پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض کوئی معاشی عدد یا پالیسی کی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ یہ عام آدمی کی بقا پر ایک براہِ راست حملہ ہے۔ عوام کی مالی حالت اور ان کی تکلیف کے بارے میں حکومت کی بے حسی واضح ہو چکی ہے۔ ایک طرف اشرافیہ ہے جو پروٹوکول اور سرکاری مراعات کے سائے میں سفر کرتی ہے، اور دوسری طرف وہ باپ ہے جو بارہ گھنٹے کی سخت مشقت کے بعد اپنی اولاد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے کتراتا ہے، کیونکہ اسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ گھر کا راشن پورا کرے یا دفتر جانے کے لیے پیٹرول کا انتظام کرے۔ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو انسان نہیں بلکہ صرف ریونیو اکٹھا کرنے کی ایک مشین سمجھتی ہے۔ حکومت کی منطق اور جواز اب مضحکہ خیز حد تک کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ پچھلے ماہ جب حکو مت نے ایک ہی جھٹکے میں 55روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا، تو عذر یہ پیش کیا گیا کہ عالمی جنگی حالات کی وجہ سے تیل کی شدید قلت ہے اور سپلائی لائن متاثر ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے؛ پاکستان کی بندرگاہوں پر تیل کے ٹینکر لنگر انداز ہو رہے ہیں اور سپلائی کا کوئی حقیقی تعطل نظر نہیں آتا۔ اگر تیل وافر مقدار میں پہنچ رہا ہے، تو پھر اس حالیہ اضافے کا کیا جواز ہے؟ اس اضا فے کی سنگینی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ 3اپریل 2026کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت 458.41روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے فی لیٹر تک پہنچا دی ہے۔ اگر ہم صرف ایک ماہ پہلے کا موازنہ کریں جب پیٹرول تقریباً 321روپے تھا، تو یہ محض ایک ہی بار میں 43فیصد کا ہوش ربا اضافہ ہے۔ حکومت نے اب پٹرول لیوی میں 1 ماہ کے لیے 80 روپے کی کمی کر دی ہے’ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر قیمتیں بڑھاتے وقت پٹرول لیوی کم کی جاتی اور اب منافع خور مافیا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا جواز بنا کر مہنگائی کا بازار گرم کر دیا گیا ہے۔ جب ڈیزل 500روپے کی حد عبور کر جائے، تو کاروبار کرنیکی لاگت صرف بڑھتی نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر تباہ ہو جاتی ہے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں صنعتی پیداوار میں 3سے5 فیصد تک کمی آئیگی، جس کا مطلب ہے کہ بے شمار فیکٹریاں بند ہو جائیں گی۔تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ اس تباہی کی پہلی کڑی ہے۔ چونکہ ہمارے بجلی کے کارخانے ایندھن کی نقل و حمل اور پیداوار کے لیے فرنس آئل اور ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے بجلی کی قیمتیں بھی اب راکٹ کی طرح اوپر جائیں گی۔ نیپرا (NEPRA) کی جانب سے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مزید اضافے کی تیاریا ں کی جا رہی ہیں، جس سے فی یونٹ قیمت میں 1.64سے 2.00روپے تک کا اضافہ متوقع ہے۔ ایک متوسط طبقے کے گھرانے کے لیے بجلی کا بل اب صرف ایک بل نہیں رہا، بلکہ یہ اس مکان کی قسط بن چکا ہے جس کے وہ مالک بھی نہیں ہیں۔ جب ڈیزل کی قیمتوں میں اتنا بڑا چھلانگ لگتا ہے،تو ٹرانسپورٹرز نہ صر ف کرایوں میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ اسے دوگنا کر دیتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایک شخص کی دن بھر کی دیہاڑی کا بڑا حصہ صرف کام کی جگہ تک آنے جانے میں صرف ہو جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کی مہنگائی پہلے ہی 12.5 فیصد تک پہنچ چکی تھی، یہ تمام عوامل ہمیں بے روزگاری اور سماجی بگاڑ کے ایک خوفناک موڑ پر لے آئے ہیں۔ جب چھوٹے کاروبار لاجسٹکس اور بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے دب کر بند ہوں گے، تو ہزاروں لوگ بغیر کسی حفاظتی جال کے سڑکوں پر آ جائیں گے۔ معاشی ماہرین کا اندازہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں ہر10فیصد اضافے سے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں 0.5سے 0.8فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔24کروڑ کے ملک میں اس کا مطلب ہے کہ لاکھوں لوگ چند ہی ہفتوں میں اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھے گا اور اسے ریاست کی طرف سے کوئی ہمدردی نہیں ملے گی، تو معاشرے کا شیرازہ بکھرنے لگے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ معاشی مایوسی ہی اسٹریٹ کرائم، چھین جھپٹ اور چوری چکاری کی اصل وجہ بنتی ہے۔ بھوک کسی منطق کو نہیں مانتی، اور جو حکومت اپنے لوگوں کی بھوک کو نظر انداز کرتی ہے، وہ دراصل لاقانونیت کو دعوت دیتی ہے۔ آٹے کے تھیلے سے لے کر زندگی بچانے والی ادویات تک، ہر چیز کی قیمت اس ایک لیٹر تیل سے جڑی ہے، اور اسے عوام کی پہنچ سے دور کر کے حکومت نے وہ آگ لگا دی ہے جس سے ہر شخص متاثر ہو رہا ہے۔




