ملک میں ایندھن فراہمی کی صورتحال مستحکم ہے

اسلام آباد (بیوروچیف)وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے ، عوام پر ممکنہ مالی بوجھ کو کم سے کم رکھنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے،حکومت توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے، مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے اور سپلائی چین کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لئے قائم کمیٹی کے ورچوئل اجلاس میں گفتگو کرتیہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں توانائی کے شعبے کی صورتحال ، ایندھن کے ذخائر اور سپلائی چین کا تفصیلی جائزہ لیاگیا اور شرکا کو خام تیل اور ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کے قومی ذخائر، جاری درآمدی انتظامات اور سپلائی چین کے نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ اس وقت کچھ کارگو راستے میں ہیں جبکہ قومی ذخائر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی درآمدی کھیپوں کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں اور سپلائی چین مثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق آنے والے ہفتوں میں بھی ایندھن کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے مناسب انتظامات موجود ہیں۔اجلاس میں عالمی سطح پر خام تیل اور ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ میں حالیہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ خطے میں جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں حالیہ دنوں کے دوران غیر یقینی صورتحال اور قیمتوں میں اتار چڑھا دیکھا جا رہا ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے بین الاقوامی قیمتوں کے رجحانات، عالمی بینچ مارک خام تیل کی نقل و حرکت اور ریفائنڈ مصنوعات کی مارکیٹ کی صورتحال پر غور کیا۔اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ عالمی منڈی میں ممکنہ تبدیلیاں پاکستان کے توانائی کے شعبے اور مجموعی معیشت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت بین الاقوامی منڈیوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور توانائی کے تحفظ اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ممکنہ منظرناموں پر منصوبہ بندی جاری ہے۔اجلاس میں خام تیل کی درآمدات، ریفائنریوں کی کارکردگی اور بحری نقل و حمل سے متعلق انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کارگو کی آمدورفت کو آسان بنانے، ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے اور پٹرولیم سپلائی چین کے بلا تعطل کام کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی جائے تاکہ ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس کے دوران ڈیزل، پٹرول، ہوابازی کے ایندھن اور ایل پی جی کی سپلائی کی آئندہ صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ موجودہ سپلائی اور طے شدہ درآمدات آئندہ ہفتوں کے دوران ملکی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ متعلقہ ادارے ذخائر کی سطح، جہازوں کی آمدورفت اور تقسیم کے نظام کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مارکیٹ میں ایندھن کی فراہمی متاثر نہ ہو۔اجلاس میں سپلائی کے ساتھ ساتھ ایندھن کے مثر استعمال اور طلب کے انتظام سے متعلق مختلف اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد عالمی قیمتوں میں اتار چڑھا کے دوران درآمدی دبا کو کم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری اداروں میں ایندھن کے ذمہ دارانہ استعمال اور بچت کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔مزید برآں کمیٹی نے پٹرولیم سپلائی چین کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے ذخائر، ڈپوں اور ریٹیل سطح پر سپلائی کی صورتحال کو حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جا سکے گا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بہتر ڈیٹا انضمام اور نگرانی کے نظام سے پالیسی سازی اور بروقت فیصلوں میں مزید بہتری آئے گی۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے جبکہ عوام پر ممکنہ مالی بوجھ کو کم سے کم رکھنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی توانائی منڈیوں میں اس وقت غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے، تاہم بروقت منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطے کے باعث پاکستان میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال مستحکم ہے۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ کمیٹی بین الاقوامی توانائی منڈیوں، ملکی ذخائر اور سپلائی چین کی صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیتی رہے گی تاکہ بروقت اور مثر پالیسی فیصلے کیے جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے، مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے اور سپلائی چین کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں