موجودہ عالمی منظر نامے میں جہاں مشرق وسطی کی کشیدگی اور بارود کی بو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے درپے ہے، وہاں پاکستان نے ایک بار پھر اپنی جغرافیائی اہمیت اور انتہائی ذمہ دارانہ سفارت کاری کا ثبوت دیتے ہوئے امن کے سفیر کا وہ منفرد اور تاریخی کردار ادا کیا ہے جس کی مثال عصری تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اگرچہ کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے لیکن ان کا انعقاد ہی اس بات کی ناقابل تردید دلیل ہے کہ اس پورے خطے میں صرف اور صرف پاکستان ہی وہ واحد ریاست ہے جو اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر ان دو دیرینہ حریفوں کو ایک میز پر لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ مذاکرا ت ایک ایسے نازک موڑ پر منعقد ہوئے جب دنیا ایک تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی اور ایٹمی طاقتوں کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ پاکستان نے اس ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لیے جو انتھک کوششیں کیں، اس نے ثابت کر دیا کہ عالمی امن کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر گزرتا ہے اور پاکستان کی شرکت کے بغیر مشرق وسطی میں استحکام کا خواب ادھورا ہے۔ان مذاکرات کی ناکامی کے پیچھے کئی ایسے پیچیدہ عوامل اور دہائیوں پر محیط عدم اعتماد کی گہری خلیج موجود ہے جس نے فریقین کو کسی بڑے سمجھوتے پر پہنچنے سے روکے رکھا۔ سب سے بڑا ڈیڈ لاک ایران کے ایٹمی پروگرام پر پیدا ہوا، جہاں امریکہ کا اصرار تھا کہ ایران اپنی افزودگی کے عمل کو فی الفور اور مستقل طور پر منجمد کرے، جبکہ تہران کا موقف تھا کہ وہ اپنے خود مختارانہ حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی معاشی پابندیوں کا خاتمہ ایک ایسا سنگین مسئلہ بن کر ابھرا جس نے بات چیت کے عمل کو مفلوج کر دیا۔ ایران نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس پر عائد تمام معاشی قدغنیں اٹھائی جائیں اور بیرون ملک منجمد اثاثوں تک اسے مکمل رسائی دی جائے، لیکن واشنگٹن نے ان مطالبات کو کسی بھی رعایت سے پہلے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ تزویراتی لحاظ سے اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور ٹرانزٹ فیس پر بھی دونوں فریقین کے درمیان شدید تلخی دیکھی گئی، جبکہ ایران نے اس جنگ بندی کو لبنان اور غزہ کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے پر اصرار کیا، جس پر امریکی وفد تیار نہیں تھا۔اس تمام سفارتی عمل کے دوران ایک طرف جہاں پاکستان امن کی شمع روشن کرنے کی کوشش کر رہا تھا، وہیں بھارت نے اپنی روایتی دشمنی اور تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے اپنا پورا زور لگا دیا۔ نئی دہلی نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کو ایک “دہشت گرد ریاست” کے طور پر پیش کرنے کے لیے اپنی جھوٹی میڈیا مشینری اور سفارتی چینلز کا بے دریغ استعمال کیا، بلکہ اس نے ان مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے ہر ممکن ساز ش کی۔ بھارت کے اس زہریلے پروپیگنڈے کا مقصد عالمی برادری کو یہ تاثر دینا تھا کہ پاکستان ایک ناقابل بھروسہ ملک ہے، تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی پیش رفت کو ناکام بنایا جا سکے۔ یہ بات بھی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت ان مذاکرات کے دوران کسی بھی بڑے ”فالس فلیگ آپریشن” یا تخریبی کارروائی کے ذریعے پاکستان کی سرزمین پر امن دشمنی کا لیبل چسپاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تاکہ دنیا کی توجہ اصل امن مذاکرات سے ہٹا کر ایک نیا بحران پیدا کیا جا سکے۔ بھارتی انٹیلیجنس اداروں کی جانب سے سرحدی علاقوں میں تنا پیدا کرنے اور من گھڑت الزامات تراشنے کی کوششیں دراصل اسی سلسلے کی کڑی تھیں تاکہ اسلام آباد کو ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر ابھرنے سے روکا جا سکے۔ پاکستان نے ان تمام سازشوں اور بھارتی پروپیگنڈے کا جواب انتہائی تحمل اور عملی سفارت کاری سے دیا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ دنیا میں دہشت گردی نہیں بلکہ امن کا پیامبر ہے اور جب دنیا کی دو بڑی طاقتیں اپنے پیچیدہ ترین مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد کی طرف دیکھتی ہیں تو یہ بھارت کے اس بیانیے کی کھلی شکست ہے کہ پاکستان ایک تنہا یا غیر ذمہ دار ملک ہے۔ پاکستان نے اپنی معاشی مشکلات اور اندرونی چیلنجز کے باوجود عالمی امن کے لیے جو قربانیاں دیں اور جس طرح ایک ممکنہ عالمی تباہی کو ٹالنے کی کوشش کی، وہ تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھی جائے گی۔ مذاکرات کی ناکامی فریقین کی اپنی ترجیحات اور ایجنڈے کا نتیجہ ہو سکتی ہے، لیکن پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں استحکام کی واحد ضمانت ہے اور بھارت کے تمام تر منفی ہتھکنڈو ں کے باوجود پاکستان کا امن کی خاطر اٹھایا گیا ہر قدم عالمی سطح پر معتبر تسلیم کیا جاتا ہے۔




