عوامی اعتماد کی بحالی

کسی بھی معاشرے میں مؤثر پولیس قیادت نہ صرف جرائم کے تدارک میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کی بحالی میں بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے ملک میں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوامی اعتماد اکثر اتار چڑھائو کا شکار رہتا ہے، وہاں فیصل آباد ریجن میں پولیس کی حالیہ کارکردگی اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ عوام دوست پولیسنگ، انتظامی نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ قیادت کس طرح عملی نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا کی قیادت میں پولیس نے اس حوالے سے قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔سال 2026 کے دوران فیصل آباد پولیس نے منظم جرائم اور منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف متعدد فیصلہ کن اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کیں۔ اس عرصے میں 99 خطرناک گینگز کا خاتمہ کیا گیا جبکہ 264 عادی مجرموں کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے 823 مقدمات نمٹاتے ہوئے تقریبا 7 کروڑ 76 لاکھ روپے مالیت کا مسروقہ سامان بھی برآمد کیا، جس میں موٹر سائیکلیں، طلائی زیورات، موبائل فونز اور مویشی شامل ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف پولیس کی عملی کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ جرائم سے متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی کے عزم کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔فیصل آباد میں منشیات کے خلاف مہم بھی خاصی مؤثر رہی ہے۔ پاکستان میں منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے جو بالخصوص نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کو متاثر کر رہا ہے۔ اس تناظر میں فیصل آباد پولیس کی انسدادِ منشیات کارروائیاں نہایت اہم ہیں۔ اس دوران منشیات فروشوں کے خلاف 1834 مقدمات درج کیے گئے اور 1863 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے 819 کلوگرام سے زائد چرس، 37 کلوگرام آئس، 226 کلوگرام ہیروئن اور تقریبا 26 ہزار لیٹر شراب بھی برآمد کی۔ یہ کارروائیاں ان سپلائی چینز کو توڑنے کی سنجیدہ کوشش ہیں جو معاشرے میں نشے اور جرائم کو فروغ دیتی ہیں۔اسی طرح پرتشدد جرائم کی روک تھام کے لیے بھی انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کیے گئے۔ ڈکیتی، گھروں میں داخل ہو کر وارداتیں، اسٹریٹ کرائم اور عوامی مقامات پر غیر قانونی اسلحہ کی نمائش جیسے جرائم کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد بدنام زمانہ مجرم گرفتار ہوئے جس سے واضح پیغام گیا کہ قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کارروائیاں بھی اس حکمت عملی کا اہم حصہ رہیں۔ پولیس نے مختلف کارروائیوں کے دوران 710پستول، 48رائفلیں اور دو ہزار سے زائد گولیاں برآمد کیں۔ اس طرح کے اقدامات پرتشدد جرائم میں کمی لانے اور شہریوں کے احساسِ تحفظ کو بحال کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔عوامی تحفظ کے حوالے سے دیگر اقدامات بھی کیے گئے۔ پتنگ بازی پر پابندی کے قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے 369مقدمات درج کیے گئے اور تقریباً 26ہزار پتنگیں ضبط کی گئیں۔ اسی طرح پولیس کارروائیوں کے نتیجے میں اقدام قتل کے 74ملزمان اور 73اشتہاری قاتل گرفتار کیے گئے جبکہ اے اور بی کیٹیگری کے 1956 اشتہاری مجرموں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا گیا۔ان اقدامات کے نتیجے میں فیصل آباد میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سنگین جرائم میں مجموعی طور پر 60فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ڈکیتی کی وارداتوں میں 85فیصد اور موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات میں 66 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ موٹر سائیکل چوری میں 62فیصد اور گاڑی چوری کے واقعات میں 57فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ بہتری نہ صرف پیشہ ورانہ پولیسنگ کا مظہر ہے بلکہ اس نے شہریوں کے احساسِ تحفظ کو بھی مضبوط کیا ہے۔آر پی او سہیل اختر سکھیرا کی حکمت عملی میں عوامی رابطے اور خدمت کو بھی مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس سلسلے میں کھلی کچہریوں کا انعقاد ایک مؤثر اقدام ثابت ہوا ہے۔ ان عوامی فورمز کے ذریعے 3300سے زائد شہریوں کو براہِ راست اپنی شکایات اعلی پولیس حکام کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا۔ اس عمل سے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کے فقدان کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔اسی طرح مختلف سماجی طبقات کے ساتھ مسلسل رابطہ بھی پولیس حکمت عملی کا حصہ رہا ہے۔ تاجر برادری، کاروباری حلقوں، اساتذہ اور سماجی رہنماں کے ساتھ ملاقاتوں نے پولیس اور معاشرے کے درمیان تعاون کو فروغ دیا ہے۔ اس عمل سے مقامی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے اور جرائم کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔پولیس سہولت مراکز کے دائرہ کار میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ 15 سروس سینٹرز اور 20 اضافی کائونٹرز کے ذریعے ایک لاکھ بائیس ہزار سے زائد شہریوں کو مختلف خدمات فراہم کی گئیں۔ اسی طرح تحفظ اور میثاق مراکز میں سات ہزار سے زائد شکایات نمٹائی گئیں جن میں خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے مسائل شامل تھے۔پولیس ویلفیئر پر خصوصی توجہ بھی اس انتظامیہ کی اہم خصوصیت ہے۔ طبی اور تعلیمی اداروں کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کو سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ زخمی اہلکاروں کے بچوں کے لیے 75 فیصد تک تعلیمی رعایت جبکہ شہید اہلکاروں کے بچوں کے لیے مکمل تعلیمی اخراجات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اقدامات پولیس فورس کے حوصلے کو بلند کرنے کے ساتھ ان کی قربانیوں کے اعتراف کا مظہر ہیں۔قانون نافذ کرنے کے شعبے میں قیادت طاقت اور ہمدردی کے درمیان ایک نازک توازن کا تقاضا کرتی ہے۔ فیصل آباد میں یہ توازن واضح طور پر دکھائی دیتا ہے جہاں ایک طرف منظم جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئی ہیں تو دوسری جانب عام شہریوں کی شکایات کے ازالے کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔ پولیس کے اندر احتساب کے نظام کو مضبوط کرتے ہوئے بدعنوانی یا غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے، جس سے ادارے کی ساکھ میں اضافہ ہوتا ہے۔فیصل آباد کی مثال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ہمیشہ بڑے پیمانے کی قانون سازی ضروری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات مضبوط قیادت، واضح حکمت عملی اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط ہی حقیقی تبدیلی کا آغاز کر سکتے ہیں۔ جب پولیس عوام کو اپنا شراکت دار سمجھ کر کام کرے تو اعتماد کی بحالی ممکن ہو جاتی ہے۔اگرچہ چیلنجز اب بھی موجود ہیں، تاہم فیصل آباد پولیس کی حالیہ کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ بہتری ممکن ہے۔ اگر یہ اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو یہ پنجاب کے دیگر اضلاع کے لیے بھی ایک قابل تقلید ماڈل ثابت ہو سکتے ہیں۔مشکل سکیورٹی اور سماجی مسائل سے دوچار کسی بھی ملک میں کامیاب عوامی انتظامیہ کی مثالوں سے سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ فیصل آباد پولیس کی کارکردگی اس امر کی یاد دہانی ہے کہ درست حکمت عملی، نظم و ضبط اور عوام دوست پولیسنگ کے ذریعے نہ صرف جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں