جمود سے جدت تک۔۔پنجاب میں گورننس

کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی کا انحصار اس کے اداروں کی کارکردگی پر ہوتا ہے اور اداروں کی کارکردگی افرادی قوت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مشروط ہوتی ہے۔ پاکستان کی سول سروس کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں اس کے تاریخی پس منظر میں جھانکنا پڑتا ہے۔ جہاں کامیابیوں کے ساتھ ساتھ کئی سبق آموز موڑ بھی ملتے ہیں۔ کیا کھویا کیا پایا اور کیا لیا کیا دیا۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کا بوقت قیام زیرو بجٹ تھا۔ ایسا کیوں تھا یہ کہانی پھر سہی۔ خیر ایسی صورتحال میں ملک کو آگے لے کر چلنا آسان نہیں ہوتا اوپر سے قائد اعظم بانی پاکستان کی رحلت، ہندوستا ن کا معاندانہ رویہ، مہاجرین کی آبادکاری اور ہر شعبے کی ازسرنو تشکیل۔ مشکلیں اتنی پڑیں کہ آساں ہو گئیں۔ تدبر اور حکمت سے تو پتھر بھی پگھل جاتے ہیں اور آنکھیں کھول کر دیکھنے والے اپنے لئے راستے بنا ہی لیتے ہیں۔ آگے بڑھنے والوں کے لئے نئے نئے راستے کھلتے ہیں اور پھر کھلتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اختلاف رائے اپنی جگہ۔ تاہم سول سروس کے لوگ اور وہ بھی انڈین سول سروس کے تربیت یافتہ آزمودہ لوگ۔ گراس روٹ لیول سے ہر لیول پر پلے کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ سرکاری دفاتر قائم کئے جانے تھے، مہاجرین کی آبادکاری کا مسئلہ اور اس مسئلے کا فوری حل، ضروری انفراسٹرکچر بنانا، افرادی قوت کی نئے سرے سے تعلیم وتربیت، معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے سپیڈ ورک بلکہ ورک، ورک اور ورک یعنی کام، کام اور کام۔ دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان عالم اسلام کا قلعہ بن گیا اور اس کی معاشی طور پر بھی ترقی کی شاہراہوں پر اڑان۔ 1965کی جنگ میں ہندوستان کو منہ توڑ جواب۔ اب تک تو ہو گئی بلے بلے اور پھر کسی کی نظر بد لگی اور 1971کی جنگ کے نتیجے میں پاکستان کا دو لخت ہوجانا اور پھر ہر طرف غیر یقینی صورتحال۔ سیاست اور مارشل لا کی مسلسل آنکھ مچولی۔ سیا سی عدم استحکام ہر لحاظ سے ملک کے معاملات کو متاثر کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سول سروس اور دیگر جملہ معاملات سب دگر گوں۔ ایڈہاک ازم بلکہ کئی قسم کے ازم۔ کاش ازم کی بجائے عزم کا تسلسل برقرار رہتا تو آج ہم کہاں کے کہاں ہوتے۔ واقفان حال جانتے ہیں ہم تو ایک دوسرے کے پیچھے پڑ گئے اور یوں پیچھے بلکہ بہت ہی پیچھے رہ گئے۔ ہر ایک کا پھر مدافعانہ رویہ اور سارے کام ٹھپ۔ پنجاب پانچ دریاں کی سرزمین اور وہ بھی انتہائی خوبصورت سرزمین۔ جہاں میدان ہیں کھیت ہیں کھلیان ہیں، فلک بوس پہاڑی سلسلے اور یہاں کا گبھرو جوان اور مرد کے دم بقدم چلنے والی حوصلہ مند حوا جائی۔ ہاتھ پائوں مارنے اور ہر وقت آگے بڑھنے کے لئے برسرپیکار لوگ۔ ایسے تو نہ پورے پاکستان میں پنجاب کا نام ہر لحاظ سے سرفہرست۔ یہاں کے اداروں نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ جیسا کہ متذکرہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے کہ ہمارے ہاں ایک ایڈہاک ازم کا دور ہے۔ ایڈہاک ازم کو یعنی جمود کو توڑنا آسان نہیں ہوتا تاہم قیادت کا اس سلسلے میں بڑا ہی اہم کردار ہوتا ہے اور سیاسی قیادت کی معاملہ فہمی اور بصیرت اگر میسر ہو اور سول سروس کی باگ ڈور کسی روشن خیال متحرک افسر کے ہاتھ میں ہو تو پھر اس کو کہتے ہیں سونے پہ سہاگہ۔ عصر حاضر اور پنجاب میں قابل ذکر انتظام وانصرام کا منفرد مثالی دور۔ وزیر اعلی پنجاب کی سیاسی اور انتظامی کارکردگی۔ “مریم نواز کام تو کررہی ہے” زبان زدخاص وعام فقرہ۔اپنے تو اپنے غیر بھی یک زبان۔ اور پھر زاہد اختر زمان چیف سیکریٹری پنجاب۔ اداروں کے روایتی انداز کا خاتمہ، زمینی حقائق اور جدید تقاضوں کے مطابق قانون سازی ، افرادی قوت کی مطلوبہ تعلیم وتربیت، مطلوبہ انفراسٹرکچر کا یقینی بنایا جانا، جزا سزا کا ضروری نظام، سرکاری اداروں کی تجدید نو، ریڈ ٹیپ ازم کے مکمل خاتمے کے لئے ضروری تبدیلیاں خصوصا رویوں میں تبدیلی، پبلک سروس ڈلیوری بلکہ عوام پر اداروں کے دروازے ٹھک ٹھک کھلنا اور اس کے لئے ایپ ہائے کے نظام کا متعارف کروایا جانا، انتظامی امور میں انقلابی تبدیلیاں اور گراس روٹ لیول پر فکرودانش کا سنگ مرمر۔ مالی وسائل کی بہتری کے لئے آٹومیشن اور انٹیگریشن سسٹمز کا لاگو کیا جانا اور سب متعلقہ اداروں کا یک جان۔ سالہا سال سے زمین کے زیر التوا معاملات کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات اور اس سلسلے میں ہونے والے فراڈ ہائے کے پائوں میں قانون کے مضبوط نیل۔ لاء اینڈ آرڈر، اداروں کی تنظیم نو اور جرائم پیشہ افراد کی چیکیں۔ فائل اور پہیے کا بیانیہ ہمارے سارے دفتری معاملات پر بہت بڑا سوالیہ نشان اور ہم ملازمین شرمندہ شرمندہ۔ اس اہم معاملہ پر ای فائلنگ سسٹم۔ فائل کے پلندے ختم اور فائل کو واقعی پہیے کی بجائے پر لگ گئے۔ گھر بیٹھ کر کام کروانے کا خواب شرمندہ تعبیر۔ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو اور اگر واقعی درد دل ہو اور انسان احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو پھر اصلاحات ایسے ہی ہوتی ہیں جیسے زاہد اختر زمان چیف سیکرٹری پنجاب کی زیر نگرانی ہوئی ہیں۔ چند سال ہی پہلے موصوف سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب تھے اور راقم الحروف کو ان کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ میسر آیا۔ وہ بورڈ آف ریونیو کے انفراسٹرکچر اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے حالات پر تلملاتے تھے بلکہ کڑھتے تھے اور ٹھنڈی آہیں بھرتے تھے۔ بعد ازاں ان کا چیف سیکریٹری کی کرسی پر براجمان ہونا۔ اداروں کی ترجیحات ہی بدل گئیں۔ سول سیکریٹریٹ کا نقشہ بدل گیا، افسروں کے سوچنے کا انداز بدل گیا اور مجموعی طور پر سول سروس کا مزاج بدل گیا۔ ان سارے کاموں میں عوامی مفاد سر فہرست۔ دفتروں کے باہر لمبی لمبی قطاریں ختم اور کلرک بادشاہ۔ بادشاہیاں ختم۔ “اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی۔۔ہم نے تو دل جلا کے سرعام رکھ دیا”۔ گڈ گورنس پنجاب میں اب محض خواب نہیں ہے بلکہ حقیقت بن چکی ہے اور اب اس حقیقت کے تسلسل کے لئے ہر سرکاری ملازم کو کام کرنا ہوگا اور یہ بھی سب پر حقیقت آشکار ہو جانی چاہیئے کہ کام سے ہی نام ہوتا ہے مزید یہ کہ اگر کام اور نام اچھا ہو تو پھر انجام کا فیصلہ کے پی آئی (کی پرفارمنس انڈیکیٹر) کرے یا فیصلہ عوام کی عدالت کرے۔ تاریخ پر تاریخ کی کہانی ختم۔ آفرین ہے آفرین ہے۔ خوفناک ایڈہاک ازم مذکورہ کے مکمل خاتمے کے لئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور تاحال کئے گئے اقدامات کے تسلسل کو یقینی بنانا بھی بہت ضروری ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام اور افسران کا درمیانی فاصلہ مزید ختم کرنا ہوگا۔پٹواری، کلرک اور تھانیدار کو دوش دینے کی بجائے سپروائزری میکانزم کو بہتر کرنے کے لئے عملی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ تمام اداروں میں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیاں۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے مضبوط آڈٹ سسٹم کا وضع کیا جانا اور آڈٹ سسٹم میں پائی جانے والی کرپشن پر بھی ایک نظر۔ عوام کی دہلیز پر انصاف۔۔ایگزیکٹو مجسٹریسی واحد ذریعہ اور ایڈمنسٹریٹو جسٹس کے نظام کی اہمیت کا ادراک اور اس نظام کو لاگو کرنے کی ضرورت۔ سرکاری ملازمین کے ذہنوں کو لارڈ شپ کے تصور سے بالکل خالی کرنا ہوگا اور عوام دوستی کلچر کا فروغ۔ بہرحال مختصر وقت میں بہت کام ہو گیا ہے اور اب اس تسلسل کو آگے بڑھانے کے لئے افسروں میں شعوری احساس بیدار کرنے کے لئے بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جمود سے جدت تک۔۔سول سروس کے ایک نئے دور کا آغاز۔ (سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں