سوڈان میں قحط کا خطرہ

اقوام متحدہ(مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کے اعلیٰ انسانی ہمدردی امور کے عہدیدار ٹام فلچرنے خبردار کیا ہے کہ جنوبی سوڈان قحط کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں بڑھتا ہوا تنازع، بھوک اور بیماری صورتحال کو سنگین بنا رہے ہیں۔سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کے اس کم عمر ترین ملک میں حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں، جہاں دو تہائی آبادی کو اس سال انسانی امداد کی ضرورت ہے تاہم 1.46ارب ڈالر کے امدادی منصوبے کے لیے صرف 22 فیصد فنڈنگ حاصل ہو سکی ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اگلی بریفنگ میں باقاعدہ قحط کی صورتحال سامنے آ سکتی ہے۔ اندازوں کے مطابق رواں سال 75 لاکھ سے زائد افراد کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہوگا، جبکہ متوقع سیلاب مزید تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ملک کے بعض علاقوں میں صحت کی سہولیات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، جہاں لاکھوں افراد طبی سہولتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ٹام فلچر نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ فوری اقدامات کرے، جن میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، مالی وسائل میں اضافہ اور بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام یقینی بنانا شامل ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس بحران کا مستقل حل صرف امن کے قیام میں ہی مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں