پٹرول لیوی میں کمی کے باوجود ٹرانسپورٹرز کا کرایے کم کرنے سے انکار

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں 80 روپے لیوی ٹیکس کم کرنے کے باوجود ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کمی کرنے سے انکار کر دیا’ مسافروں اور بسوں’ گاڑیوں کے کنڈیکٹرز میں لڑائی جھگڑے ہونے لگے’ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے انٹر سٹی نیا کرایہ نامہ جاری نہ ہو سکا جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے عملہ نے چپ سادھ لی۔ تفصیل کے مطابق حکومت پاکستان نے پٹرول کی قیمتیں 458.41 روپے اور ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے مقرر کی تھیں۔ اس کے بعد پٹرول کی قیمت 80 روپے کم کر کے 378 روپے کر دی اور ٹرانسپورٹرز نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے فوری طور پر انٹر سٹی کرایوں میں ڈیڑھ سو سے دو سو روپے بڑھا دی ہیں اس کے ساتھ ہی اندرون شہر آٹو رکشہ’ موٹرسائیکل رکشہ والوں نے بھی کرایہ ڈبل کر دیا اور پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کمی نہ کی ہے اور بعض ٹرانسپورٹرز نے معمولی کمی کی ہے جسکی وجہ سے انٹرسٹی سفر کرنے والوں کا بس کنڈیکٹروں سے جھگڑا معمول بنتے جا رہے ہیں اور ریجنل ٹرانسپورٹرز اتھارٹی کی جانب سے ابھی تک نیا کرایہ نامہ جاری نہ کیا جا سکا ہے۔ جسکی وجہ سے مسافر پریشان ہیں اور ٹرانسپورٹرز من مانے کرائے وصول کر رہے ہیں۔ شہری حلقوں نے کمشنر راجہ جہانگیر’ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹر سٹی کرایہ نامہ فوری طور پر جاری کیا جائے اور من مانے کرایہ وصول کرنے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں