سب سے پہلے راقم اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے طور پر یہ بتانا چاہتا ہے کہ میری نظروں میں کوئی بھی چھوٹا’ بڑا اخبار’ ٹی وی چینل یا چھوٹا’ بڑا صحافی نہیں ہے اور کسی کو جعلی صحافی ڈکلیئر کرنا بھی ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں۔ فیلڈ میں کام کرنیوالے تمام صحافی جو کسی بھی اخبار’ ٹی وی چینل سے ہوں وہ قابل احترام ہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ جن لوگوں نے صحافت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے جن کے مقاصد اور ہیں، انہیں صحافی کہنا ایسا ہی ہے جیسے ”کھسرے” ایک دوسرے کو ریما’ صاحبہ’ جگن’ نرگس’ دیدار کہتے ہیں۔ بالکل یہ لوگ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں، وہ خود کو صحافی کہہ لیں یا میڈیا پرسن کہہ لیں۔ بات وہی ”کھسروں” والی ہی ہے۔ گزشتہ دنوں ڈی سی سی کے اجلاس میں پیش آنیوالے ناخوشگوار واقعے کی بازگشت جاری وساری ہے، سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم اس واقعے کو چیخ چیخ کر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے، ان دنوں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سٹی صدر شیخ اعجاز احمد ایڈووکیٹ ہر پوڈ کاسٹ میں اپنے ساتھ پیش آنیوالے واقعہ کی تفصیلات سناتے نظر آ رہے ہیں۔ جن لوگوں کو ڈی سی سی اجلاس کے اس ناخوشگوار واقعہ کا نہیں بھی پتہ تھا انہیں بھی اب پتہ چل چکا ہے۔ شیخ اعجاز احمد کی جماعت سے تعلق رکھنے والے موجودہ وسابق اراکین اسمبلی مکمل طور پر خاموش ہیں۔ تاہم کچھ (ن) لیگی حلقے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن (ر) ندیم ناصر کے ساتھ اظہار ہمدردی اور اظہار محبت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ لیکن مسلم لیگی کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد شیخ اعجاز احمد کا کیس لڑتی نظر آ رہی ہے۔ اس واقعہ کا کیا نتیجہ آتا ہے یہ کہنا قبل ازوقت ہے۔ اس حوالے سے ایک مکمل کالم لکھا جا چکا ہے۔ دراصل آج کے کالم میں آئرن لیڈی کے نام سے شہرت پانے والی میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کی ڈپٹی چیف آفیسر محترمہ حافظہ عظمت فردوس صاحبہ کے خلاف کیے جانیوالے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنا ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) فیصل آباد کے سٹی صدر شیخ اعجاز احمد کے ساتھ ڈی سی سی میٹنگ پیش آنیوالے واقعہ سے یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ وہ حق گوئی کی خاطر کسی بھی دبائو کو خاطر میں نہیں لاتے جبکہ آئرن لیڈی ڈپٹی چیف آفیسر محترمہ حافظہ عظمت فردوس صاحبہ بھی بھرپور جوش وجذبہ سے تجاوزات مافیا کیخلاف سرگرم عمل ہیں۔ ہر خاص وعام کو چاہیے کہ وہ ان کے قابل تحسین جرأت مندانہ کردار کو سراہتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ڈپٹی چیف آفیسر محترمہ حافظہ عظمت فردوس صاحبہ ایک انتھک افسر ہیں، تجاوزات کے حوالے سے جاری وساری آپریشن میں ان کا کردار ایک مسلمہ حقیقت ہے، وہ کس طرح ایک نہتی خاتون ہونے کے باوجود جرأت وبہادری کے ساتھ اپنا کام کر رہی ہیں، یہ ایک الگ داستان ہے، اب تک سرکاری سطح پر صرف اور صرف سابق ڈویژنل کمشنر راجہ جہانگیر انور نے ہی ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا تھا اور انہیں شاباش بھی دی تھی۔ راجہ جہانگیر انور کے سوا کوئی بھی سرکاری افسر ان کے ساتھ نظر نہیں آ رہا ہے۔ تجاوزات کا خاتمہ کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے یہ ایک منظم مافیا ہے جس میں طاقتور لوگ شامل ہیں۔ سابق کمشنر تسنیم نورانی’ سابق ٹائون ناظم رانا زاہد محمود کے سوا کوئی ایسا نام سامنے نہیں آتا جس نے گھنٹہ گھر سے ملحقہ آٹھ بازاروں’ چھوٹی بڑی مارکیٹوں سے تجاوزات کا خاتمہ کروایا ہو، رانا زاہد محمود نے اس کا بہت زیادہ خمیازہ بھی بھگتا تھا، ان کے خلاف درجن بھر مقدمات درج ہوئے مگر وہ ڈٹے رہے، اب جب سے ڈپٹی چیف آفیسر محترمہ حافظہ عظمت فردوس صاحبہ کو تجاوزات کے خاتمے کا ٹاسک سونپا گیا ہے، وہ دن رات اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مصروف عمل نظر آ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں صحافت کا لبادہ اوڑھے چند افراد نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے ڈپٹی چیف آفیسر محترمہ حافظہ عظمت فردوس صاحبہ کے آفس کو اپنی آماجگاہ بنانے کی کوشش کی، اور اس گروہ نے مین بازار رضاآباد میں میونسپل کارپوریشن کے انفورسمنٹ انسپکٹر مسعود رفیق پر حملہ کیا اور انہیں لہولہان کر دیا، جس پر ڈپٹی چیف آفیسر محترمہ حافظہ عظمت فردوس صاحبہ نے سخت ایکشن لیتے ہوئے تھانہ رضاآباد میں اس گروہ کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ جس کے بعد اس گروہ کی پشت پناہی کرنیوالے نام نہاد صحافی آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے ڈپٹی چیف آفیسر کے خلاف منظم انداز میں پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کا بے دریغ استعمال کیا اور کر بھی رہے ہیں، افسوس کا مقام یہ ہے کہ تاجروں’ شہریوں اور چند ایک صحافیوں کے علاوہ کسی بھی سرکاری افسر نے محترمہ حافظہ عظمت فردوس صاحبہ کا ساتھ نہیں دیا بلکہ ان کے اپنے آفس یعنی میونسپل کارپوریشن میں موجود بہت سارے چھوٹے بڑے افسر اور اہلکار ”میرجعفر اور میرصادق” کا کردار ادا کر رہے ہیں، ڈپٹی چیف آفیسر محترمہ حافظہ عظمت فردوس صاحبہ نے اس گروہ کیلئے اپنے دفتر کے دروازے بند کر دیئے جس پر ان کے آفس پر ایک نوٹس چسپاں کر دیا جس کی آڑ میں اس گروہ نے موصوفہ کے خلاف بھرپور پروپیگنڈہ کیا، اس گروہ کا تو ایسا کرنا بنتا ہے مگر ہمارے بعض معتبر صحافی بھی بغیر تحقیق کئے اس کا حصہ بنے نظر آ رہے ہیں جو ان کے شایان شان نہیں، محترمہ حافظہ عظمت فردوس صاحبہ جس جذبے اور جوش کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے تاریخ کے اوراق میں خود کو امر کر رہی ہیں اس طرح کے کاموں میں شاباش کم کم اور ناراضگی زیادہ زیادہ ملتی ہے۔ بقول شاعر ”تو جو ہوا ہے راہ حق پہ گامزن… دارورسن تو آئیں گے، زندان تو آئیں گے”۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جس نے بھی تاریخ کے اوراق میں امر ہونے کی کوشش کی اسے اس طرح کے منفی پروپیگنڈا کا سامنا تو کرنا ہی پڑتا ہے، اس قسم کے باکردار’ جرأت مند اور اپنے موقف کے پکے لوگوں کے متعلق ہی شاعر مشرق علامہ اقبال رحمة اﷲ علیہ نے کیا خوبصورت شعر کہا ہے کہ ”تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب! یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے”۔ محترمہ حافظہ عظمت فردوس صاحبہ کو ان مٹھی بھر عناصر کی پرواہ کئے بغیر اپنا کام کرتے رہنا چاہیے، راقم کی وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ اور ڈویژنل کمشنر محترمہ مسرت جبیں صاحبہ سے گزارش ہے کہ وہ تو کم ازکم موصوفہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انکے ہاتھ مضبوط کر یں تاکہ اس قسم کے گروہوں کو واضح پیغام جا سکے۔




