امریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے کوششیں (اداریہ)

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی دو روزہ دورے پر ایران پہنچ گئے، ایران امریکہ مذکرات بحالی کی کوششوں کے پیش نظر ان کا یہ دورہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، محسن نقوی نے اپنے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی کے ساتھ ملاقات کی ہے جس میں دونوں ممالک کے تعلقات اور امن مذاکرات بحالی کے امکانات پر بات چیت کی گئی جبکہ باہمی دلچسپی کے امور’ علاقائی امن اور خطے کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ایرانی وزیر داخلہ نے علاقائی امن واستحکام کیلئے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا، اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان مذاکراتی عمل کے لیے ایرانی اور امریکی فریقین کو لچکدار رویہ اختیار کرنے پر قائل کرنیکی کوشش کرے گا، ایک نازک جنگ بندی کے باوجود تعطل کا شکار ہو جانے والے امن مذاکرات میں سہولت کاری اور علاقائی امن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششوں کو دنیا بھر میں قابل تحسین نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے، دوسری جانب یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد امریکہ ایران کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دشمنوں کے سوا سب کیلئے کھلی ہے، پاکستان کی مصالحتی کوششیں ابھی ناکام نہیں ہوئیں، امریکہ سنجیدگی دکھائے، ہم جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، عباس عراقچی کے بقول اگر دوسری طرف سے سنجیدگی دکھائی جائے تو ہم بھی مذاکرات چاہتے ہیں، ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ چین سے اپنے ملک واپس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے حامی نہیں تھے، انہوں نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی، انہوں نے قیام امن کیلئے پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہوئے مزید کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران یورینیم افزودگی 20سال تک معطل رکھنے کا معاہدہ کر لے گا تاہم امریکی صدر نے دھمکی دی کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو ہم اسے تباہ کر دینگے، واضح رہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل امریکہ ایران تنازعہ حل کروانے کیلئے تعاون کی پیشکش بھی کی تھی چنانچہ اس تناظر میں یہی توقع تھی کہ امریکی صدر کے دورہ چین سے برف پگھلے گی اور امریکہ ایران مفاہمت کا کوئی راستہ نکل آئے گا، چین کے صدر نے امریکی صدر سے ملاقات کے دوران اسی بنیاد پر صدر ٹرمپ پر مذاکرات اور سفات کاری کے ذریعے قیام امن کا راستہ نکالنے پر زور دیا، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ طاقت کے اظہار اور دھمکیوں کی سیاست نے کبھی پائیدار امن کی راہ ہموار نہیں کی، چین نے امریکہ ایران کشیدگی پر نہایت ذمہ دارانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے پورے خطے کو شدید نقصان پہنچا ہے، بحری راستے کھلے رہنے چاہیے اور ایران کے جوہری مسئلے سمیت تمام تنازعات کا حل مشاورت سے نکالنا چاہیے، پاکستان نے بہرحال کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان نے امریکہ ایران کشیدگی کے دوران تدبر’ حکمت اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران پہنچنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور امید ہے کہ اس سے امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات بڑھیں گے اور امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمہ میں بڑی مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں