اسلام آباد (عظیم صدیقی) تجارتی خسارہ میں مسلسل اضافہ’ برآمدات میں کمی’ درآمدات میں اضافہ’ ٹیکسوں کی وصولیوں میں بڑی کمی نے حکومت کو پریشان کر دیا ہے اور ایک بار پھر 28 ویں ترمیم لانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ایک اعلیٰ حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم میں گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے کام شروع ہے اکثر معاملات پر تفصیلی ہوم ورک مکمل ہو چکا ہے۔ نئے صوبے بنانے کا کام اصل ہدف ہے لیکن اس کے پس پردہ اہم کام یہ ہے کہ قومی مالیاتی ایوارڈ (NFC) کے ذریعے صوبوں کو 2010ء سے جو وفاق فنڈز دے رہا ہے اس میں کٹوتی کرنا ہے کیونکہ اس وقت وفاق مالیاتی لحاظ سے کمزور ہے وفاقی فنڈز FBR کا اکثریتی حصہ صوبوں کو چلا جاتا ہے نئے 2اصولوں کا قیام اسی وجہ سے ہو رہا کہ وفاقی مالیاتی حصہ صوبوں کو کم کیا جائے۔ اس سلسلے میں فی الحال پارلیمانی گروپوں یا صوبوں سے مشاورت شروع نہیں کی گئی لیکن اندرونی طور پر سنجیدگی سے کام شروع ہے آئینی ترمیمی مسودہ پیش کرنے بارے حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔




