موسمِ گرما کی تعطیلات اور والدین کی ذمہ داریاں

پاکستان میں چند ہی ہفتوں بعد تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی طویل تعطیلات کا آغاز ہونے والا ہے۔ تین ماہ کا یہ طویل وقفہ عموما بچوں کے لیے خوشی اور والدین کے لیے ایک “چیلنج” بن کر آتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے بطور والدین کبھی سنجیدگی سے سوچا ہے کہ ان نوے دنوں کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا یہ چھٹیاں صرف اسکول کے بھاری بھرکم ہوم ورک کو مکمل کرنے، سارا دن اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر موبائل گیمز کھیلنے، یا نانی دادی کے گھر جا کر وقت گزارنے کے لیے ہیں؟ یا پھر یہ وہ قیمتی وقت ہے جسے ہم اپنے بچوں کی شخصیت سازی ، انکی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کر نے میں استعمال کر سکتے ہیں۔ افسوسنا ک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں چھٹیوں کا تصور صرف” فراغت” تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ والدین کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اسکول کا کام ختم کروا دینا ہی ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ تین ماہ اسکول کی نصابی کتابوں سے ہٹ کر زندگی کی کتاب پڑھنے کے دن ہیں۔ آج کے دور کا بچہ غیر معمولی ذہنی استعداد کا مالک ہے، لیکن اگر اس استعداد کو صحیح سمت نہ دی جائے تو وہ موبائل سکرین اور سوشل میڈیا کی فضولیات میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ والدین کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ کیا وہ اپنے بچوں کو صرف ایک “صارف” (Consumer) بنانا چاہتے ہیں یا ایک “تخلیق کار” (Creator)۔ان چھٹیوں میں بچوں کو گھر کی چار دیواری میں قید رکھنے کے بجائے انہیں عملی زندگی کے تجربات سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں کو مختلف سمر کیمپس اور تربیتی ورکشاپس میں بھیجیں جہاں وہ صرف کتابی علم نہیں بلکہ زندگی کے ہنر سیکھ سکیں۔ چاہے وہ تیراکی ہو، گھڑ سواری ہو، خطاطی ہو، یا کوئی جدید ٹیکنالوجی کا کورس جیسے کوڈنگ یا گرافک ڈیزائننگ؛ یہ تمام سرگرمیاں بچوں کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ گھر کے اندر رہ کر بھی انہیں تخلیقی کاموں میں مشغول کیا جا سکتا ہے۔ انہیں گھر کے بجٹ بنانے میں شامل کریں، انہیں چھوٹے موٹے تکنیکی کام جیسے پودوں کی کانٹ چھانٹ یا کچن میں نئی تراکیب آزمانے کی ترغیب دیں۔ اس سے ان کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگا اور وہ یہ سمجھیں گے کہ زندگی صرف اسکول کے گریڈز کا نام نہیں ہے۔ ہم اکثر یہ گلہ کرتے ہیں کہ نئی نسل میں اخلاقیات اور سماجی شعور کی کمی ہے، لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ شعور اس وقت تک نہیں آتا جب تک ہم بچوں کو لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے اور معاشرے کے مختلف طبقات کو سمجھنے کا موقع نہیں دیتے۔نانی کے گھر جانا یا رشتہ داروں سے ملنا اپنی جگہ اہم ہے،مگر اسے صرف وقت گزاری کا ذریعہ بنانے کے بجائے رشتوں کی پہچان اور سماجی تربیت کا ذریعہ بنائیں۔ والدین کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ اگر ان تین مہینوں میں کوئی واضح منصوبہ بندی (Planning)نہ کی گئی، تو بچے سکرین ٹائم کے اس دلدل میں دھنس جائیں گے جہاں سے واپسی بہت مشکل ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر موجود مواد بچوں کے ارتکاز (Focus)کو ختم کر رہا ہے اور انہیں ذہنی طور پر سست بنا رہا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم انہیں کوئی تکنیکی ہنر سکھانے کی طرف راغب کریں، تو یہی بچے کل کو معاشی طور پر بھی خود مختار بن سکتے ہیں اور ان کی شخصیت میں وہ نکھار آئے گا جو اسکول کی روایتی کلاسوں میں ممکن نہیں ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو “نمبر حاصل کرنے والی مشین” بنانے کے بجائے “مسائل حل کرنے والا انسان” بنانا ہے۔ یہ چھٹیاں ایک سنہرا موقع ہیں کہ ہم اپنے بچوں کے دوست بنیں، ان کی دلچسپیوں کو سمجھیں اور انہیں وہ پلیٹ فارم مہیا کریں جہاں وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔ وقت ایک ایسی دولت ہے جو گزر جائے تو واپس نہیں آتی، اور بچپن کا یہ دور تو دوبارہ کبھی نہیں لوٹے گا۔ لہذا، اس سے پہلے کہ گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوں اور بچہ موبائل پکڑ کر صوفے پر ڈھیر ہو جائے، بطور والدین ایک جامع پلان تیار کریں تاکہ یہ تین ماہ آپ کے بچے کی زندگی کا سب سے بہترین اور تعمیری موڑ ثابت ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں