اسلام آباد (عظیم صدیقی) حکمران اتحاد میں بجٹ تجاویز پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے چاروں صوبوں وفاق کی نمائندگی والا قومی اقتصادی کونسل NFC اجلاس ایک بار پھر ملتوی’ اتوار کی تعطیل کے باوجود پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ذمہ داروں کے دو اجلاس وزارت خارجہ اور زرداری ہائوس میں ہوئے لیکن یہ بے نتیجہ رہے۔ NFC ایک ایسا ادارہ ہے جس میں بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے ایک دن پہلے جائزہ لیتا ہے اس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ ہوتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ اس بار وفاق صوبوں سے 1700 ارب مماصل مانگ رہا ہے جو 18 ویں ترمیم کے تحت ناممکن ہے۔ سندھ اور کراچی کیلئے پیپلزپارٹی PSDP کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی ڈیمانڈ کر رہی ہے لیکن حکومت جسے پہلے ہی 1000 ارب کی محاصل کمی کا سامنا ہے وہ نئے زیادہ منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اس وجہ سے NFC اجلاس نہیں ہو رہا۔ کیا بجٹ 10 جون کو پیش ہو سکتا ہے یہ ایک بڑا سوال ہے۔




