جدید میڈیکل سائنس اب اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ “ایک ہی سائز کا جوتا سب کے پاں میں پورا نہیں آتا”۔ بالکل اسی طرح، ایک ہی متوازن غذا (Balanced Diet)ہر انسان کیلئییکساں مفید نہیں ہو سکتی۔ یہاں سے ایک انقلابی علم کی بنیاد پڑتی ہے جسے نیوٹری جینومکس (Nutrigenomics)کہا جاتا ہے۔ نیوٹری جینومکس کیا ہے؟نیوٹری جینومکس دو بڑے علوم کا سنگم ہے: غذائیت اور جینیات ۔ یہ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہم جو کچھ کھاتے ہیں، وہ ہمارے خلیات کے اندر موجود ڈی این اے (DNA)کے ساتھ کس طرح گفتگو کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، ہماری غذا ہمارے جینز کو “آن” (On)یا “آف” (Off)کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ہر انسان کا میٹابولزم منفرد ہے آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ بہت زیادہ مرغن غذائیں کھا کر بھی دبلے پتلے اور صحت مند رہتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ معمولی سی بدپرہیزی سے بھی موٹاپے یا بلڈ پریشر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ہمارے جینز میں چھپی ہوئی ہے۔1.انفرادی ردِعمل: ہمارے جینز یہ طے کرتے ہیں کہ ہمارا جسم کاربوہائیڈریٹس، چکنائی اور پروٹین کو کس طرح ہضم کرے گا۔2. خاموش جینز: ہم میں سے بہت سے لوگ مخصوص بیماریوں (جیسے ذیابیطس یا دل کے امراض) کے جینز لے کر پیدا ہوتے ہیں ۔ نیوٹری جینومکس ہمیں بتاتی ہے کہ کون سی مخصوص غذا ان بیماریوں کے جینز کو ہمیشہ کے لیے “خاموش” رکھ سکتی ہے۔کیا غذا ڈی این اے کو تبدیل کر سکتی ہے؟یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ غذا ڈی این اے کی ساخت کو بدل دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غذا ڈی این اے کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ مثال کے طور پر:* بروکلی اور گوبھی: ان میں موجود اجزا کینسر سے بچانے والے جینز کو متحرک کرتے ہیں۔* اومیگا 3 فیٹی ایسڈز:یہ جینز کی سطح پر جا کر جسم میں ہونیوالی سوزش (Inflammation) کو روکتے ہیں_ ذاتی نوعیت کی غذائیت (Personalized Nutrition) کیوں ضروری ہے؟آج کے دور میں ہم “ڈیجیٹل ہیلتھ” کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ نیوٹری جینومکس کے ذریعے اب ماہرینِ غذائیت درج ذیل مسائل کا حل بہتر طور پر نکال سکتے ہیں:* وزن میں کمی کا جمود:بہت سے لوگ سخت ڈائیٹنگ کے باوجود وزن کم نہیں کر پاتے۔ جینیاتی ٹیسٹ یہ بتا سکتا ہے کہ آیا ان کا جسم چکنائی (Fats) جلانے میں سست ہے یا وہ نشاستہ(Carbs)کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے۔* کافی اور چائے کا اثر:کچھ لوگوں کے جینز کیفین کو تیزی سے ہضم کر لیتے ہیں، جبکہ دوسروں میں یہ گھبراہٹ اور بے چینی پیدا کرتی ہے۔* وٹامنز کا جذب ہونا: کچھ افراد میں جینیاتی طور پر وٹامن D یا B12کو جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی اچھی خوراک کیوں نہ لیں۔ مستقبل کا دسترخوانوہ وقت دور نہیں جب خون کے عام ٹیسٹ کی طرح آپ کا جینیاتی پروفائل بھی آپ کے سامنے ہوگا۔ ماہرِ غذائیت آپ کو یہ نہیں کہے گا کہ “سبزیاں کھائیں”، بلکہ وہ کہے گا کہ “آپ کے ڈی این اے کے مطابق آپ کو پالک کے بجائے چقندر کھانا چاہیے کیونکہ آپ کا جسم فولاد کو اس طریقے سے بہتر جذب کرتا ہے”۔ خلاصہ۔ نیوٹری جینومکس ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ صحت کا راز صرف “اچھا کھانے” میں نہیں، بلکہ اپنے “جسم کی ضرورت کے مطابق کھانے” میں چھپا ہے۔ یہ علم کلینیکل نیوٹریشن کے شعبے میں ایک ایسی تبدیلی ہے جو ہمیں بیماریوں سے بچائو اور لمبی زندگی کی طرف لے جا سکتی ہے۔




