تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات بڑھ گئے

پشاور (بیوروچیف) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا حکومت نے بجٹ سے قبل صوبائی اسمبلی کا اجلاس مسلسل تیسری مرتبہ ملتوی کردیا ہے، جو پارٹی میں اندرونی اختلافات اور بجٹ میں ناراض اراکین کی عدم شرکت کے خدشات کے بعد کیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 25 مئی کو طلب کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں یکم جون تک مخر کیا گیا، پھر یکم جون سے 8 جون اور اب 8 جون سے 15 جون تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب نئے مالی سال 2026-27 کا آغاز یکم جولائی سے ہونا ہے اور جون میں بجٹ منظور کرنا ضروری ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنی ہی جماعت کے اندر مزاحمت کا سامنا ہے۔ پارٹی معاملات سے باخبر ذرائع کے مطابق کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد پارٹی میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں، اور عید کے بعد ہونے والے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 35 اراکین نے شرکت نہیں کی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ناراض اراکین الگ گروپ بنا چکے ہیں اور باقاعدہ میٹنگز بھی کرتے ہیں۔ان ناراض اراکین کا مقف ہے کہ صوبائی بجٹ بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کے بغیر اسمبلی میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کی منظوری یا مشاورت کے بغیر بجٹ منظور کرانے کی کوشش کی گئی تو وہ حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ناراض اراکین کے مطالبات کے بعد سہیل آفریدی کی پریشانی بھی بڑھ گئی ہے، کیونکہ جون میں بجٹ منظور نہ ہوا تو قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔یہی نہیں، عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی یہ مقف اختیار کیا ہے کہ بجٹ سے قبل عمران خان سے ملاقات اور مشاورت ہونی چاہیے۔انہوں نے سہیل آفریدی کو بتا دیا ہے کہ صوبائی بجٹ کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کیا جائے۔ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت بجٹ پر کام کررہی ہے اور اسے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی بجٹ کے بعد ہی صوبائی حکومت اپنا بجٹ پیش کرے گی۔ذرائع نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی کوشش ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہو، اور وہ بجٹ کو جواز بنا کر ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بجٹ پر حکومتی ہوم ورک مکمل ہے اور اگلے اجلاس میں اسے پیش کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔پی ٹی آئی کے باخبر ذرائع کے مطابق ہزارہ، جنوبی، مالاکنڈ اور پشاور کے اراکین نے اپنا الگ گروپ بنا لیا ہے اور عمران خان کی رہائی کے حوالے سے سہیل آفریدی سے سوالات کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ناراض اراکین پارٹی اجلاسوں میں بھی شرکت نہیں کر رہے، جبکہ اپنی الگ میٹنگز کرکے باقاعدہ پریس ریلیز بھی جاری کرتے ہیں۔پی ٹی آئی کے ایک ناراض رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سہیل آفریدی عمران خان کے نام پر فیصلے کررہے ہیں اور عمران خان کے نام پر اپنے ساتھیوں کو نواز رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے کابینہ کو چھوٹا رکھنے کی ہدایت کی تھی، لیکن ان سے ملاقات کے بغیر کابینہ میں توسیع کردی گئی اور اپنے پسندیدہ اراکین کو شامل کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا، لیکن اب تک اس حوالے سے خاموشی ہے۔سہیل آفریدی اقتدار کے مزے لے رہے ہیں، پارٹی اور عمران خان کے لیے کچھ نہیں کررہے۔پی ٹی آئی کے رکن مشتاق غنی بھی ناراض ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ میڈیا ٹاک میں کہاکہ پی ٹی آئی کے اراکین عمران خان کی رہائی کے لیے مثر اقدامات چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ ناراض نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی انہیں منانے آیا ہے، بلکہ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے۔ناراض رکن نے بتایا کہ ان کا سہیل آفریدی سے کوئی مسئلہ نہیں، ان کا صرف مطالبہ عمران خان کی رہائی اور ملاقات ہے۔انہوں نے بتایا کہ علی امین کے دور میں باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوتی تھیں، لیکن سہیل آفریدی کے آنے کے بعد یہ ملاقاتیں نہیں ہو رہیں۔یہ سب سہیل آفریدی کی کمزوری ہے۔ وہ کچھ نہیں کر پا رہے۔ناراض رکن نے مزید بتایا کہ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا سے باہر ایک جلسہ تک نہیں کر سکے، حالانکہ وہ بڑے بڑے دعوے کرتے تھے۔انہوں نے واضح کیاکہ سہیل آفریدی کو بتا دیا گیا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر بجٹ میں تعاون کی امید نہ رکھیں۔کامران علی پشاور کے سینیئر صحافی ہیں اور سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت پی ٹی آئی اندرونی اختلافات کا شکار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ کابینہ میں حالیہ توسیع ہے۔وہ اراکین ناراض ہیں جنہیں کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا، جو اس اختلاف کی بڑی وجہ ہے۔ان کے مطابق علیمہ خان بھی سہیل آفریدی پر دبا ڈال رہی ہیں اور بجٹ کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کرنے کا مشورہ دے رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کے لیے علیمہ خان ایک مسئلہ بن گئی ہیں، تاہم ناراض اراکین کو فنڈز دے کر منایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ جون کے تیسرے ہفتے میں بجٹ پر بحث ہوگی اور اسے جلدی میں منظور بھی کر لیا جائے گا۔ بجٹ پاس ہو جائے گا، نہ عمران خان سے ملاقات ہوگی اور نہ بجٹ میں کوئی رکاوٹ آئیگی۔صحافی عارف حیات کا ماننا ہے کہ علی امین کے دور میں بھی بجٹ کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کیا گیا تھا، لیکن اس وقت بھی پی ٹی آئی کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔عارف حیات نے کہاکہ ناراض اراکین وقتی طور پر دبا ڈالنا چاہتے ہیں۔ نہ ملاقات ہوگی، نہ بجٹ میں رکاوٹ آئے گی۔ یہ محض سیاسی حربے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں