فیصل آباد پیاسا شہر، ڈوبتی گلیاں

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو پانی کی شدید کمی (Water Stress)کا شکار ہیں۔ اس وقت فی کس دستیاب پانی کی مقدار تقریبا 1080 مکعب میٹر سالانہ ہے، جو1950کی ابتدائی دہائی کے مقابلے میں پانچ گنا کم ہے۔ پانی کا کم معیار، پرانا پائپ نیٹ ورک، اور پانی کے دبائو اور بہائو میں کمی، صارفین تک پہنچنے والے پانی کے معیار کو مزید خراب کر دیتے ہیں پاکستان کا تیسرا بڑا شہر اور Manchester of Pakistan کہلانے والا فیصل آباد، آج ایک عجیب اور سنگین تضاد کا شکار ہے۔ زرعی انڈسٹری ،آئل اینڈ گھی انڈسٹری ، ٹیکسٹائل و دیگر برآمدات اور پھر ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا یہ صنعتی شہر آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایک طرف یہ شہر دنیا بھر کو لباس فراہم کرتا ہے، تو دوسری طرف یہاں کا عام شہری پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے۔ معمولی بارش ہوتے ہی یہاں کی شاہراہیں جوہڑ کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پانی کی ترسیل اور نکاسی کا بحران اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بن چکا ہے۔فیصل آباد کے زیرِ زمین پانی کی کڑواہٹ اب کوئی راز نہیں رہی۔ سائنسی اعتبار سے شہر کا زمینی پانی اب انسانی استعمال کے قابل نہیں رہا۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، شہر کے وسطی اور صنعتی علاقوں میں (TDS)کی سطح WHO کے مقرر کردہ معیار سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ پانی گردوں، جگر اور ہڈیوں کے لیے “سست رفتار زہر” ثابت ہو رہا ہے۔محتاط اندازہ کے مطابق واسا فیصل آباد شہر کی کل ضرورت کا صرف 40سے 50فیصد پانی فراہم کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ یہ سپلائی زیادہ تر Chenab River Bedاور Jhang Branch Canalکے کنارے نصب ٹیوب ویلز سے حاصل کی جاتی ہے۔ تاہم، ترسیل کے لیے بچھے دہائیوں پرانے نظام ترسیل میں ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے سیوریج کا گندہ پانی شامل ہو جاتا ہے جسے فنی اصطلاح میں(CrossContamination)کہا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے شہریوں کو فلٹریشن پلانٹس کی طویل قطاروں اور مہنگے پرائیویٹ واٹر سپلائیرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔فیصل آباد کا موجودہ نکاسیِ آب کا نظام 1970 اور 80کی دہائی کی منصوبہ بندی پر کھڑا ہے،جو اب بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔فرانسیسی ترقیاتی ادارے (AFD)کے تعاون سے جاری کروڑوں یورو کا منصوبہ، جس کا مقصد واٹر سپلائی اور سیوریج کی بہتری ہے، بیورو کریٹک رکاوٹوں اور سست روی کی نذر ہو رہا ہے۔شہر کے ویسٹ واٹر کو صاف کرنے کے لیے “چکیرہ” کے مقام پر بنایا گیا گندے پانی کو صاف کرنے کا پلانٹ اپنی ڈیزائن کردہ گنجائش (Capacity)کے مطابق کام کرنے میں ناکام ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ زہریلا صنعتی فضلہ براہِ راست نالوں کے ذریعے دریائوں میں شامل ہو کر ماحولیاتی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔مون سون کے آتے ہی واسا کے بارش کے حوالہ سے ایمرجنسی پلان کے تمام دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ جہاں شہر کے متعدد اہم علاقے بھی زیرِ آب آ جاتے ہیں وہاں شہر کے نواحی علاقہ جات اور کچی آبادیوں کا ذکر ہی کیا ۔ اسکی بنیادی وجہ یہاں کاCombined Sewerage Systemہے، جہاں بارش کا پانی اور سیوریج ایک ہی پائپ لائن میں بہتے ہیں۔ جب نظام کی گنجائش ختم ہوتی ہے تو گٹر ابلنے لگتے ہیں اور تعفن زدہ پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو کر صحت اور معاشی نقصان کا باعث بنتا ہے۔جامع حل کے لیے ناگزیر اقدامات مستقبل کے فیصل آباد کو بچانے کے لیے محض “پیچ ورک کافی نہیں، بلکہ درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں ۔ زیرِ زمین پانی پر انحصار ختم کیا جائے اور نہری پانی کو صاف کر کے فراہم کرنے والے بڑے پلانٹس کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔۔ فیکٹریوں کے کیمیکل زدہ پانی کو شہری سیوریج سے الگ کرنے کے لیے Combined Effluent Treatment Plants (CETP) کا قیام عمل میں لایا جائے۔ واسا کے نظام کو جدید Sensorsاور SCADA (Supervisory Control and Data Acquisition)سے لیس کیا جائے تاکہ لیکج اور بلاکج کی فوری نشاندہی ہو سکے۔۔ شہر کے پارکوں اور کھلے مقامات پر پانی ذخیرہ کرنے کے زیرِ زمین ٹینک بنائے جائیں تاکہ واٹر ٹیبل کو بہتر بنایا جا سکے اور سڑکیں ڈوبنے سے بچ سکیں۔فیصل آباد کو اب عارضی حل اور “فائر فائٹنگ”کی سیاست سے نکالنا ہوگا۔ شہر کو ایک ایسی وژنری قیادت کی ضرورت ہے جو اگلی نسلوں کے لیے پینے کے صاف پانی اور خشک سڑکوں کی ضمانت دے سکے۔ اگر آج ہم نے فیصل آباد شہر کے بوسیدہ انفراسٹرکچر کی اوور ہالنگ پر توجہ نہ دی، تو کل پاکستان کا یہ معاشی مرکز اپنی شناخت کھو بیٹھے گا۔ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ صورت حال صرف فیصل آباد شہر کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر ہونے والی بارش لاہور اور کراچی کے انتظامی حالات اور حکمرانوں کی بے حسی کی بھی تصویر کشی کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں