توانائی بحران سنگین،فیسکو کا بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اعلان

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پانی سے بجلی پیدا کرنے والے ذرائع کی پیداوار میں کمی کے باعث بجلی کے نظام پر دبائو میں اضافہ ہو گیا ہے۔ خصوصا شام 5بجے سے رات 1 بجے تک پیک آورز میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر پیک آورز کے دوران برقی نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے روزانہ تقریبا 2.25 گھنٹے بجلی کی بندش کی جا سکتی ہے۔فیسکو ترجمان محمد سعید رضا کے مطابق موجودہ بجلی بحران میں تمام صارفین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بجلی کا استعمال کفایت کے ساتھ کریں تاکہ لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جا سکے اور صارفین کے بجلی بلوں میں بھی کمی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پیک آورز میں بجلی کا غیر ضروری استعمال نہ صرف نظام پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے بلکہ اس سے بجلی کی فراہمی میں تعطل بھی پیدا ہوتا ہے، لہذا صارفین ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے توانائی کے محتاط استعمال کو یقینی بنائیں۔انہوں نے عوام الناس سے گذارش کی کہ پیک آورز کے دوران بجلی کا غیر ضروری استعمال ہرگز نہ کریں۔ خاص طور پر شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک برقی موٹریں، استری، واٹر پمپ، ہیٹر اور دیگر زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات کے استعمال سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ زرعی صارفین بھی پیک آورز کے دوران ٹیوب ویل نہ چلائیں تاکہ قومی گرڈ پر بوجھ کم کیا جا سکے اور تمام صارفین کو بہتر بجلی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایئر کنڈیشنر کو ہمیشہ 26 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر چلایا جائے کیونکہ ہر ایک ڈگری کم کرنے سے بجلی کا استعمال نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ ریفریجریٹر کو بار بار کھولنے سے گریز کیا جائے اور اس کی درجہ حرارت سیٹنگ کو متوازن رکھا جائے۔ اسی طرح الیکٹرک گیزر، روم ہیٹر، استری اور دیگر برقی آلات کو کم درجہ حرارت یا کم لوڈ پر استعمال کیا جائے تاکہ بجلی کی بچت ممکن ہو سکے۔گھر اور دفتر میں کم وولٹیج انرجی سیور یا ایل ای ڈی بلب کے استعمال کو یقینی بنایا جائے کیونکہ یہ بلب کم بجلی استعمال کرتے ہیں اور زیادہ دیر تک کارآمد رہتے ہیں۔ پنکھوں، ایئر کولرز اور دیگر آلات کی باقاعدہ صفائی اور دیکھ بھال بھی بجلی کی بچت میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ کمپیوٹر، پرنٹر اور دیگر ڈیجیٹل آلات کو آٹو سلیپ یا پاور سیونگ موڈ پر رکھا جائے کیونکہ اسٹینڈ بائی پر چلنے والے آلات مسلسل بجلی ضائع کرتے رہتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ صارفین سورج کی قدرتی روشنی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں اور غیر ضروری بتیوں کے استعمال سے گریز کریں۔ گھر یا دفتر سے نکلتے وقت بجلی سے چلنے والی تمام اشیا کو لازمی طور پر سوئچ آف کر دیا جائے جبکہ سونے سے پہلے غیر ضروری بتیاں اور برقی آلات بند کر دیے جائیں۔ بجلی کے استعمال میں کفایت شعاری کو اپنی روزمرہ عادت بنایا جائے کیونکہ یہی اقدام نہ صرف قومی سطح پر توانائی کے تحفظ میں مددگار ہے بلکہ صارفین کے اپنے مالی اخراجات میں بھی واضح کمی کا باعث بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صارفین اپنے منظور شدہ لوڈ کے مطابق بجلی استعمال کریں اور غیر قانونی یا غیر ضروری اضافی لوڈ سے گریز کریں کیونکہ اس سے نہ صرف نظام پر دبائو بڑھتا ہے بلکہ وولٹیج میں کمی اور ٹرپنگ کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ کاروباری اور صنعتی صارفین بھی پیک آورز کے دوران غیر ضروری لوڈ کم رکھیں اور توانائی بچانے والی ٹیکنالوجی کو اپنائیں۔فیسکو چیف ایگزیکٹو انجینئر محمد عامر کی جانب سے صارفین سے اپیل کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تمام بجلی صارفین قومی مفاد میں ان ہدایات پر عمل کریں کیونکہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے نہ صرف بجلی کے نظام پر دبائو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ لوڈشیڈنگ میں کمی اور صارفین کے ماہانہ اخراجات میں بھی واضح بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کا دانشمندانہ استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ اس قومی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے بجلی کے محتاط استعمال کو یقینی بنائے تاکہ محدود وسائل کو مثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں