لاہور(بیوروچیف)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عوامی اور گڈز ٹرانسپورٹ کو سبسڈی ملنے سے عوام کو مزید ریلیف ملے گا،خطے کے کئی ممالک میں پٹرول کی قلت ہوگئی ہے تاہم موجودہ صورتحال میں بھی حکومت نے ملک میں پٹرول کی قلت نہیں ہونے دی،مشاورت کے بعد پٹرول کی قیمت میں اضافہ اور سبسڈی کا نظام وضع کیا گیا جبکہ قومی قیادت کو آگاہ کیا گیا کہ اب حکومت کے لیے مہنگائی کا بوجھ اٹھانا مشکل ہو چکا ہے، وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک عوام خود کو محفوظ محسوس نہ کریں۔وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پرائسنگ فارمولے پر سخت محنت کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی اور عوامی ریلیف کے لیے پٹرول پر عائد لیوی میں 80 روپے تک کمی لائی گئی ہے۔وزیراعظم نے چاروں صوبوں کی قیادت کو اکٹھا کرکے اقدامات کیے، عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مکمل سبسڈی سے پورا نہیں کیا جاسکتا، ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے براہ راست کیش ٹرانسفر کا نظام تیار ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گی ۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں تیل کی قلت نہیں اور حکومت نے ایندھن کی مسلسل فراہمی کا بندوبست کر رکھا ہے، عام آدمی مشکل کا شکار ہو یہ وزیراعظم کو برداشت نہیں، اسی لیے کفایت شعاری پر وزیراعظم روزانہ کی بنیاد پر وزارتوں سے رپورٹ طلب کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کسانوں اور محنت کشوں کو تیل کی قلت سے بچانے کے لیے بروقت اقدامات کیے جبکہ ہمسایہ ممالک میں قلت اور لمبی قطاروں کے باوجود پاکستان میں صورتحال مستحکم رہی۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تین ہفتوں تک 129 ارب روپے کی سبسڈی دے کر عوام کو عالمی مہنگائی سے بچایا اور سرکاری سطح پر تیل کے اخراجات میں 40 فیصد تک کمی کا فیصلہ کرکے بچت مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشیدگی شروع ہوئی تو وزیراعظم نے ہمیں پہلے دن سے جگایا،پورے خطے میں تیل کی قلت ہوئی،دوسرے ممالک میں پیٹرول کیلئے لائنیں لگی ہیں۔جہاں سے ہوسکا ہم نے تیل کا بندوبست کیا،2جہاز آبنائے ہرمز کے ذریعے آئے،فجیرا سے بھی تیل کا بندوبست کیاگیا،پاکستان میں تیل کی قلت پیدا نہیں ہوئی،تاریخ میں عالمی سطح پرکبھی قیمتیں اتنا اوپر نہیں گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کئی راتیں جاگے،ان کی ٹیم نے محنت کی، 3ہفتے تک وزیراعظم نے قیمتوں کا بوجھ عوام پر نہیں آنے دیا، وزیراعظم نے عید کے موقع پرکہا کہ اپنے لوگوں کواذیت برداشت نہیں کرنے دوں گا، اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ مفت کردی گئی۔وزیراطلاعات عطاتارڑنے کہا کہ سندھ میں بھی کرایوں میں اضافہ روک دیاگیا،وزیراعظم شہبازشریف نے ہارنہیں مانی ،عوام کو پریشانی سے بچانے کیلئے جو ہوسکا کریں گے۔وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ حکومتی معاشی پالیسیوں کا محور عام آدمی کی فلاح ہے، خوراک کی ترسیل کرنے والے ٹرکوں کے لیے ڈیزل پر خطیر رعایت دی جائے گی اور مال بردار گاڑیوں کو ماہانہ 80 ہزار روپے تک سبسڈی ملے گی۔وزیراعظم نے مڈل کلاس طبقے کے لیے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے کمی کا اہم فیصلہ کیا ہے، صاحب حیثیت افراد پر اضافی بوجھ ڈال کر غریب اور متوسط طبقے کو مہنگائی سے تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، وزیر اعظم مقصد کسان اور مزدور کے لیے عزت کی زندگی یقینی بنانا ہے۔کابینہ ارکان نے عوامی مشکلات کے پیش نظر اپنی 6 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، توانائی کی بچت قومی فریضہ ہے ،شہریوں سے پٹرول اور بجلی کے استعمال میں احتیاط کی اپیل ہے۔مصدق ملک نے کہا کہ حکومت کو کئی چیلنجز درپیش ہیں اور مہنگا تیل خرید کر سستا فروخت کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہیں، اسی لیے مسلسل سبسڈی کا سلسلہ جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، ٹارگٹڈ سبسڈی کی فراہمی وزیراعظم کا عزم ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے غریب کسانوں کو 1500 روپے فی ایکڑ ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ موٹر سائیکل سواروں اور مڈل کلاس کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، بین الاضلاعی بسوں کو سستا ڈیزل فراہم کر کے کرایوں میں کمی لائی جائے گی۔مصدق ملک نے کہا کہ شدید گرمی میں محنت کرنے والے کسانوں کے لیے جامع ریلیف پیکیج تیار کر لیا گیا ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز کو ماہانہ ایک لاکھ روپے تک سبسڈی کرایوں میں کمی سے مشروط ہوگی۔مصدق ملک نے کہا کہ 3سے 4 ہفتے ہو چکے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے،تیل کی قیمت کاطوفان تھا،حکومت دیواربن کر کھڑی رہی، 130ارب روپے ترقیاتی منصوبوں میں سے کاٹ کر عوام کو دیئے گئے، ایک ایک پیسہ بچت سے خرچ کیاگیا، ذمہ داری سے فیصلہ کیا قیمتوں کا بوجھ غریب پر نہ ڈالاجائے۔




