فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل فیصل آباد نے کروڑوں روپے کی خردبرد کے الزام میں نیشنل بنک سرگودھا روڈ برانچ کے سابق منیجر کاشف شہزاد اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث 4ملزمان کو گرفتار کر لیا اور ان کے خلاف مقدمات درج کر کے بازپرس شروع کر دی۔ تفصیل کے مطابق ذیشان نامی شہری نے ایف آئی اے کو درخواست گزاری تھی کہ نیشنل بنک سرگودھا روڈ برانچ کے سابق منیجر کاشف شہزاد نے بیرون ملک سفر کیلئے بنک اسٹیٹمنٹ کی تیاری اور منافع بخش سرمایہ کاروں کے نام پر 4کروڑ 22لاکھ روپے ہتھیا لئے۔ ایف آئی اے کے ایس ایچ او اجمل حسین نے بتایا کہ دوران تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ ملزم کاشف شہزاد بنک کے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں سے رقوم لیکر بنک کے آفیشل ریکارڈ میں منتقل کرنے کی بجائے دیگر نجی اکائونٹس میں منتقل کرتا اور جعلی بنک اسٹیٹمنٹ تیار کر کے سرمایہ کاروں کو ماہانہ منافع کا لالچ دیکر رقم اکٹھی کرتا رہا۔ ملزم کے قبضہ سے مختلف اکائونٹس کی اوپننگ فارنز اور بنک بینک اسٹیٹمنس برآمد ہوئی جبکہ بنک اکائونٹس میں موجود 3کروڑ 67لاکھ روپے سے زائد رقم منجمد کر دی۔ ذرائع کے مطابق ملزم کے ساتھ ویزا کنسلٹنٹ اور دیگر بنک منیجرز اور عملہ سے بازپرس جاری ہے۔ جبکہ ایف آئی اے نے سوساں روڈ پر نجی ہوٹل میں چھاپہ مار کر حوالہ ہنڈی اور غیر ملکی کرنسی کے کاروبار میں ملوث 4ملزمان فہد اقبال’ محمد عاطف’ گلزار احمد اور عمر انور کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے 50لاکھ روپے’ موبائل فونز قبضہ میں لے لئے۔ ملزمان غیر ملکی کرنسی ڈیلرز کے ساتھ رابطوں کے ثبوت بھی ملے ہیں۔




