ہمارے دیرینہ دوست اور جماعت اسلامی میں میرے ہمسفر ناصر محمود قادر الخدمت فائونڈیشن کی صوبائی میٹنگ سے واپس گھر آئے ہی تھے کہ نماز مغرب کا وقت ہو گیا نماز کی تیاری کے لیے اٹھے وضو کیا اور باوضو حالت میں میجر ہارٹ اٹیک ہوا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے انا للہ وانا الیہ راجعون اگلے دن صبح 10 بجے نور پور والے قبرستان میں نماز جنازہ پڑھائی گئی جس میں دینی سیاسی سماجی اور جماعت اسلامی کے کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی ان کے جنازہ میں ہر آنکھ اشک بار تھی اگلے دن میں اپنے دوست میاں زاہد محمود کے ہمراہ تعزیت کے لیے ان کے گھر مسلم ٹائون گیا ان کے بڑے بھائی جو کینیڈا سے واپس آئے ہوئے تھے ان سے ملاقات ہوئی بہت غمزدہ اور دکھی دکھائی دے رہے تھے ان کے چہرے پر اپنے شفیق بھائی ناصر محمود قادر کی اچانک جدائی کا غم نمایاں تھا وہ فرما رہے تھے کہ بھائی بہت پیار اور محبت کرنے والے انسان تھے انہیں ہمیشہ جماعت اسلامی کی سرگرمیوں میں شمولیت کی فکر رہتی تھی خدمت خلق کا جذبہ ان میں بہت نمایاں تھا انہوں نے کہا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے وہ کسی لمحے بھی آ سکتی ہے اللہ نے اپنی پہچان دکھانے کے لیے انسان کی موت جیسے فریضے کو اپنے پاس امانت رکھا ہے وہ جب چاہتا ہے جسے چاہتا ہے اپنے پاس بلا لیتا ہے ہم کتنے ہی با وسائل ہو جائیں کتنی ہی دولت کے انبار لگا لیں پھر بھی موت کا راستہ نہیں روک سکتے موت آ کر ہی رہتی ہے انہوں نے بتایا کہ ہمارے بھائی کو کوئی تکلیف نہیں تھی نہ بلڈ پریشر تھا اور نہ کبھی ہارٹ کا مسئلہ بنا یہ جو کچھ ہوا اچانک ہی ہوا ہے بس اللہ کی بارگاہ میں ان کے جانے کا وقت آ گیا تھا اور وہ اچانک وفات پا گئے ہمارے تحریکی دوست اور مخلص ساتھی ناصر محمود قادر اپنی زندگی میں دینی اور تحریکی کام کر گئے کل خدمت فائونڈیشن وسطی پنجاب کی اہم میٹنگ میں شرکت کے لئے گئے تھے انہیں حال ہی میں الخدمت فائونڈیشن کا فنانس سیکرٹری بنایا گیا تھا اپنی بے پناہ کاروباری مصروفیات کے باوجود الخدمت فائونڈیشن کو پورا ٹائم دیتے تھے اپنے دوست احباب رائے ندیم الرحمن ثاقب فاروق بٹ پروفیسر محبوب الزماں بٹ چودری محمد نواز کلہ رائے مجیب الرحمان بھٹی رائے عبدالمالک کلیار میاں زاہد ایوب جیسے مخلص دوستوں کی ٹیم میں شامل ہو کر انسانیت کی خدمت کر رہے تھے میں تعزیت کرنے کے بعد ان کے گھر سے واپس نکل رہا تھا اور الخدمت فائونڈیشن رائے ندیم الرحمن ثاقب فاروق بٹ لطیف ملک اور باجوہ صاحب ان کے گھر داخل ہو رہے تھے میں نے اس موقع پر رائے ندیم الرحمن جو الخدمت فائونڈیشن فیصل آباد کے صدر ہیں اور اپنی بہترین شاندار ٹیم کے ساتھ خوب اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ان کے مخلص ساتھی کی اچانک وفات پر تعزیت کا اظہار کیا رائے صاحب بھی پریشان اور غمزدہ دکھائی دے رہے تھے اپنے مخلص ساتھی کی اچانک جدائی پر۔ اللہ نے ان کو بہت پہلے ہی اپنے پاس بلا لیا ہے ابھی تو ان کے کرنے کے کام بہت باقی تھے تحریک اسلامی کو ابھی بہت ضرورت تھی ان کے بچوں کو شفقت اور رہنمائی چاہیے تھی بہرحال اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنے میں ہی عافیت اور بہتری ہے۔ ناصر محمود قادر سے میرا زمانہ طالب علمی سے تعارف تھا وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھے ان کا مرکز الاسلامی میں آنا جانا تھا بعد ازاں جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی رکن بنائے گئے بزنس مین تھے بہت مصروفیت رہتی تھی اس کے باوجود جب بھی جماعت اسلامی کا کوئی پروگرام ہوتا مرکزی و صوبائی قیادت آتی تو اس میں بطور خاص نظر آتے تھے مسلم ٹائون میں ان کی رہائش تھی وہاں نماز مسجد میں ادا کیا کرتے تھے نماز کے بعد مسجد کے باہر نمازیوں سے سلام و دعا ضرور کرتے تھے جماعت اسلامی کو شروع سے اپنا اوڑھنا و بچھونا بنایا وہ یہ سمجھ چکے تھے کہ جماعت اسلامی ہی ملک میں اسلام کا عادلانہ اور منصفانہ نظام لا سکتی ہے اور وہ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت پر یکسو تھے گزشتہ دنوں امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن ممبر سازی مہم کے مرکزی کیمپ کے افتتاح کے لیے فیصل آباد تشریف لائے تو کوہ نور چوک میں بڑے جلسہ سے خطاب کیا وہاں بھی ناصر محمود قادر سے ملاقات ہوئی تھی ناصر محمود قادر عرف بلا خوبصورت پرسنلٹی کے مالک تھے نفاست اور شرافت ان میں نمایاں دیکھائی دیتی تھی جب بھی ان کو دیکھا ہشاش بشاش اور ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملتے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ خیریت پوچھتے کم گو تھے مگر اپنے مخصوص دوستوں کے حلقہ کے اندر خوب گپ شپ بھی لگاتے تھے میں کئی بار ان سے ملا کچہری بازار ڈالر کرنسی ایکسچینج والی شاپ پر ملاقاتیں ہو جاتی ایک دو بار ان کے گھر پر بھی ملاقاتیں ہوئی بڑا اکرام اور احترام کرتے تھے اور خوب مہمان نوازی کرتے حقیقت میں وہ جماعت اسلامی کا قیمتی اثاثہ تھے ان کی وفات پر امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب وسطی مولانا محمد جاوید قصوری بالخصوص لاہور سے تشریف لائے نماز جنازہ میں شرکت کی اور ان کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا ان کے بیٹے احمد ناصر محمود قادر سے ملاقات کی ان کو گلے لگایا دلاسہ دیا صبر جمیل کی دعا کی۔ جماعت اسلامی کے ارکان و کارکنان اور بالخصوص الخدمت فائونڈیشن کی پوری ٹیم ان کے بیٹے احمد بھائی کے غم میں ان کے ساتھ برابر شریک ہے ان کی وفات پر ان کے بعض قریبی عزیز و اقارب بیرون ملک ہونے کی وجہ سے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کر سکے معروف بزرگ اور عالم دین مولانا عبدالرحیم اشرف اشرف لیبارٹریز والے کے صاحبزادے ڈاکٹر زاہد اشرف سے ان کے بہنوئی کی وفات پر دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں یہ ان کے لیے بھی بہت بڑا صدمہ ہے اللہ تعالیٰ ان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ہم دعا گو ہیں اپنے دوست ناصر محمود قادر کے لیے کہ اللہ تعالی ان کے درجات بلند اور کامل مغفرت فرمائے اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ان کے عزیز و اقارب اور ان کے بچوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے اور ان کی قبر پر کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے امین ان کے بیٹے احمد کو بطور خاص اپنے شفیق باپ کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے مجھے توقع ہے احمد بھائی اپنے والد محترم کے ادھورے مشن کی تکمیل میں اپنا بہترین کردار ادا کریں گے اور اپنے والد کی طرح جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنائیں گے اور اپنے والد کے لیے صدقہ جاریہ بنیں گے ۔




