پاکستان ہمیشہ زندہ باد

اﷲ تعالیٰ نے ہمیں رمضان المبارک میں آزادی کی نعمت عطاء فرمائی اور 1947ء میں اسی ماہ مقدسہ کے دوران ہمیں اپنا وطن پاکستان عطاء فرمایا، بے شک یہ اﷲ تعالیٰ کا خاص کرم وفضل ہے کہ رمضان المبارک کی نورانی ساعتوں میں ہم غیروں کی غلامی سے نجات اور اسلام کی بنیاد پر آزاد وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام میں کامیاب ہوئے، تحریک پاکستان کے دوران پیش کی جانیوالی عظیم قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا، ہمارے آبائو اجداد نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح اور تحریک پاکستان کے دیگر رہنمائوں کی ہر کال پر لبیک کہا اور بھرپور جدوجہد کر کے مملکت خداداد پاکستان کے حصول میں کامیاب وکامران ہوئے، یہ وطن کلمہ طیبہ’ پاکستان کا مطلب کیا ”لا الہ الا اﷲ” کی بنیاد پر قائم ہوا اور انشاء اﷲ تاقیامت قائم ودائم رہے گا، قیام پاکستان سے لیکر اب تک ہمیں دشمن کے کئی حملوں اور چالوں کا سامنا کرنا پڑا، گزشتہ برس مئی میں ازلی دشمن بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسے دندان شکن جواب کے دوران وہ کاری زخم لگائے گئے جنہیں وہ اب تک چاٹ رہا ہے، پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جس جرأت وبہادری اور انتھک محنت سے ایٹمی پروگرام کو کامیاب بنایا وہ اپنی مثال آپ ہے، سیٹھ عابد نے بھی اس سلسلے میں جو معاونت کی اسے قوم سراہتی ہے جبکہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے دور اقتدار میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو اعلانیہ طور پر ایٹمی طاقت بنا دیا، گزشتہ برس مئی میں پاک فوج نے ازلی دشمن بھارت کا غرور خاک میں ملایا، یہی وجہ ہے کہ خوفزدہ دشمن ہندوستان اب پاکستان پر حملہ کرنیکی جرأت نہیں رکھتا اور اس کے بجائے وہ نت نئی سازشوں پر اتر آیا ہے، اور اس نے افغانیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر پاکستان پر حملے کیلئے اکسایا، افغانستان کے لوگ بھارتی چالوں میں آ کر یہ بھی بھول گئے کہ پاکستانیوں نے ان سے کس قدر محبت کا مظاہرہ کیا’ لاکھوں کی تعداد میں افغانیوں کو سالہاسال مہمان بنائے رکھنا ان سے ہمدردی اور محبت کا وہ منہ بولتا ثبوت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا، لیکن اسے کیا کہیئے کہ وہی افغانی اب اغیار کی سازشوں کا شکار بن کر پاکستان کو آنکھیں دکھانے لگے اور ہمیں ان کیخلاف آپریشن غضب للحق شروع کرنا پڑا، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اﷲ تارڑ کا کہنا ہے کہ افغانستان کیخلاف پاکستان کی جوابی کارروائی میں اب تک 415 افغان طالبان ہلاک جبکہ 580 سے زائد زخمی ہوئے، افغانستان کے اندر 46مقامات پر موثر فضائی کارروائیاں کی گئیں جن میں افغان طالبان رجیم کی 182چیک پوسٹیں تباہ’ 31 قبضے میں لے لی گئیں، وزیراطلاعات کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 185ٹینک، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ کر دی گئیں، پاکستان کے افغان طالبان رجیم کیخلاف آپریشن غضب للحق اور اس میں ملنے والی کامیابیوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ افواج پاکستان اپنی سرزمین کے ہر انچ کے دفاع’ تحفظ اور سلامتی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے لیکن جارحیت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے، پاک افواج کسی بھی قسم کی جارحیت اور دراندازی کا بھرپور جواب دینے میں بے مثال ہیں اور افغان طالبان کو دندان شکن جواب دیا ہے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ افغان طالبان ہندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کیخلاف پراکسی وار میں مصروف ہیں، اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم نے آپریشن غضب للحق کے ذریعے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے اور دنیا پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ ہم پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نوچ لیں گے، افغان رجیم کیخلاف پاکستان کا ردعمل قومی عزم’ خود مختاری کے دفاع اور عوام کے تحفظ کیلئے غیر متزلزل ارادے کا بھرپور عکاس ہے، پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی بہادر افواج کیساتھ کھڑی ہے اور اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ ارض وطن کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آپریشن بنیان المرصوص کی طرح آپریشن غضب للحق میں بہترین حکمت عملی بنا کر اس پر جس طرح عمل کیا وہ قابل تحسین ہے، بے شک! ہم نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیکر ثابت کر دیا ہے کہ افواج پاکستان اور پوری قوم ملک کی سلامتی’ خود مختاری کے تحفظ کیلئے ہمہ وقت تیار ہے اور اﷲ تعالیٰ کی مدد ونصرت ہمارے ساتھ ہے، اہل پاکستان خوش قسمت کہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اپنا خاص تحفہ آزاد وطن کی صورت عطاء فرمایا اور ہم سب کو اس کی مکمل حفاظت کرنی چاہیے۔ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ قوم کا ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کا مکمل احساس کرے، آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے اور اس پر بلاتحقیق، کوئی خبر، کوئی بات آگے بڑھانا معمول بنتا جا رہا ہے، سوشل میڈیا کے بے دریغ غلط استعمال نے بے شمار مسائل کو جنم دیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم افواہوں سے بچیں، تصدیق شدہ معلومات پر یقین رکھیں اور کسی بھی خبر پر یقین سے پہلے اس کی ضروری تصدیق کر لیں، ہمیں ہر موقع پر اپنے جذبات کو مثبت اور پُرامن انداز میں ظاہر کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا حصہ بننے سے مکمل گریز کرنا چاہیے، جھوٹ سے نفرت ہمارا شیوہ ہے، آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے اسلاف کے نقش قدم کو مشعل راہ بنالیں، اسلامی تعلیمات میں بھی جھوٹ سے بچنے اور سچ بولنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، اس وقت ہمیں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کیلئے باہمی اتحاد واتفاق ناگزیر ہے، افواہیں پھیلانے والے سازشیں کر کے نفرت کے بیج بو رہے ہیں اور دشمن ممالک کے ہیکرز بھی اس سلسلے میں متحرک دکھائی دیتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان کی سازشوں کو خاک میں ملانے کیلئے متحد ہو جائیں اور اپنے بچوں’ بچیوں پر بھی نظر رکھیں کہ کہیں وہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال تو نہیں کر رہے، امید ہے کہ قوم کا ہر فرد اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریگا۔ افواہ ساز فیکٹریاں چلانے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی اور دنیا بھر میں ”پاکستان ہمیشہ زندہ باد” کی گونج ہمیشہ سنائی دیتے رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں