سوشل میڈیا کا غلط استعمال… مسائل کی بھرمار

اخبار قارئین کرام تک خبریں پہنچانے کا بہترین اور موثر ترین ذریعہ ہے، اخبار میں جو بھی شائع کیا جائے، اس کا ثبوت موجود ہوتا ہے، ریڈیو اور ٹیلی ویژن بھی سچی خبروں کا اچھا ذریعہ ہیں۔ اخبار’ ریڈیو اور ٹیلی ویژن خبروں کے ساتھ ساتھ عوام کو معیاری تفریح بھی فراہم کرتے ہیں، کھیلوں کی سرگرمیاں ہوں یا اہم تقریبات کی کوریج اخبار’ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا اس سلسلے میں بھرپور کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے، قصہ مختصر یہ ہے کہ ان ذرائع ابلاغ نے ملک وقوم کی فلاح وبہبود اور تعمیر وترقی کو اپنا نصب العین بنایا ہے اور اخبار میں خبریں مکمل چھان بین کے بعد شائع کی جاتی ہیں’ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی خبروں کی اچھے طریقے سے جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور یہ تمام ادارے اپنی خبروں کے ذمہ دار ہیں، ان کے ذریعے عوام تک جو خبریں پہنچائی جاتی ہیں ہر متعلقہ ادارہ اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، یہ فرد، افراد اور اپنے متعلقہ ادارے کو بھی جوابدہ ہوتے ہیں، لوگوں نے ہمیشہ ان پر جس اعتماد کا اظہار وہ ان کی احسن کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے’ مگر آج کے دور میں سوشل میڈیا کے بے دریغ غلط استعمال نے بے شمار مسائل کو جنم دیکر لوگوں کے لیے نت نئی پریشانیاں پیدا کر رکھی ہیں، جسے دیکھو وہ کسی نہ طرح سوشل میڈیا کے ساتھ منسلک دکھائی دیتا ہے، لگتا ہے کہ ہر شخص نے اپنا کوئی نہ کوئی اکائونٹ بنا رکھا ہے اور وہ ذرا ذرا سی بات پر سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے ذریعے دوسروں کو بلیک میل کرنے کی دھمکیاں دینے لگتا ہے، اگر کوئی شخص کسی دکان سے کچھ سامان خریدتا ہے تو وہ مختلف الزامات عائد کر کے یہ کہتا دکھائی دیتا ہے کہ اگر میری بات نہ مانی تو تمہاری ایسی خبر لونگا کہ مدتوں یاد رکھوں گے، تمہاری ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کروں گا، متعلقہ حکام نوٹس لیں گے اور تمہاری دکان پر سے خریداروں کا اعتماد ختم ہو جائے گا، گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں احمد بلوچی سجی سوساں روڈ کے سامنے سڑک پر پانی کھڑے ہونے کا منظر دکھایا گیا، اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی متعلقہ ادارے حرکت میں آ گئے اور ”احمد بلوچی سجی” کی دکان کو سیل کر دیا گیا، کئی لوگوں نے ”احمد بلوچی سجی” سوساں روڈ پر پانی کھڑا ہونے کی ویڈیو اور اس پر متعلقہ اداروں کے حرکت میں آنے کے اقدام کو خوب سراہا اور حقیقت حال سے آگاہی نہ ہونے کے باوجود خوب تالیاں بجائی گئیں’ مگر اس واقعہ کی اصل حقیقت کچھ یوں ہے کہ ایک شخص کار میں سوساں روڈ پر جا رہا تھا اور جب وہ ”احمد بلوچی سجی” کے قریب پہنچا تو دکان کے قریب سڑک پر پانی کھڑا تھا، اس آدمی نے کار میں بیٹھے بیٹھے اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی اور کسی قسم کی تصدیق کئے بغیر مذکورہ دکان سیل ہو گئی، دراصل ہوا کچھ یوں تھا کہ احمد بلوچی سجی سوساں روڈ کے سامنے سڑک پر جو پانی کھڑا تھا، وہ اس دکان والوں نے نہیں پھینکا تھا یا کسی طرح بھی اس پانی کا دکان سے اخراج ہو کر سڑک پر نہیں آیا تھا، دراصل اس دکان کے قریب واقع واسا کا ایک گٹر کئی دنوں سے بند تھا اور گٹر کا پانی نکل کر سڑک پر آ رہا تھا، ”احمد بلوچی سجی” والے یہ مسئلہ واسا حکام کے علم میں لائے واسا حکام کو فوری نوٹس لیکر مسئلہ کو حل کرنا چاہیے تھا مگر ایسا نہ ہو سکا اور اس سڑک پر پانی کھڑا ہونے کا ملبہ کار میں بیٹھ کر ویڈیو بنانے والے شخص نے ”احمد بلوچی سجی” والوں پر ڈال دیا اور اس شخص نے کار سے نکل کر یہ جاننے کی زحمت گوارہ نہ کی کہ یہ پانی کہاں سے آ رہا ہے، ستم بالائے ستم یہ کہ مذکورہ دکان کو سیل کرنیوالوں نے بھی حقیقت حال سے آگاہی حاصل کرنا ضروری نہ سمجھا، یہ بڑی ستم ظریفی ہے کہ ہم نے برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دیا، ایک زمانہ تھا کہ لوگ جھوٹ سے سخت نفرت کرتے تھے، کوئی آدمی کسی جھوٹے کے قریب بھی نہ لگتا تھا، ہر طرف سچائی اور اعلیٰ انسانی اقدار کا بول بالا تھا، لوگ ہمیشہ سچے آدمی کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے تھے، ذرا سوچئے کہ اسلامی تعلیمات میں بھی جھوٹ سے بچنے اور سچ بولنے کی کس قدر تلقین فرمائی گئی اور بتایا گیا ہے کہ جھوٹے شخص پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت پڑتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ جھوٹ سے نفرت کرتے نظر آتے اور سچ بولنا ان کی عادت کا حصہ تھا، مگر کچھ ہی عرصہ پہلے حالات نے کچھ ایسے کروٹ بدلی کہ اب جھوٹ سے لوگوں کو نفرت کرتے نہیں دیکھا جا رہا بلکہ سوشل میڈیا پر جن لوگوں نے جھوٹ کا طوفان کھڑا کر رکھا ہے۔ ان کے بارے میں لوگ پہلے کی طرح سخت رویہ اختیار نہیں کرتے، جھوٹ سے نفرت بیحد ضروری ہے، اگر ہم ایسا کرینگے تو تب ہی اس برائی کا قلع قمع ہو سکے گا، سچائی اور اعلیٰ انسانی اقدار کا فروغ کسی بھی معاشرہ کو جنت نظیر بنانے میں کلیدی کردار کا حامل ہے۔ اسلام کی اخلاقی اقدار اور معاشرتی ذمہ داریوں میں سے اہم ترین اور بہترین صفات کا مرکز ومحور سچائی ہے، سچ ایمان کی علامات میں سے ہے، ہر انسان صاحب ایمان کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیے، اﷲ تعالیٰ نے صدق اور سچائی کو انبیاء علیہم السلام، اولیاء اور صلحاء علیہم الرضوان کی صفت اور سچ بولنے والوں کو نبیوں کا ساتھی قرار دیا ہے، جھوٹ ایک بہت بڑی لعنت ہے اور جھوٹے لوگوں کے لیے دنیاوی واخروی سزائیں بیان کی گئی ہیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ سچ سے پیار اور جھوٹ سے نفرت کریں، سوشل میڈیا پر جھوت کی یلغار دیکھ کر ہر ذی شعور حیران وپریشان ہو جاتا ہے کہ تمام برائیوں کی جڑ جھوٹ کا کس قدر دیدہ دلیری سے استعمال کیا جا رہا ہے، اسلام میں بات کی تحقیق وتصدیق کرنا انتہائی اہم ہے جو سچائی’ ایمان کی نشانی اور اخروی نجات کا ضامن ہے، مگر یہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر بلاتحقیق کوئی خبر، کوئی بات آگے بڑھانا معمول بنتا جا رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اس طرز عمل پر غور وفکر کریں اور جھوٹ سے نفرت کرتے ہوئے سچائی کو فروغ دیں، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کو بے لگام نہ ہونے دیں ورنہ یہ بدمست ہاتھی ہو جائے گا، والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد پر نظر رکھیں کہ کہیں وہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال تو نہیں کر رہے، تمام شہریوں اور حکومتی اداروں کو بھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کا مکمل خیال رکھنا چاہیے تاکہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال روکا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں