پاکستانی سیاست کے کینوس پر ایک خاص منظر بار بار ابھرتا ہے: ایک شاندار ربن کاٹنے کی تقریب۔ گزشتہ تین دہائیوں سے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کا گورننس ماڈل ایک انتہائی سادہ مگر پرکشش فارمولے پر قائم رہا ہے: بھاری قرض لو، ظاہری ڈھانچے کھڑے کرو، اور ان کی تشہیر بلند آواز میں کرو۔ یہ وہ حکمت عملی ہے جو صرف 24گھنٹے کے نیوز سائیکل اور سڑک کنارے لگے بڑے سائن بورڈز کے لیے تیار کی گئی ہے، لیکن اب جب کہ مالی سال2026 کا آغاز ہو رہا ہے، تو اس “مستعار عیش و عشرت” کا نقاب 130 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے بالآخر تڑکنا شروع ہو گیا ہے۔اس ترقیاتی تھیٹر کی تاریخ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی نہیں بلکہ محض شاندار بصری نمائش (Optics) کی داستان ہے۔ نوے کی دہائی کی ‘یلو کیب’ سے لے کر آج کے ‘گلف اسٹریم’ لگژری طیاروں تک، پاکستانی طرزِ حکمرانی کے اس “شاہی” مزاج نے ہمیشہ پیداوری صلاحیت کے بجائے محض ترقی کے دکھاوے کو ترجیح دی ہے۔اس رویے کی بنیاد 1990 کی دہائی کے اوائل میں یلو کیب اسکیم سے رکھی گئی تھی۔ اسے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے ایک ماسٹر اسٹروک کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن حقیقت میں یہ غیر ملکی قرضوں سے خریدی گئی ہزاروں درآمدی گاڑیاں تھیں۔ جب یہ ٹیکسیاں سڑکوں پر دوڑیں تو قومی خزانہ خالی ہو رہا تھا۔ 1993 میں جب حکومت تبدیل ہوئی، تو آنے والی انتظامیہ کو بڑھتے ہوئے خسارے اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا “ہینگ اوور” وراثت میں ملا۔ یہی سلسلہ ایم ٹو (M2) موٹروے کی تعمیر کے دوران بھی دہرایا گیا۔ بلاشبہ یہ انجینئرنگ کا ایک شاہکار تھا، لیکن یہ اس وقت بنایا گیا جب قومی ذخائر ایک ارب ڈالر سے نیچے گر رہے تھے اور جی ڈی پی کی شرح نمو محض 1.7 فیصد پر جم چکی تھی۔ موٹروے مسلم لیگ (ن) کے اس “ویژن” کی علامت بن گئی جہاں ایک ایسا ملک عالمی معیار کی سڑک بنا رہا تھا جو اپنے شہریوں کے لیے بنیادی بجلی کا خرچہ اٹھانے کی سکت بھی نہیں رکھتا تھا۔اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ1999 سے2008 کے برسوں نے معیشت کو سہارا دیا، لیکن ماہرینِ معاشیات خبردار کرتے ہیں کہ یہ “استحکام” کسی داخلی اصلاح کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک جغرافیائی سیاسی حادثہ تھا۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کو ایک “اسٹریٹجک کرایہ” ملنا شروع ہوا۔ امریکی امداد اور قرضوں کی واپسی میں ریلیف نے اندرونی اصلاحات کی کمی کو چھپائے رکھا۔ لیکن جیسے ہی “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے ڈالر کم ہوئے، وہ ڈھانچہ جاتی بوسیدگی جو پہلے سے کہیں زیادہ گہری اور خطرناک ہو چکی تھی دوبارہ ظاہر ہو گئی۔ اس کے بعد حکومتیں اس “تیزی اور مندی” کے چکر میں پھنس کر رہ گئیں۔ چاہے وہ رینٹل پاور پراجیکٹس (RPPs) ہوں یا دہائیوں کی معاشی تنزلی کو جادوئی طور پر پلٹنے کے لیے کسی “مالیاتی جادوگر” کی تلاش، یہ حکومتیں صرف سابقہ ادوار کے پیدا کردہ “گردشی قرضوں کے عفریت”کو سنبھالنے میں ہی مصروف رہیں۔2013 سے2018 کا عرصہ اس “دکھاوے کے ماڈل”کا نقطہِ عروج تھا۔ چینی قرضوں کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میگا پراجیکٹس کا ایک “تھیم پارک” بن گیا۔ میٹرو بسیں، اورنج لائن ٹرین اور فلائی اوورز شہروں میں ہر طرف نظر آنے لگے۔ ایک معاشی تجزیہ کار کے بقول: “ن لیگ کے ہر دور کی ایک شاہی نشانی ہوتی ہے؛ یلو کیب شاہی رتھ تھے، موٹروے شاہی شاہراہ تھی اور اورنج ٹرین شاہی جلوس۔” تاہم، ان تمام منصوبوں کی بنیاد ایک ہی ہے: انہیں چلانے کے لیے بھاری سبسڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔ 2018 تک کرنٹ اکانٹ خسارہ جی ڈی پی کے 6فیصد سے تجاوز کر گیا اور گردشی قرضہ کھربوں روپے کی حد عبور کر گیا۔ ربن کاٹے گئے، تالیاں بجیں، لیکن اس کا بھاری بل اس عوام کے حوالے کر دیا گیا جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے تھے۔آج یہ تضاد اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ایک طرف ہسپتالوں میں زندگی بچانے والی ادویات کی قلت ہے اور سکولوں میں بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں، تو دوسری طرف پنجاب حکومت نے تقریبا 11ارب روپے کی مالیت کا گلف اسٹریم جی 500 (Gulfstream G500)لگژری طیارہ خریدنے کی تیاری کر لی ہے۔ یہ مخصوص طیارہ 1گھنٹا پرواز کرے تو اسکا تقریباْ خرچہ اٹھارہ لاکھ روپے ہے اور مینٹیننس اس سے الگ ۔سرکاری طور پر اسے ”ایئر پنجاب” کا نام دے کر ایک تجارتی منصوبہ کہا جا رہا ہے، لیکن ایوانِ اقتدار میں ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ اشرافیہ کے لیے ”آسمانی تخت” ہے۔ یہ خریداری ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بیرونی قرضہ 130 ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور قرضوں کی ادائیگی وفاقی آمدنی کا 70 فیصد ہڑپ کر رہی ہے۔ سب سے تشویشناک بات زرمبادلہ کے ذخائر کی ہے، جنہیں حکومت “بہتری” قرار دیتی ہے، حالانکہ ان کا بڑا حصہ دوست ممالک کے وہ ڈیپازٹس ہیں جو صرف عارضی طور پر وہاں رکھے گئے ہیںیہ ایک ایسے مریض کے لیے مستعار آکسیجن ہے جو پہلے ہی وینٹی لیٹر پر ہے۔پاکستان اب معاشی بحران کے قریب نہیں پہنچ رہا، بلکہ اس کی طرف تیزی سے دوڑ رہا ہے۔ برآمدات اور صنعت کے بجائے محض ”دکھاوے” پر مبنی ترقیاتی ماڈل اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ گھر کو آگ لگی ہو اور اس دوران لگژری طیارہ خریدنا صرف مالی غلطی نہیں بلکہ ایک اخلاقی جرم ہے۔ ”ملکہ” شاید کچھ دیر کے لیے بادلوں سے اوپر پرواز کر لیں، لیکن زمین پر رن وے ختم ہو رہا ہے۔ جب یہ جہاز بالآخر لینڈ کرے گاجیسا کہ ہر عروج کو زوال ہے تو اس کا اثر اشرافیہ پر نہیں پڑیگا، کیونکہ ان کے پاس اپنے پیراشوٹ (پناہ گاہیں) موجود ہیں۔ اس کا خمیازہ وہ 24 کروڑ عوام بھگتیں گے جو اس وقت اس شاندار نمائش کا بل ادا کر رہے ہیں جس کے وہ کبھی مالک تھے ہی نہیں۔




