کیا سب دکاندار چور ہیں… ہرگز نہیں

رمضان المبارک نیکیوں کا موسم بہار ہے اور اہل اسلام اس ماہ مقدسہ میں اپنے گناہوں سے معافی مانگنے اور نیکیوں میں سبقت لیجانے کیلئے کوشاں نظر آتے ہیں، اس بابرکت مہینے میں رحمتیں برستی ہیں، مغفرت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دلوں کو سکون ملتا ہے، مگر اسے کیا کہیے کہ منافع خور اور ذخیرہ اندوز اس مقدس مہینے میں بھی اپنی کارستانیوں سے باز نہیں آتے’ پنجاب حکومت نے اس معاملے سے نمٹنے کیلئے وزیروں’ مشیروں اور سرکاری افسروں کو ذمہ داریاں سونپی ہیں، دوسرے علاقوں کی طرح فیصل آباد میں بھی لوٹ مار کا بازار کرنیوالوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہے’ گرانفروشوں کو گرفت میں لانے کیلئے مارے جانیوالے چھاپے خوش آئند اقدام ہے مگر ان چھاپوں کی ویڈیوز دیکھنے سے عام لوگوں کے بارے میں بھی غلط تاثر پیدا ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے ہم سب ہی اس مکروہ دھندے میں ملوث ہے، جیسے ہم سب ہی کم تولتے ہیں اور مہنگا مال بیچتے ہیں، باقی کی ساری دنیا ایماندار ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کچھ لوگ لوٹ مار کا بازار گرم کرنے میں ملوث ہو سکتے ہیں لیکن الحمدﷲ! ہماری بہت بڑی اکثریت ہر قسم کی برائیوں سے نفرت کرتی ہے اور چند لوگوں کے افعال کو جس طرح بڑھا چڑھا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے وہ ہرگز مناسب نہیں ہے’ پنجاب حکومت گرانفروشوں کو لگام ڈالنے کیلئے جو عملی اقدامات کر رہی ہے ہم اسے سراہتے ہیں مگر سوشل میڈیا پر ان کی تشہیر کا یہ انداز غلط ہے اس لئے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے التماس ہے کہ ان چھاپوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے پر سختی سے پابندی لگائیں، ہم اس بات کے حق میں ہیں کہ حکومت کو اپنی کارکردگی کی تشہیر کرنی چاہیے، اپنی کارکردگی کی تشہیر ہر حکومت اپنا حق سمجھتی ہے کہ اس نے جو کام کیے ہیں ان کا عوام کو بتایا جا سکے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس سلسلہ میں پیش پیش رہی ہیں مگر اب اس سلسلے میں سوشل میڈیا کو جس طرح استعمال کیا جا رہا ہے وہ طریقہ کار مناسب نہیں ہے، حکومت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اشتہارات کے ذریعے اپنے کاموں کی تشہیر کرتی آ رہی ہے’ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور اس کے مثبت اثرات برآمد ہوتے ہیں اس لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ مناسب انداز تشہیر اپنائیں، پاکستان میں حکومتی’ سیاسی’ سماجی اور کاروباری تشہیر کیلئے بڑے پیمانے پر پینا فلیکس اور پوسٹرز کا استعمال بھی کیا جاتا ہے، پوسٹرز اور پینافلیکس شہر کے اہم مقامات پر آویزاں کئے جاتے ہیں، حکومتی منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے ”شکریہ” کے بینرز بھی ایک عام تشہیری طریقہ کار ہے جبکہ حکومتی پروجیکٹس کے حوالے سے تقاریب بھی منعقد کی جاتی ہیں، وفاقی وصوبائی حکومتیں جب کسی علاقہ میں تعمیر وترقی کے منصوبوں کا آغاز کریں تو ان کا سنگ بنیاد رکھنے کیلئے پُروقار تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس حلقہ کے منتخب نمائندے اپنے ہاتھوں سنگ بنیاد رکھ کر اس کا پتھر کی سلیٹ بھی نصب کرتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبہ کے مکمل ہونے پر بھی لوگوں کو مدعو کر کے اس کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ حکومتی منصوبوں کی تشہیر کے یہ انداز آج بھی عام ہیں جبکہ ایک زمانہ تھا کہ ڈھنڈوراپیٹ کر اپنی کارکردگی کو اجاگر کیا جاتا تھا، ڈھول بجا کر کسی کسی بات کی تشہیر کرنا بھی عام رہا ہے، رمضان المبارک میں ڈھولچی سحری کے اوقات میں لوگوں کو جگانے کیلئے ڈھول بجاتے رہے، اگرچہ یہ سلسلہ کم ہو گیا مگر اپنی روایتی خوبصورتی کیساتھ آج بھی جاری ہے اور ڈھول بجا کر وقت بتاتے ہوئے سحری کی تیاری کیلئے ترغیب دی جاتی ہے، ڈھول قدیم موسیقی کا ایک ایسا آلہ ہے جس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، اس کا تعلق مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں سے رہا ہے، مجموعی طور پر ڈھول ایک طاقتور ذریعہ ہے جسے انسانی جذبات کو ظاہر کرنے اور مختلف مواقع پر اجتماعی تجربات کو بڑھانے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے مگر زمانے کے انداز بدلے گئے کہ مصداق اب تشہیر کے انداز پہلے جیسے نہیں رہے اور سوشل میڈیا نے بھی تشہیر کے ایک ذریعے کی حیثیت حاصل کر لی ہے مگر اس کے بے دریغ غلط استعمال کے باعث عام لوگوں کا اس سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے، حکومتی وزیروں’ مشیروں اور سرکاری افسروں کو چاہیے کہ وہ گرانفروشوں کیخلاف چھاپوں کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے سے گریز کریں، ضرورت اس امر کی ہے کہ عام لوگوں کے اچھے کاموں کو بھی اجاگر کیا جائے، دیانتداری اور ایمانداری مسلمانوں کا شیوہ اور ایمان کی علامت ہے، جس میں جھوٹ’ فریب اور بددیانتی سے پاک ہو کر ذمہ داریوں کو احسن طریقہ سے نبھایا جاتا ہے، دین اسلام انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے اور وہ ان اعمال وافعال کا حکم دیتا ہے جس کے ذریعے انسانی حقوق کی حفاظت ممکن ہو سکے، ایسے بہت سے اعمال کو اسلام میں تفصیل کیساتھ بیان کیا گیا ہے، انہی اعمال میں ایک عمل دیانت داری بھی ہے، حدیث نبویۖ ہے کہ سچائی اور امانت داری کے ساتھ معاملہ کرنیوالا تاجر نبیوں’ صدیقوں اور شہداء کے ساتھ ہو گا، اس حدیث شریف میں سچے اور امانت دار تاجر کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اس کا معاملہ’ انبیائے کرام’ صدیقین اور شہدائے کرام کے ساتھ ہو گا، معلوم ہوا کہ تجارت جو بظاہر دنیاوی عمل ہے اگر اسے سچائی اور امانت کے معیار کے مطابق سرانجام دیا جائے تو یہی تجارت اخروی عمل بن جاتی ہے اور ایسے تاجر کو اتنا بڑا رتبہ ملے گا جس کی تمنا ہر مسلمان کرتا ہے، دین اسلام میں بے ایمانی کی مذمت کرتے ہوئے انہیں منافقوں کی علامتوں میں شمار کیا گیا ہے، اﷲ کا شکر ہے کہ ہمارے تاجروں اور دکانداروں کی بڑی اکثریت نے سچائی اور ایمان داری کو اپنا شیوہ بنا رکھا ہے لیکن سوشل میڈیا سے ایسے لگتا ہے کہ جیسے سب دکاندار چور بازاری کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہے، وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے اپیل ہے کہ وہ لوٹ مار کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی تشہیر پر ہی توجہ مرکوز نہ رکھیں بلکہ ایمانداری کا مظاہرہ کرنے والے تاجروں ودکانداروں کو زیادہ سے زیادہ فوکس کریں تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ پاکستانی ایماندار اور فرض شناس قوم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں