فیصل آباد کا پارکنگ مافیا اور انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی۔ محترم وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ!اسلام علیکم آپ کی جانب سے صوبہ بھر میں ”گڈ گورننس” شفافیت اور عوامی مسائل کے فوری حل کے دعوے تواتر کے ساتھ میڈیا کی زینت بنتے ہیں جس سے ایک عام شہری یہ امید باندھتا ہے کہ شاید اب سسٹم بدل رہا ہے۔ مگر افسوس کہ پنجاب کے تیسرے بڑے شہر اور صنعتی ہب فیصل آباد کے زمینی حقائق آپ کے ان دعوں کی سنگین نفی کر رہے ہیں۔ یہاں ایک منظم ”پارکنگ مافیا” گزشتہ کئی برسوں سے شہریوں کا استحصال کر رہا ہے اور متعلقہ ادارے اس کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔جنابِ عالیہ !مورخہ 31مارچ کو ایک باقاعدہ تحریری درخواست ڈپٹی کمشنر/ ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپور یشن فیصل آباد کو رجسٹرڈ نمبر3985جمع کروائی گئی تھی ۔ اس درخوا ست میں ”فیصل آباد پارکنگ کمپنی” (FPC) کی غیر قانونی وصولیوں، اوورچارجنگ اور ”پنجاب لوکل گور نمنٹ ایکٹ” کے تحت ان کے فرائض میں سنگین غفلت کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس کے بعد یہی مسئلہ آپ کے ”وزیراعلیٰ پورٹل” پر ایپلی کیشن نمبر 4896073-104کے ذریعے بھی پیش کیا گیا، مگر تاحال نہ تو کوئی عملی پیش رفت ہوئی اور نہ ہی اس فریاد کی وصولی کی باقاعدہ تصدیق فراہم کی گئی۔فیصل آباد پارکنگ کمپنی ایک سہولت کار یا استحصالی گروہ؟یہ کمپنی، جسے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے بنایا گیا تھا، آج خود ایک جبر کی علامت بن چکی ہے۔ مقررہ سرکاری نرخوں سے زائد وصولی، غیر مجاز افراد کے ذریعے فیس بٹورنا، غیر منظور شدہ مقامات پر زبردستی ناکے لگانا اور سیکیورٹی کی عدم فراہمی۔ یہ سب قانون کی کھلی خلاف ورزیاں ہیں۔ مزید حیران کن امر یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ میں کروڑوں روپے کے ریونیو کی کولیکشن کے باوجود شہر میں ایک بھی جدید پارکنگ پلازہ تعمیر نہیں ہو سکا، جو مالی بے ضابطگیوں کی واضح علامت ہے۔ محترمہ وزیر اعلیٰ ! یہاں دو معاملات خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔ 1.(سرکاری ہسپتالوں میں لوٹ مار )پنجاب حکومت کی واضح پالیسی کے برعکس، فیصل آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں پارکنگ کے ٹھیکہ جات کس قانون کے تحت دیے جا رہے ہیں؟ کیا یہ سب کچھ رولز اینڈ ریگولیشنز کے مطابق ہو رہا ہے یا مریضوں اور ان کے لواحقین کی مجبوری کا سودا کیا جا رہا ہے؟ 2.(بار کونسل کا غیر قانونی اختیار)یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ بار کونسل کو اس کے اپنے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوامی مقامات پر پارکنگ کے ٹھیکے دینے اور فیس کلیکشن کا اختیار کس نے دیا ہے؟ کیا یہ براہِ راست میونسپل کارپوریشن اور پارکنگ کمپنی کے دائرہ اختیار میں غیر قانونی مداخلت اور عوامی مفاد پر شب خون نہیں ہے؟ محترمہ وزیراعلیٰ! آپ کی حکومت کے احتساب اور خدمت کے دعوے اس وقت ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں جب ضلعی انتظا میہ ایسے مافیاز کے سامنے خاموش تماشا ئی بنی رہے ۔ فیصل آباد کے شہری یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا قانون صرف کمزور کے لیے ہے؟ اور کیا ”ڈیجیٹل پنجاب”کا خو اب صرف تقاریر تک محدود ہے؟(فیصل آباد کے شہری آپ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ) فیصل آباد پارکنگ کمپنی کا فوری اور شفاف فارنزک آڈٹ کروایا جائے۔ اوورچار جنگ ، غیر قانونی وصولیوں اور ہسپتالوں میں جاری لوٹ مار میں ملوث عناصر کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔ بار کونسل اور دیگر اداروں کے زیرِ انتظام چلنے والے پارکنگ اسٹینڈز کی قانونی حیثیت واضح کر کے غیر قانونی قبضے ختم کروائے جائیں۔پارکنگ کے نظام کو انسانی مداخلت سے پاک کرنے کیلئیفوری ڈیجیٹلائز کیا جائے۔ اس مسئلے پر ایک کھلی کچہری منعقد کر کے براہِ راست عوام کی شکایات سنی جائیں۔بصورتِ دیگر، یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ حکومت کے دعوے محض نمائشی ہیں اور عوامی مسائل محض فائلوں کی نذر ہو رہے ہیں۔




