں۔۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے 2023 میں ہونے والی بوگس اورفراڈ پر مبنی انکوائری ری اوپن کر کے مالکان شیخ شاہد شریف اورچوہدری محمد سرور سمیت یوسف صلاح الدین اورتمام مذکورہ ڈیلرز کو کال کرکے دوبارہ انکوائری کریں اور عوام کے خون پسینے کی کمائی ان کو واپس کریں اور ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی کریں۔ مزید براں وزیراعلی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب مذکورہ کالونی مالکان اور ایف ڈی اے کی ملی بھگت کے خلاف علیحدہ انکوائری کروائیں اور ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے ان کو سزا دیں ورنہ سڑکوں پر احتجاجی دھرنا دے کراحتجاج کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں