ایران’ امریکہ’ اسرائیل کشیدگی سے اس وقت خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں غیر یقینی صورتحال چھائی ہوئی ہے جبکہ پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں امن قائم ہو اور دنیا تیسری عالمی جنگ سے محفوظ رہ سکے بظاہر اس کی مدبرانہ سفارت کاری کے نتیجہ میں امریکی اور اسرائیلی جنگ بازوں سے امن عالم کو لاحق سنگین خطرات پر کسی نہ کسی صورت میں بالآخر قابو پا لیا جائے گا لیکن کچھ چال باز ایسے بھی ہیں جو بنی نوع انسان کے سکون اور عافیت کو غارت کرنے کے درپے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ امریکہ ان کی سازشوں کا شد ومد سے عملی حصہ بن چکا ہے ان منصوبہ سازوں میں اسرائیل اور امریکی وزیر جنگ ہیگ سبتھ سب سے آگے ہیں ہیگسبتھ کو وزیر بنوانے میں ٹرمپ پر امریکہ کی صہیونی لابی کا سب سے زیادہ دبائو تھا اور اس وقت یہ فساد کی جڑ بنے ہوئے ہیں ہر روز نئی سازش کی جا رہی ہیں اور ایران اور امریکہ کے مذاکرات کو مکمل کرنے میں رکاوٹ بنے بیٹھے ہیں صہیونی یہودیوں نے امریکہ میں اپنی لابی اتنی مضبوط بنالی ہے کہ اس کے بغیر سیاہی مہرے ہل بھی نہیں سکتے اسرائیل نے انتہائی مہلک ہتھیار حاصل کر کے خود کو بہت طاقتور بنا لیا ہے 1967ء کی جنگ میں سارے عرب ممالک ملکر بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے اسرائیل 9ہزار مربع کلومیٹر کی ایک چھوٹی سی ریاست ہے’ امریکہ سے ایٹمی اور غیر ایٹمی خطرناک اسلحہ سے اپنی فوج کو مسلح کر کے وہ ایک بڑی طاقت کے طور پر عربوں کے سروں پر مسلط ہو گیا پھر بھی اسے کسی مشکل میں دیکھیں تو سب سے پہلے امریکہ اپنی تمام تر ہیبت ناکیوں کے ساتھ اس کی مدد کو پہنچ جاتا ہے ایران امریکہ سے ہزاروں میل دور ہے وہ امریکہ پر حملہ کا سوچ بھی نہیں سکتا وہاں کے علماء نے ایٹم بم بنانے کے خلاف فتویٰ دے رکھا ہے کہ یہ نسل انسانی کو تباہ کرنے کا ہتھیار ہے ایران پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افرودہ کر رہا تھا امریکہ نے اسے ایٹم بم بنانے کی کوشش قرار دے کر اسرائیل کے کہنے پر ایران پر حملہ کر دیا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جو اپنے گریٹر اسرائیل منصوبے کے تحت پہلے ہی لبنان شام عراق اردن مصر پر قبضے کا منصوبہ بنا چکا تھا لیکن ایران اس کے راستے میں حائل تھا غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے ذریعے اپنے منصوبے کی بنیاد رکھ چکا تھا اس نے 80ہزار سے زائد فلسطینی مردوں عورتوں بچوں بوڑھوں کو قتل کر کے لبنان پر حملے شروع کر رکھے تھے نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایسے جال میں پھنسایا کہ وہ ایرانی قوم ہی نہیں دنیا کی قدیم ترین ایرانی تہذیب کو ملیامیٹ کرنے کے درپے ہو گئے اور اسرائیل کو ساتھ لیکر ایران پر چڑھ دوڑے مگر ایران کی جانب سے سخت مزاحمت کے بعد اور نیٹو کی جانب سے ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کے بعد ٹرمپ مذاکرات کیلئے تیار ہوئے اس حوالے سے پاکستان نے شاندار سفارت کاری کے ذریعے ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی جس کا ایک دور ہو چکا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہو گا صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ ہماری شرائط پر مذاکرات کامیاب ہوئے تو خود پاکستان دستخط کرنے کیلئے جائوں گا جس کا مطلب ہے کہ ٹرمپ بھی بہت پرجوش ہے ادھر ایرانی قیادت اپنی شرائط پر مذاکرات کرنا چاہتی ہے اب دونوں کو مذاکرات کی میز پرلانے کیلئے پوری کوشش جاری ہیں امید ہے کہ اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور نتیجہ خیز ہو گا اور دنیا کو تیسری جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے پاکستان کی کوششیں ضرور رنگ لائیں گی۔




