واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی وفد چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا۔نیو یارک پوسٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری رہنے چاہئیں اور اب لگتا ہے کہ کوئی فریق کھیل نہیں کھیل رہا یعنی سب سنجیدہ ہیں۔انھوں نے بتایا کہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ایلچی اسٹیو وٹکوف اور خصوصی مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں جو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں اور چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی اہم پیش رفت ہوتی ہے تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان مذاکرات کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ مکمل طور پر ختم کرے۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا ہوگا اور اگر ایسا ہو جائے تو ایران ایک بہتر ملک بن سکتا ہے۔بلومبرگ کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت ہم ایران میں درست لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں، مجھے اعلی ایرانی حکام سے ملنے میں کوئی مسئلہ نہیں، اگر وہ ملنا چاہتے ہیں تو میں تیار ہوں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہوجاتی ہے اور اس ے قبل مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران پر بہت بم گرائے جائیں گے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پتا نہیں ایرانی وفد اسلام آباد آتا ہے یا نہیں مگر ان کو وہاں ہونا چاہیے وہ وہاں نہیں ہوتے تو بھی ٹھیک ہے۔سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے ایران جنگ میں شامل ہونے کو نہیں کہا تھا، ایرانی قیادت سمجھداری کا مظاہرہ کرے تو ان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔دوسری جانب ایران اعلان کرچکا ہے کہ ان کا وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد نہیں جا رہا کیوں صدر سنجیدہ نہیں اور دھمکیوں سے باز آرہے ہیں اور نہ جارحیت روکی ہے۔ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکا نے ہمارے ایک جہاز پر حملہ کیا گیا اس پر قبضے کی کوشش کی گئی اور تاحال ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی بھی جاری ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے جس کے لیے دوسرے دور کا آغاز آج ہونے کا امکان ہے لیکن تاحال غیر یقینی صورت حال ہے۔دریں اثناء ۔تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکا سے متضاد اشارے مل رہے ہیں، بامعنی مذاکرات کی بنیاد معاہدے پورے کرنے پر ہوتی ہے۔اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کے امریکا پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات تاریخی بد اعتمادی ہے، امریکا ایران سے سرینڈر چاہتا ہے جبکہ ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی۔اس سے پہلے ایرانی سرکاری عہدے داروں سے گفتگو میں ایرانی صدر نے کہا تھا کہ جنگ جتنی جلد ممکن ہو بند ہونی چاہیے تاکہ ایران ملک میں تعمیرِ نو پر توجہ دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کا خاتمہ سفارت کاری میں ہے۔صدر پزشکیان نے ایرانی عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غلط معلومات یا غیر حقیقی وعدے مسائل کے حل میں مدد فراہم نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ کامیابیوں اور چیلنجز دونوں کو ایمانداری سے عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔علاوہ ازیں اسی طرح کا موقف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نیبھی اپنایا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ہمیں دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔




