مبینہ گٹھ جوڑ،انکوائری ٹیم کے سروے سے قبل سرکاری کتابوں کا سٹاک غائب

جڑانوالہ(نامہ نگار)سرکاری کتابوں کی مبینہ فروخت کے معاملے کی تشکیل دی جانیوالی انکوائری ٹیم کے سروے سے قبل مبینہ طور پر بک ڈپو مالکان کو آگاہی پیغام نے کتب مالکان اور محکمہ تعلیم کے چند افسران کے مبینہ گٹھ جوڑ کو عیاں کر دیا،اعلیٰ سطحی انکوائری ٹیم تشکیل دیکر خفیہ طور پر چھاپے مارے جائیں ،عوامی سماجی حلقوں کا وزیراعلیٰ پنجاب،صوبائی وزیر تعلیم پنجاب سے مطالبہ،تفصیلات کے مطابق ڈیلی بزنس رپورٹ میں خبر شائع ہوئی تھی کہ سرکاری سکولوں کی کتابیں پوری قیمت پر بک ڈپوئوں پر مبینہ طور پر فروخت ہو رہی ہیں جس پر سی ای او فیصل آباد رائو عبدالکریم نے نوٹس لیتے ہوئے 2 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور انکوائری ٹیم کو سخت ہدایات جاری کیں کہ معاملہ کی جلد از جلد تحقیقات کی جائے اور سرکاری کتابوں کی فروخت میں ملوث پائے جانیوالے کتاب شاپس مالکان اور انکے سہولت کاروں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے سی ای او فیصل آباد رائو عبدالکریم نے انکوائری کمیٹی میں محمد شکیل ڈپٹی ڈی ای او ایجوکیشن سٹی کنوئیر اور ارسلان افضل اے ای او ایجوکیشن کو ممبر مقرر کیا تھا جنہیں خصوصی ہدایات دی گئی کہ حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ نصابی کتب کی مارکیٹ میں فروخت ہونا حکومتی پالیسی اور نظم و نسق کی سنگین خلاف ورزی ہے،ذرائع کے مطابق انکوائری ٹیم نے جڑانوالہ کی تمام کتب شاپ کی تصاویر حاصل کی اور مبینہ طور پر فوٹو سیشن کرکے افسران بالا کو سب اچھا کی رپورٹ ارسال کر دی ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انکوائری ٹیم نے کسی بھی بک ڈپو کے اندر پڑا سٹاک چیک کرنے کی زحمت تک گوارہ نہیں کی ہے انکوائری ٹیم کی جانب سے مبینہ طور پر فوٹو سیشن تک کئے گئے سروے پر کئی سوالات کھڑے ہو چکے ہیں ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انکوائری ٹیم کے سروے سے قبل مبینہ طور پر محکمہ تعلیم کے دفتر میں تعینات افسر کی جانب سے مبینہ طور پر کتب مالکان کو آگاہی پیغام جاری کیا گیا جس پر مبینہ طور پر سرکاری کتب کی فروخت میں ملوث بک ڈپو کے مالکان نے مبینہ طور پر سٹاک غائب کر دیا محکمہ تعلیم کے افسر کی جانب سے بک ڈپو مالکان کو مبینہ طور پر آگاہ کرنے کے اقدام نے سرکاری کتب کی فروخت میں ملوث بک ڈپو مالکان اور محکمہ تعلیم کے بعض افسران کے مبینہ گٹھ جوڑ کو بھی عیاں کر دیا ہے۔ عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف،صوبائی وزیر تعلیم پنجاب و دیگر ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری کتب کی اوپن مارکیٹ میں مبینہ فروخت کے معاملے کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی انکوائری ٹیم تشکیل دی جائے اور خفیہ طور پر کارروائیاں عمل میں لائی جائے جبکہ محکمہ تعلیم کے جن افسران کے مبینہ طور پر کتب مالکان کیساتھ رابطے ہیں انکو بھی فی الفور معطل کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں