بلوچستان کی موجودہ انتہائی نازک اور حساس صورتحال۔ لمحہ فکریہ۔ فکرمند ہونے کی ضرورت ضرور ہے لیکن مایوسی گناہ ہے اور مذکورہ صورتحال کا جائزہ لینا اور فوری اقدامات کرنا تمام اداروں کے لئے ضروری ہے۔ ویسے تو سب پاکستانیوں کو سوچنا ہوگا اور اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔ پاکستان دشمن قوتیں برسرپیکار۔ ہندوستان چھپ کر وار کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار۔ مقامی لوگوں میں خدشات پیدا کئے جارہے ہیں تاکہ پاکستان مخالف سوچ پیدا کی جا سکے اور بلوچ قوم کو پاکستان کے خلاف بدظن کیا جائے۔ لفظ محرومی کا پوری طرح استحصال اور یوں وہاں کے لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں زہر بھرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بلوچستان لبریشن آرگنائزیشن اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے ابا تبا بولے جا رہی ہے اور بلوچستان میں نقص امن پیدا کرنے کے لئے ہر قسم کی کارروائیاں کررہی ہے۔ تھانوں پر مسلسل حملے، سکیورٹی اداروں کے خلاف تصادم۔ دیگر صوبوں کے لوگوں کو قتل کرنا اور اس کے علاوہ بھی کیا کیا نہیں۔ پاکستان مخالف پروپیگنڈہ اور صوبہ پنجاب کے خلاف ہرزہ سرائی۔ ان حالات میں آپشن تو کئی ہو سکتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز ریاست مخالف قوتوں کے خلاف پوری شدت سے کارروائی کریں۔ ہندوستان کے علاقوں میں اسی طرح کی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ہمارا دشمن ملک ان گھٹیا حرکات سے باز آجائے۔ معتدل بلوچ قیادت کے ذریعے سے بلوچ عوام تک ریاست کا بیانیہ پہنچایا جائے۔ بلوچستان کی تعمیر وترقی کے لئے کسی سپیشل پیکیج کا اعلان بھی کیا جائے اور اس پیکیج کے تحت فوری طور پر کام شروع کروایا جائے۔ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والی قومی قیادت اپنا کردار ادا کرے اور وہاں کی عوام سے بلاواسطہ مکالمہ کرکے ان کے ہاں اپنائیت کے جذبات پیدا کرے۔ مذکورہ قیادت کو بلوچستان بھیج کر لوگوں کو باور کرایا جائے کہ ان کو ریاست کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ بین الصوبائی ہم آہنگی کے جذبات پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہی تو قیادت کے امتحان کا وقت ہے اور اس امتحان میں کامیاب ہونا لیڈر کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے۔ ویسے بھی سیاسی بصیرت سے لیڈر پہچانا جاتا ہے اور اس بصیرت کا عملی مظاہرہ عوام کو قائل اور مطمئن کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ دشمن تو دشمن ہوتا ہے اس نے تو وار کرنے سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹنا ہے اب عوام اور قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور آگے بڑھ کر صورتحال کا نیک نیتی سے جائزہ لے اور اس لحاظ سے لائحہ عمل ترتیب دے۔ عمل سے ہی رائے کو بدلا جا سکتا ہے۔ ایک دوسرے کے قریب آکر ذہنی خدشات کو دور کیا جا سکتا ہے اور وہاں کے لوگوں کی سوچ کو متاثر کیا جا سکتا ہے بلکہ حالات کے دھارے کو بدلا جا سکتا ہے۔ اصل معاملہ ہے عوام اور قیادت کا قریب آنا۔ ہمارے ہاں وفاقی نظام حکومت ہے جہاں ہر صوبے کے اپنے معاملات ہیں لیکن وفاق اور دیگر صوبوں کی قیادت کو مل بیٹھنا ہوگا۔ بلوچستان کا واحد حل۔ بیٹھک بیٹھک اور بیٹھک۔ محترمہ مریم نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب نے کام کام اور مسلسل کام سے اپنے مخالفوں کو بھی یہ کہنے پر مجبور کردیا ہے کہ “بہرحال مریم نواز کام تو کررہی ہے”۔ جمہوری حکومت نے مسائل کا جائزہ لینا ہوتا ہے اور پھر وسائل کے اسباب پیدا کرنے کی منصوبہ بندی۔ اداروں کو فعال کرنا، ترقیاتی کاموں کی نشاندہی کرنا اور پھر ان کاموں کی بروقت تکمیل ۔ ایجوکیشن اور ہیلتھ سیکٹرز پر خصوصی توجہ۔ نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کو یقینی بنانا اور پھر روزگار کے مواقع فراہم کرنا۔ ذرائع آمدورفت کے لئے سڑکوں کا جال بچھانا۔ لینڈ مینیجمنٹ کا بھی ہمارے ہاں لا اینڈ آرڈر میں اہم کردار ہے لہذا اس شعبہ میں ادارہ جاتی تبدیلیاں اور مطلوبہ قانون سازی۔ نظم ونسق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعمیر نو اور ان کا مسلسل چوکس رہنا۔ اس طرح کے گراس روٹ لیول پر کام یوں کہئے مائیکرو مینیجمنٹ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسے اقدامات کی اشد ضرورت تھی۔ بسنت خصوصی طور پر کیس سٹڈی ہے۔ گذشتہ ادوار سے یہ معمول بن گیا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات یا حادثات کے نتیجے میں ہر دوسری چیز پر پابندی لگا کر کامیابی کے شادیانے بجا دیئے جائیں اور عوام میں سرخرو ہوا جائے۔ اور اب کے بار بسنت اورعوام کا ذوق شوق۔ ذوق شوق عوام کا حق اور اس کے بار بسنت کے موقع پر لاہور کی عوام کا ذوق شوق دیدنی اور پھر اپنے پرائے سب معترف اور پنجاب حکومت کے اقدامات کے لئے تحسین اور بس تحسین کے جذبات۔ مذکورہ پس منظر اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہاں عصر حاضر کے معاملات کا گہرا شعور پایا جاتا ہے اور ان کے ہاں سوچ کی پختگی بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ اس کو کہتے ہیں بصیرت۔ آنے والے وقت کا ادراک اور معاملہ فہمی اور پیش بندی۔ آگے بڑھ کر کھیلنے کا جوش،جذبہ اور ہمت بھی ہے۔ ایک دن وہ اچانک بلوچستان پہنچ گئیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ ملاقات بھی کی اور پھر ان کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی۔ مذکورہ سطور میں بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر پنجاب کی وزیر اعلیٰ کا دورہ بلوچستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور بلوچ قوم کے لئے بہت بڑا پیغام ہے کہ بلوچ قوم اکیلی نہیں ہے بلکہ بلوچستان کا مسئلہ پاکستان کا مسئلہ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا یہ قدم قابل تحسین بھی ہے اور قابل تقلید بھی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت خصوصا میاں محمد نواز شریف سابق وزیر اعظم پاکستان اور آصف علی زرداری صدر پاکستان کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان حضرات کا خیر سگالی دورہ بلوچستان وقت کی ضرورت ہے۔ بدظنی کا علاج فاصلے ختم کرنے میں ہوتا ہے اور مل بیٹھ کر اختلافات کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ محمود احمد اچکزئی اس وقت اپوزیشن لیڈر ہیں اور ان کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے ان پر بڑی ہی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کو احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور قومی و ملکی مفادات کے پیش نظر بلوچستان مسئلہ پر مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ بلوچستان کی عوام کو ریاست مخالف قوتوں کے مقاصد سے آگاہ کرنا ہوگا تاکہ ان کے ہاں پاکستان کے لئے اچھے جذبات پیدا کئے جا سکیں اور ان سب پر واضح کرنا ہوگا کہ ہم سب ایک ہیں اور ہماری پہچان پاکستان ہے۔ پاکستان چاروں صوبوں پنجاب، سندھ، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کا نام ہے۔ کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی ہے کہ وہ ہمارے ملک کے خلاف کام کرے اور اس کو نقصان پہنچائے۔ اس بیانیہ پر پوری سیاسی قیادت اور پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا اور یہ کام ہماری قیادت کرے گی، انشاء اللہ۔




