لاہور ( بیو رو چیف )ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ذہنی تنا کوئی ایسی چیز نہیں جس پر قابو نہ پایا جاسکے، بلکہ درست طرزِ زندگی اور بروقت تبدیلیاں اپنا کر اسے کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔جدید دور میں تعلیم، ملازمت، مالی دبائو، خاندانی مسائل اور سماجی توقعات نے ذہنی دبائو کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ذہن بلکہ جسم پر بھی نمایاں ہوتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق اگر تنا طویل عرصے تک برقرار رہے تو یہ سنگین جسمانی بیماریوں کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل ذہنی دبائو میں رہنے والے افراد میں فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ نیند کی کمی اور غیر متوازن معمولات اس کیفیت کو مزید بگاڑ دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق دائمی تنا دماغی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں یادداشت کمزور پڑ جاتی ہے، توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے۔ اس دوران دماغ میں اہم نیوروٹرانسمیٹرز جیسے سیرٹونن اور ڈوپامائن کی سطح بھی کم ہو جاتی ہے، جو ڈپریشن، تھکن اور خوشی کی کمی جیسے مسائل کو جنم دیتی ہے۔




