بھارت کا آپریشن سندور نشان عبرت بن گیا

تاریخ میں کچھ مہم جوئی ایسی ہوتی ہے جو صرف لطیفوں کی کتابوں میں جگہ پاتی ہیں، اور مئی 2025کا ”آپریشن سندور”بلاشبہ ان میں سرِفہرست ہے۔ آج اس نام نہاد آپریشن کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر مودی سرکار اور ان کے “گودی میڈیا” کے چہروں پر لگی وہ عبرتناک کالک آج بھی اتنی ہی گہری ہے جتنی اس رات تھی جب پاکستانی شاہینوں نے بھارتی غرور کو منٹوں میں کباڑ بنا دیا تھا۔اس ڈرامے کا آغاز ”پہلگام”میں ایک بھونڈے فالس فلیگ آپریشن سے کیا گیا تاکہ الیکشن کے سیزن میں نفرت کی منڈی سجائی جا سکے۔ مودی جی نے اپنی”چھن انچ کی چھاتی”کو ہوا بھر کر”آپریشن سندور” کا اعلان تو کر دیا، مگر انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ سامنے وہ قوم کھڑی ہے جو شہادت کو شادی سے زیادہ عزیز رکھتی ہے۔ ابھی بھارتی میڈیا کے اینکرز اسٹوڈیوز میں پاکستان کو نقشے سے مٹانے کی ریہرسل کر ہی رہے تھے کہ پاکستانی شاہینوں نے فضائوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ جے ایف-17اور جے -16 کے گرجتے انجنوں نے وہ قہر ڈھایا کہ بھارتی پائلٹس کو اپنے ہی جہازوں میں سانس لینا دوبھر ہو گیا۔ ایک ہی رات میں بھارت کے چھ جدید ترین جنگی طیارے آسمان سے زمین پر ایسے گرے جیسے کسی نے تاش کے پتے بکھیر دیے ہوں۔گودی میڈیا کی ”مضحکہ خیزی” تو اس رات عروج پر تھی۔ ان کے اینکرز چیخ چیخ کر دعوے کر رہے تھے کہ ”ہم نے پاکستان فتح کر لیا” اور ”لاہور کی بندرگاہ تباہ کر دی” (حالانکہ لاہور کے باسی آج بھی اس بندرگاہ کی تلاش میں ہیں)۔ ادھر ٹی وی پر بھارت پاکستان کو فتح کر رہا تھا اور ادھر حقیقت یہ تھی کہ بھارتی فوج کے قدم اکھڑ چکے تھے۔ پاکستانی عوام کا جذبہ تو دیدنی تھا؛ جہاں دنیا میں لوگ بمباری کے نام سے سہم جاتے ہیں، وہاں پاکستانی عوام خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنی فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی تھی۔ لوگ گھروں سے باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے اور اپنے شاہینوں کی کامیابیوں پر نعرہ تکبیر بلند کر رہے تھے۔ یہ وہ اتحاد تھا جس نے دشمن کے حوصلے پست کر دیے۔ذلت کی انتہا تب ہوئی جب وائٹ ہائوس سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات آنا شروع ہوئے۔ ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں جب ”بہت سارے خوبصورت جہازوں” کے گرنے کا تذکرہ کیا تو مودی جی کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں مل گئی۔ جب سرحد پر بھارتی لاشوں اور ملبے کا ڈھیر بڑھنے لگا تو مودی سرکار کی سٹی گم ہو گئی اور انہوں نے روتے پیٹتے امریکہ کی منتیں شروع کر دیں کہ “خدا کے لیے یہ جنگ رکوا، ورنہ ہمارا ایئر فورس میوزیم بھی خالی ہو جائے گا”۔آج ایک سال گزرنے کے بعد بھی مودی سرکار کی نیندیں حرام ہیں۔ وہ آج بھی خوابوں میں پاکستان پر حملے اور آپریشن سندور کے بدلے کے منصوبے بناتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ عملی قدم اٹھانے کا سوچتے ہیں، انہیں مئی 2025 کا وہ عبرتناک ملبہ یاد آ جاتا ہے۔ وہ اکثر جوشِ جنون میں سرحد کے قریب آنے کی کوشش تو کرتے ہیں، مگر جیسے ہی سرحد پر کھڑے پاکستانی جوانوں کی پررعب آنکھوں اور آہنی عزم سے سامنا ہوتا ہے، ان کے حوصلے برف کی طرح پگھل جاتے ہیں اور وہ دم دبا کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ پاکستان کی بہادر فوج اور عوام نے ثابت کر دیا کہ جنگیں صرف فیس بک اور نیوز اسٹوڈیوز میں نہیں جیتی جاتیں، بلکہ ان کے لیے وہ دلیری اور ایمانی جذبہ چاہیے جو پاکستانی سپاہ کا طرہ امتیاز ہے۔ مودی جی کا وہ “سندور” ان کے اپنے ہی ماتھے پر ایک ایسی لکیر بن گیا ہے جو ان کی شکست کی گواہی قیامت تک دیتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں