جعلی وکیل بن کر ماں بیٹی سے لاکھوں ہتھیانے والا قانون کے شکنجہ میں آگیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) کوتوالی پولیس نے جعلی وکیل بن کر ماں بیٹی سے لاکھوں روپے ہتھیانے والے ملزم اعظم تتلہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔ تفصیل کے مطابق 88 ج ب کے رہائشی جاوید اختر نے کوتوالی پولیس کو دی جانے والی درخواست میں بتایا کہ اس کی ہمشیرہ آصفہ کی شادی برادر نسبتی کیساتھ ہوئی، گزشتہ برس مارچ میں میاں بیوی میں گھریلو ناچاقی پیدا ہو گئی تو اس سلسلہ میں وہ ضلع کچہری آئے تو ان کی ملاقات ملزم محمد اعظم تتلہ ولد محمد شریف سکنہ 371 ج ب سے ہوئی جو کہ خود کو وکیل بتایا اور کہا کہ طلائی زیورات جو خاوند کی طرف سے ملے ہیں جج نے زیورات یا ان کے برابر رقم عدالت میں جمع کروانے کا کہا ہے تو مدعی کی اہلیہ نادرہ پروین نے مذکورہ وکیل کو 3لاکھ 30ہزار ملزم کے اکائونٹ میں جمع کروائے اور 4لاکھ 70ہزار روپے وصول کئے۔ بعدازاں مختلف طریقوں سے مزید اڑھائی لاکھ وصول کئے۔ کچھ عرصہ قبل معززین اور عزیزوں نے میاں بیوی میں صلح کروا دی، جس پر مذکورہ وکیل کو رقم واپس دلوانے کا کہا تو اس نے لیت ولعل سے کام لیتے ہوئے 50 ہزار روپے واپس کر کے بقیہ رقم دینے سے انکاری ہو گیا اور پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اعظم تتلہ وکیل نہ ہے اور خود کو باقاعدہ وکیل کہلواتا اور لکھتا ہے، جس پر پنجاب بار کونسل کو بھی درخواست دے دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں