راجہ جہانگیر انور خداداد صلاحیتوں کے مالک’ جب سے فیصل آباد میں ڈویژنل کمشنر کا چارج سنبھالا، کمشنر آفس کی صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی ہے یہاں پر آنیوالے سائلین کو اب یقین ہوتا ہے کہ وہ جس مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں وہ ضرور پورا ہو گا، کمشنر آفس میں ان کے متحرک کردار کا ہر خاص وعام معترف ہے راجہ جہانگیر انور نے فیصل آباد میں سٹیٹ آف دی آرٹ منصوبوں کی مثال قائم کر دی ہے اور ان جیسا متحرک کردار ماضی میں کسی بھی ڈویژنل کمشنر نے ادا نہیں کیا۔ مگر انہیں چاہیے کہ وہ ترقیاتی کاموں کی تیز رفتاری سے تکمیل یقینی بنانے کیساتھ ساتھ اس کا معیار برقرار رکھنے پر مکمل توجہ دیں، فیصل آباد میں ان دنوں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز ہے لیکن ان کے معیاری ہونے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، شہر میں سڑکوں کے پیچ ورک کو غیر معیاری طریقہ کار سے کیا گیا ہے، ملت روڈ پر ایک تکہ شاپ کے سامنے زمین کے نیچے سے گزرنے والا نالہ اچانک زمیں بوس ہو گیا۔ نالہ بیٹھنے کی وجہ سے سڑک کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ چکا ہے، جس سے ٹریفک کی روانی میں شدید خلل پیدا ہو رہا ہے خوش قسمتی سے، اس واقعے میں ابھی تک کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ تاہم سڑک پر گہرا شگاف پڑنے سے گزرنے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں اور اب شہر بھر میں جاری ترقیاتی کاموں کے پنڈورا بکس کھلنا شروع ہو گئے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ڈویژنل کمشنر راجہ جہانگیر انور نے دیرینہ عوامی مسائل کے حل اور تعمیر وترقی کے ریکارڈ منصوبوں کی تکمیل کے ذریعے زندہ دلان فیصل آباد کو بھرپور ریلیف فراہم کرنے کی ٹھان رکھی ہے، شہر بھر میں سڑکوں کا پیچ ورک’ سٹریٹ لائٹس کی درستگی اور پارکوں کی تزئین وآرائش ان کی ترجیحات میں شامل ہے مگر انہیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ فیصل آباد میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز مگر معیار کم ہے، شہر بھر میں جاری ترقیاتی کاموں کی چیکنگ پر مامور انجینئرز اور متعلقہ افسران ”لکشمی کی چمک” کے باعث گھر بیٹھے ہی متعلقہ ٹھیکیداروں کو کلین چٹ دے رہے ہیں، ہم نے فیصل آباد میں ہونیوالے ترقیاتی کاموں کے کم معیار بارے متعدد بار نشاندہی کی ہے، شہر کے پوش علاقے چھوٹی ڈی گرائونڈ کی نئی تعمیر ہونے والی سڑک میں ناقص میٹریل کے استعمال کے حوالے سے بھی نشاندہی کی گئی اور بتایا گیا کہ اس سڑک کو بذریعہ ٹریکٹر کھود دیا گیا اور اس پر تارکول کی جو تہہ تھی اسے اٹھا لیا گیا جبکہ سابقہ بیس اور سب بیس کو 2ڈمپر پتھر ڈال کر اس پر خاکہ ڈال دیا گیا ہے۔ یہ خاکہ کئی روز سے ڈالا جا چکا ہے اور ابھی سڑک پر اسفالٹ نہیں ڈالا گیا ۔ سڑک کی تعمیر کے لیے عموماً ایسا ہوتا ہے کہ پتھر اور خاکہ ڈال کر کئی روز تک اس پر پانی کا چھڑکائو کرکے روڈ رولر سے کمپیکشن کی جاتی ہے تاکہ زمین اور سڑک ہیوی ٹریفک کا دبائو برداشت کر سکے اور یہ بالکل نئی سڑک کی تعمیر کے وقت ہوتا ہے مگر یہاں ایسا نہیں کیا گیا جس کے باعث سڑک کی تعمیر معیاری نہ ہو سکی، اس سڑک کی تعمیر میں متعلقہ ٹھیکیدار اور کارپوریشن کے متعلقہ عملہ نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا ناقص ترین میٹریل استعمال کیا گیا، گزشتہ دنوں ہونیوالی بارش نے سڑک کو ادھیڑ کر رکھ دیا، اس کی نشاندہی کرنے پر راجہ جہانگیر انور نے فوری نوٹس لیتے ہوئے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن سے رپورٹ طلب کر لی، ٹھیکیدار نے میونسپل کارپوریشن کے انجینئر کے ہمراہ سڑک کا وزٹ کر کے’ سڑک کی تصویر بنا کر ڈویژنل کمشنر کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جسے اہل محلہ نے ناکام بنا دیا، اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ ٹھیکیدار کے ساتھ میونسپل کارپوریشن کے بعض افسران بھی ملے ہوئے ہیں جو اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں، یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ ڈویژنل کمشنر انتہائی زیرک’ محنتی’ جہاندیدہ شخصیت اور اعلیٰ اوصاف کے مالک ہیں، چھوٹی ڈی گرائونڈ سڑک کی ناقص تعمیر پر انہوں نے فوری نوٹس لیا اور راقم سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسائل کی نشاندہی کو اچھا کام قرار دیتے ہوئے اسے خوب سراہا، ٹیلیفونک بات چیت کے دوران ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی ٹھیکیدار کو ترقیاتی کاموں میں ناقص میٹریل کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسا کرنے والے ٹھیکیدار کو بل ادا نہیں کئے جائیں گے اور ان کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا، ڈویژنل کمشنر راجہ جہانگیر انور کو چاہیے کہ انکوائری کروائیں اور ٹھیکیدار سمیت اس کی پشت پناہی کرنے والے میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کے افسران کیخلاف بھی ایکشن لیں۔ پنجاب کے اس دوسرے بڑے شہر کے لوگ اس بات پر بیحد خوش ہیں کہ اب کسی قسم کی بدعنوانی اور ترقیاتی کاموں کے کم معیار پر ڈویژنل کمشنر آفس کی جانب سے فوری نوٹس لیا جاتا ہے، ہم نے گزشتہ دنوں نشاندہی کی کہ کمشنر ہائوس روڈ پر ہلال احمر چوک سے میاں محمد ٹرسٹ ہسپتال تک شہر کی خوبصورتی کے لیے پام کے درخت لگائے گئے جن پر 25لاکھ روپے لاگت آئی، یہ درخت خشک ہو چکے ہیں، امید ہے کہ اس معاملہ کی شفاف تحقیقات کرتے ہوئے ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی، فیصل آباد میں بدعنوانی کے مرتکب عناصر کو کسی صورت بھی معاف نہیں کرنا چاہیے، اس معاملے میں چیک اینڈ بیلنس پر مکمل توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور اس مقصد کے لیے اچھی شہرت کے حامل افسران کو ذمہ داریاں سونپی جائیں، گزشتہ دنوں کی جانیوالی روڈ مارکنگ میں ناقص میٹریل استعمال کیا گیا جبکہ افسران کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ایڈمنسٹریٹر آفس (میونسپل کارپوریشن فیصل آباد) کے باہر سڑک پر گند جوں کا توں پڑا ہے، افسران بالا کو سب اچھا ہے کی رپورٹ پیش کرنے کیلئے بڑی شاہراہوں پر سٹریٹ لائٹس درست اور چالو رکھی جاتی ہیں جبکہ رہائشی کالونیوں اور گلی محلوں میں سٹریٹ لائٹس کی درستگی کا مسئلہ پائیدار بنیادوں پر حل نہیں کیا جا رہا اور شہر کے یہ علاقے رات کے وقت گھپ اندھیرے میں ڈوبے رہتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب متعلقہ افسران اس بارے میں بازپرس کریں تو یہ بہانہ تراش لیا جاتا ہے کہ ہمارے پاس پوری چیزیں موجود نہیں حالانکہ یہ ان کے پاس موجود ہوتی ہے، ترقیاتی کاموں میں کم معیار قومی خزانے کا بھی بدترین ضیاع ہے، عوام پر طرح طرح کے ٹیکسز عائد کر کے قومی خزانہ جمع کیا جاتا ہے، سوئی گیس کے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، بجلی کے بلوں پر فکسڈ چارجز’ FWMC کے فکسڈ چارجز’ واسا کے بلز ادا کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد اقسام کے ٹیکسز وصول کر کے قومی خزانے کا بے دریغ استعمال ہو تو عوام کے دلوں پر جو بیت رہی ہوتی ہے، اس کا مکمل احساس کرنا چاہیے’ ترقیاتی کاموں کی تیز رفتار تکمیل اچھی بات ہے مگر ان کے معیار پر بھی کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، ڈویژنل کمشنر راجہ جہانگیر انور نے اس معاملے میں نوٹس لیکر اچھی مثال قائم کی ہے، تمام محکموں اور اعلیٰ افسران کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے تاکہ شفافیت کو فروغ ملے اور قومی خزانے کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔




