ایران امریکہ جنگ سے مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا کے ممالک کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کی موجودگی کے باعث ایران کے حملوں سے خلیجی ملکوں میں ایران کے ساتھ کشیدگی پیدا ہوئی جس پر پاکستان سمیت خلیجی ممالک سے تجارت کرنے والے ممالک کو بہت تشویش ہوئی پاکستان نے خطے میں امن کیلئے سفارتی سطح پر کوششیں کیں اور ان میں کافی حد تک کامیابیاں بھی حاصل کیں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کی دونوں فریقین کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر بٹھایا پاکستان کی حتی المقدور کوشش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پا جائے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے مشرق وسطیٰ میں قیام امن انسانیت کی بقاء کا تقاضا بھی ہے اور خطے کے استحکام کیلئے بھی انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے آج کے غیر یقینی حالات میں یہ حقیقت پہلے سے زیادہ واضح ہو چکی ہے۔ حالیہ مہینوں میں دنیا نے جس نوعیت کی کشیدگی’ جنگی خطرات اور معاشی بے چینی دیکھی ہے اس نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے ایسے نازک وقت میں پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار متوازن اور فعال ریاست کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے جہاں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سربراہی میں عسکری قیادت نے مل کر ایک ایسی سفارتی حکمت عملی اپنائی ہے جس نے پاکستان کو دنیا کی نگاہوں کا مرکز بنا دیا ہے آج عالمی طاقتیں’ علاقائی قوتیں اور بین الاقوامی ادارے سب کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں کیونکہ یہاں سے امن کی وہ آواز بلند ہو رہی ہے جو جنگ کے شور کو خاموش کر سکتی ہے دنیا جس جنگی ماحول سے گزر رہی ہے اس کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے عالمی تجارت متاثر ہوئی توانائی کی قیمتیں بڑھ گئیں معیشتیں دبائو کا شکار ہوئیں اور لاکھوں انسان بے گھر ہوئے یہ جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ہر ملک کے عام شہری کی زندگی کو متاثر کیا ہے ایسے میں پاکستان نے نہایت دانشمندانہ انداز میں خود کو ایک ثالث کے طور پر پیش کیا جو نہ صرف دونوں فریقین کیلئے قابل قبول ہے بلکہ جس پر اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور ایران جیسے ممالک جن کے درمیان برسوں سے کشیدگی چل رہی ہے انہوں نے پاکستان کے ذریعے مذاکرات کی راہ اختیار کی اور اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے آمادگی ظاہر کی امریکی قیادت کی جانب سے بھی بار ہا پاکستان کے کردار کو کھلے الفاظ میں سراہا گیا امریکی صدر ٹرمپ نے متعدد مواقع پر پاکستان کی قیادت خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک مشکل وقت میں ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے جنگ بندی میں توسیع کرانے اور امن کے لیے اس کی کوشش قابل تعریف ہیں یہ اعتراف اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں محض رسمی نہیں بلکہ عملی اور مؤثر ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر اثر ڈالا ہے پاکستان آج ایک امن کے داعی اور ثالث کے طور پر پہچانا جا رہا ہے یہ تبدیلی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس میں قومی مفاد کو عالمی ذمہ داری کے ساتھ جوڑا گیا ہے قیام امن نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ناگزیر ہے اور اس مقصد کے حصول میں پاکستان کا کردار ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آیا ہے اگر اسی جذبے اور سنجیدگی کے ساتھ یہ کوششیں جاری رہیں تو دن دور نہیں جب پاکستان کی کوشش رنگ لائیں گی اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں بھی امن قائم ہو جائے گا۔




